آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
پاکستان کا ہمسایہ ملک بھارت آج کل اندرونی مشکلات کا شکار ہے جس کی بڑی وجہ مودی سرکار کی انتہاپسند پالیسیاں ہیں۔ مودی سرکار جس نے بھارت میں صنعت اور کاروبار کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلیوں کا نعرہ لگا کر بھارت کو اقتصادی سپر پاور بنانے کا وعدہ کیا تھا جس کی وجہ سے بھارت کے بڑے بڑے بزنس گروپ مودی کی انتخابی مہم میں بھاری سرمایہ کاری کرنے پر مجبور ہوگئے۔مودی سرکارسے اُن بزنس مینوں کو جو توقعات تھیں وہ بھی اب مایوسی کا شکار ہیں کیونکہ مودی سرکار پر انتہا پسند ہندو تنظیموں کا غلبہ ہے۔ بھارت کے داخلی معاملات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں کہ اس طرف کوئی توجہ دے رہا ہے اور نہ ہی ہماری قوم اور دنیا کو یہ بتایا جارہا ہے کہ بھارت میں کس طرح اقلیتوں کا استحصال ہو رہا ہے ۔ پہلے ریاست مہاراشٹرا میں گائے کو ذبح کرنے پر پابندی عائد کردی گئی اب بھارتی وزیر یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ملک بھر میں گائے ذبح کرنے پر پابندی عائد کریں گے بھارت کی انتہا پسند تنظیمیں زور شور سے ایک مہم چلا رہی ہیں جس کا مقصد اقلیتوں کو زبردستی ہندو بنانا ہے ۔گھر لوٹ آؤ مہم کے حوالے سے بھارتی میڈیا میں خبریں آرہی ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم رہنما بھی اس مہم کو سپورٹ کر رہے ہیں اس مہم کامقصد زیادہ تر مسلمانوں اور سکھوں کو ہندو

بنانا ہے اس کے علاوہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مختلف ریاستوں کے عہدیدار اشتعال انگیز تقاریر اور اقلیتوں کو دبانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے اور برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر مسلمان ہمارے طور طریقے نہیں اپنائیں گے تو پاکستان چلے جائیں۔ پچھلے دِنوں یعقوب میمن کا جس طرح جوڈیشل قتل کیا گیا اس سے بھارتی نظامِ عدل کا چہرہ کھل کر سامنے آگیا ہے جبکہ سمجھوتہ ایکسپریس کے مرکزی کردار کو بھی ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے اور سب سے حیران کُن بات یہ ہے کہ درجنوں گواہ اپنے بیان سے منحرف ہو گئے ہیں اس صورتحال سے بھارت میں تشویش کی لہر دوڑگئی ہے بھارتی گجرات میں سکھوں سے بھی وہی سلوک کیا جا رہا ہے جیسا پہلے مسلمانوں کے ساتھ کیا گیا تھا سینکڑوں سِکھ خاندان گجرات چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کے بعد اب سِکھ بھی اپنے آپ کو بھارت میں غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں سِکھ جو دُنیا بھر میں ایک محنتی اور کاروباری قوم کے نام سے پہچانے جاتے ہیں84کے گولڈن ٹیمپل حملے کے بعد سکھوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھارت چھوڑ کر دُنیا بھر کے ممالک میں مقیم ہو گئی ہے۔ اُن کے دِل میں اُن کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے زخم آج بھی تازہ ہیں ۔گولڈن ٹیمپل واقعے کے بعد سِکھوں نے ایک خالصہ تحریک شروع کی جس کو بھارت نے طاقت کے زور پر کچلنے کی کوشش کی۔ تاہم اس بات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی مگر ہمارے سیاستدانوں کے بیانات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کہا جاتا رہا ہے کہ بھارتی حکومت کی درخواست پر اُس وقت کی پاکستانی حکومت نے کچھ سکھوں کی فہرستیں بھارتی حکومت کو دی تھیں جو خالصہ تحریک چلا رہے تھے۔ بھارت میں تو یہ تحریک وقت کے ساتھ ساتھ کمزور ہوتی چلی گئی لیکن بھارت سے باہر مقیم سکھوں نے سیاسی طور پر اس تحریک کو جاری رکھا اس حوالے سے انہوں نے مختلف ممالک میں بھارتی وزیر اعظم کے دورے کے موقع پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ بن کے رہیگا خالصتان کے نعرے بھی لگائے یہ تحریک اب دوبارہ زور پکڑتی جارہی ہے جس کی چند بنیادی وجوہات ہیں۔ بھارت نے 84کے بعد ایک حکومتی پالیسی ترتیب دی جس کا مقصد مشرقی پنجاب میں سکھوں کو اقلیت میں بدلنا تھااس مقصد کیلئے بھارت نے اپنی ریاست بہار کے لاکھوں لوگوں کی پنجاب میں آبادکاری شروع کردی روزگار کے مواقعوں کے نام پر اُن کو پنجاب میں آباد کیا گیا اور جو بہار میں رہنے والا پنجاب میں آتا اُس کو فوری طور پر راشن کارڈ بنا کر دے دیا جاتا راشن کارڈ بننے کا مطلب ووٹ کا حق ہے یہ صورتحال سکھوں کیلئے انتہائی تشویش کا باعث ہے اب وہ بہاری پنجاب کی سیاست میں بھی اپنا کردار ادا کررہے ہیں ۔ پنجاب سکھوں کیلئے مقدس جگہ ہے جہاں اُن کا انتہائی مقدس مقام گولڈن ٹیمپل واقع ہے اور سِکھ کسی صورت بھی پنجاب سے اپنا ناطہ نہیں توڑ سکتے اس خالصہ تحریک کے دوبارہ زور پکڑنے کی یہ بھی ایک اہم وجہ ہے ۔ بھارت سے باہر مقیم سِکھ اب معاشی طور پر انتہائی خوشحال ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ خالصہ تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانے کےلئے فیصلہ کُن تحریک کا آغاز کریں سِکھ کمیونٹی کینیڈا، امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک میں نہ صرف اپنی جڑیں مضبوط کر چُکی ہے بلکہ سیاسی طور پر کردار بھی اداکررہی ہے۔ایک سِکھ کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کا وزیر اعلیٰ بھی رہ چُکا ہے جبکہ کینیڈا کی وفاقی حکومت میں ایک درجن سے زائد سکھ ممبر نیشنل اسمبلی ہیں اور کینیڈا کی سیاست میں موثر کردار رکھتے ہیں سکھوں نے اس خالصہ تحریک کو ریفرنڈم T"20"کا نام دے دیا ہے سکھ کمیونٹی نے دُنیا بھر کے علاوہ بھارت کے اندر بھی ریفرنڈم T"20" کرانے کی بات شروع کر دی ہے۔ اگرچہ بھارتی میڈیا حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے اس تحریک کو دبانے میں اپنی حکومت کی بھرپور مدد کر رہا ہے اور ہمیں بھارت کے اندر ریفرنڈمT"20"کے حوالے سے ہونے والی کوئی بات،کوئی آواز،کوئی احتجاج نظر نہیں آتا لیکن سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بھارت کے اندر اور باہر کی درجنوں رپورٹیں موجود ہیں، اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر خالصہ چینل کی تحریک کو کامیاب کروانے کی بھرپور مہم شروع ہو چکی ہے۔ حال ہی میں جموں میں سکھوں کے احتجاج نے بھارتی حکومت کی صفوں میں ہلچل مچا دی ہے اور بھارتی حکومت کو یہ اطلاعات دی جارہی ہیں کہ سکھ اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمان مل کر بھارت سے آزادی کی تحریک چلائیں گے۔ بھارتی حکومت کو اُن کے خفیہ اداروں کی طرف سے اطلاعات دی جارہی ہیں کہ جیسے امریکہ نے روس اور بھارت کے درمیان پاکستان کو ایکBUFFER STATEکے طور پر بنایا تھا اِسی طرح چین اور دیگر عالمی طاقتیں پنجاب کو پاکستان اور بھارت کے درمیان BUFFER STATEبنانا چاہتے ہیں خالصہ تحریک کی کامیابی کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کی کامیابی بھی جُڑی ہوئی ہے۔ اگر سکھ خالصہ تحریک کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں تو مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو منطقی انجام تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا دیکھنا یہ ہے کہ اگلے سال بھارت میں ہونے والے T"20"کرکٹ ٹورنامنٹ کے بعد کیا خالصہ T"20"ریفرنڈم ہو پائے گا یا نہیں۔

ادارتی صفحہ سے مزید