آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
’’بیگم نصرت بھٹو عہد ِماضی ہیں یہ ہمارا دور ہے‘‘۔ یہ الفاظ پارٹی کے ایک رہنما کے ہیں جو اس نے مادرِ جمہوریت بیگم صاحبہ کی پہلی برسی کے موقع پر کوئی تقریب نہ کرنے کے ضمن میں کہے تھے۔ یہ جملہ اس انداز فکر کا عکاس ہے کہ ایسے لوگ ہی پارٹی ادراک سے عاری ہیں کہ بیگم بھٹو کی بیش بہاقربانیوں، خدمات، جمہوری جدوجہد اور بدترین آمریت میں ان کے کردار کو فراموش کر دیا گیا ہے۔ اور آج کے بعض لیڈر شہرت سے اس قدر مدہوش ہیں کہ جنرل ضیا کے عہد ستم سے نہ صرف ناواقف ہیں بلکہ اس دور کے مظالم کا دلیرانہ مقابلہ کرنے والی ایک بہادر خاتون کی قیادت کے بارے میں یہ خیالات رکھتے ہیں۔مادرِ جمہوریت کی آج پانچویں برسی ہے۔ بلاشبہ بیگم صاحبہ کو نشان پاکستان کا اعلیٰ ترین اعزاز جمہوری خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے لیکن خود پی پی پی کے آج کے لیڈر کا طرزِ عمل اس حقیقت کا مظہر ہے کہ کس طرح بیگم صاحبہ کو تاریخ کے اوراق میں دفن کرکے ان کی یاد کے نقوش بھی مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جن کے بارے میں قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی کی کوٹھڑی سے اپنے بیٹے میر مرتضیٰ بھٹو کے نام خط میں لکھا تھا: ’’ان بدترین حالات میں جن سے ہم کبھی نہیں گزرے تھے، آپ کی والدہ اور ہمشیرہ میرے لئے قوت کا ستون ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کی شاندار مجاہدانہ مدد کے بغیر

حالات میرے لئے مشکل ہی نہیں ناممکن بن جاتے۔‘‘
یہ ایک حقیقت ہے اگر بیگم نصرت بھٹو ضیا آمریت کے خلاف سینہ سپر نہ ہوتیں، جبروتشدد اور بدترین مظالم کا سامنا نہ کرتیں، ہر قسم کے تشدد برداشت کرنے کی مثال قائم نہ کرتیں، وہ بے مثال قیادت مہیا کرکے کارکنوں کا حوصلہ بڑھا کر انہیں متحرک نہ کرتیں تو جنرل ضیانے پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کے کارکنوں کے خلاف جو وحشیانہ کارروائیاں کیں اس کے خلاف ڈٹ کر جدوجہد کی انمول تاریخ رقم نہ ہوتی۔
جنرل ضیا دور میں پارٹی کارکنوں نے جو لازوال قربانیاں دیں۔ یہ بیگم نصرت بھٹو کی ولولہ انگیز قیادت کا مرہون منت ہے۔ انہوں نے پارٹی کے بانی قائد کے ساتھ کارکنوں کا رشتہ مضبوط بنایا۔ آمریت کے مظالم کو اجاگر کیا۔ کارکنوں نے پھانسی کے پھندے جرأت اور بہادری سے قبول کئے ۔ کوڑوں کی بھرمار برداشت کی، اور جئے بھٹو کے نعرے کو پاکستان کی فضائوں میں سیاسی گونج بنا دیا۔ جیل کی طویل سزائیں کاٹیں لیکن ان کے دلوں سے قائد عوام کی محبت اور عقیدت ختم نہ ہوئی۔ یہ کریڈٹ بیگم صاحبہ کو جاتا ہے کہ بدترین آمریت کے کئی سالوں کے باوجود عوام نے جمہوریت ،انسانی حقوق اور شرفِ انسانیت کا پرچم سربلند رکھا۔
بیگم نصرت بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی اس طرح رہنمائی کی کہ جرات کے پیکر میں ڈھل کر ایک بہادر بیٹی کا کردار نبھانے لگیں۔ بیگم صاحبہ کی تربیت سے جیل اور نظربندی بی بی شہید کے حوصلے کو پست نہ کر سکی۔ اور اسی حوصلے کی بدولت بی بی شہید ایک طاقتور اور مضبوط لیڈر کی حیثیت سے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا افسانوی کردار بن گئیں۔ انہوں نے اپنے عظیم والد کے مشن پر کاربند ہو کر پاکستان پیپلزپارٹی کی لہولہان تاریخ کے نئے باب رقم کئے۔ بیگم صاحبہ کے ساتھ بی بی شہید نے جیل کی اذیت اور نظربندی کا عذاب برداشت کیا۔ وہ اپنے والد کے خلاف جھوٹے مقدمہ قتل کی موثر آواز بن گئی اور پوری دنیا نے جنرل ضیاکی پُرتشدد دورِ آمریت کے خلاف نفرت کا اظہار اور مذمت کی۔
مادرِ جمہوریت نے عوام کے جمہوری، انسانی اور معاشی حقوق کے لئے جو آواز بلند کی تھی اسے دنیا کے ہر کونے میں پہنچانے میں بے نظیر بھٹو شہید نے جو کردار ادا کیا وہ بیگم صاحبہ کی اس جدوجہد کا ثمر تھا کہ آمریت کے طویل تاریک دور کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی سرخرو ہوئی۔ اور قائدعوام کی بیٹی نے وزیراعظم کے عہدہ کا حلف لیا۔ بیگم صاحبہ کی آنکھوں میں آنسو ان کے حقیقی جذبات کے ترجمان تھے کہ پاکستانی عوام نے اپنے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل اور ناانصافی کا حساب چکا دیا ہے۔
بیگم نصرت بھٹو نے اپنی جدوجہد کے دوران پارٹی کے اہم رہنمائوں کی سیاسی بے وفائی کے زخم بھی کھائے۔ اپنے عوام اور پارٹی کارکنوں پر بھرپور اعتماد تھا۔ اور اسی اعتماد کی بدولت اپنی پارٹی کے وجود کو زندہ رکھا۔ انہوں نے مشکل ترین جبر کے حالات میں قیادت کا حق ادا کرتے ہوئے جناب بھٹو کی وراثت پی پی پی کو نئی زندگی عطا کی۔ اگر اس وقت وہ میدانِ عمل میں نہ آتیں تو جنرل ضیا پی پی پی کے خلاف اپنے عزائم میں کامیاب ہو جاتا۔ اور پارٹی کو سیاسی صفحہ ہستی سے مٹانے کا اس کا خواب پورا ہوجاتا۔ بیگم نصرت بھٹو حقیقی معنوں میں غریبوں کی غمگسار اور ہمدرد تھیں۔ وہ ان کے لئے شفقت کا سایہ تھیں۔ انہوںنے عوام کے ساتھ اپنا رشتہ برقرار رکھا۔ کارکنوں اور خود میں کوئی تفریق نہیں کی۔ وہ غریبوں کی آواز تھیں۔ بیگم صاحبہ جرأت کا پیکر، مشفق اور نفیس شخصیت تھیں۔ ان کے دامن پر بدعنوانی کا کوئی داغ نہیں ہے۔ زندگی میں کئی زخم کھائے، شوہر اور بیٹوں کی جدائی کا غم سہا لیکن انہوں نے اس غم اور دکھ کو طاقت میں تبدیل کر کے ان زخموں کا مداوا کیا۔
بے شک بعض ارکان بیگم صاحبہ کی عظیم جدوجہد اور خدمات سے بے خبر ہیں۔ انہیں ماضی کا قصہ قرار دے رہے ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکن مادر جمہوریت کے مجاہدانہ کردار سے واقف ہیں۔ وہ عزم و استقلال کی پیکر بیگم نصرت بھٹو کو ایک باوقار خاتون اور جرأت مند لیڈر کے طور پر ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
آج پارٹی قیادت بیگم صاحبہ کے نواسے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہاتھ میں ہے اور بجا طور پر توقع ہے کہ وہ مادرِ جمہوریت اور پارٹی کی ماضی کی روایات کو برقرار رکھیں گے۔



.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں