• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحہ منیٰ:حادثات کو کیسے روکا جائے!

سانحہ منیٰ کی جو تفصیلات اب تک منظر عام پر آئی ہیں انکے مطابق شہید ہونے والے حجاج کرام کی تعداد آٹھ سو کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ زخمی ہونے والے اس سے زیادہ ہیں۔ شہید ہونے والوں میں سب سے زیادہ ایرانی حاجی ہیں جن کی تعداد 131 بتائی جارہی ہے۔ مراکشی کے ذرائع کے مطابق ایران کے بعد اسکے سب سے زیادہ یعنی 87 حاجی شہید ہوئے ہیں جبکہ تادم تحریر دستیاب اطلاعات کے مطابق پاکستان کے گیارہ حجاج کرام کی شہادت کی تصدیق ہوچکی ہے تاہم بہت سے حاجی اب تک لاپتہ ہیں ۔جن دوسرے ممالک کے حاجی شہید ہوئے ان میںالجزائر، بھارت، مصر، بینن آئرس، برونڈی،کیمرون، چاڈ،انڈونیشیا، کینیا،نیدر لینڈ، نائیجر، نائیجیریا،سینی گال، صومالیہ اور تنزانیہ شامل ہیں۔اس تفصیل سے واضح ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی سانحہ ہے جس سے کم ازکم ڈیڑھ درجن ممالک متاثر ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ شہید ہونے والے تمام حاجیوں کی مغفرت فرمائے ، انکے حج کو شرف قبولیت سے نوازے ،ان کے لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق دے۔یہ یقیناً ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں آنے والے ہر شخص کو یہاں سے واپس بھی جانا ہے جس کا ایک وقت مقرر ہے لیکن اس دلیل کی بنیاد پر حادثات کی روک تھام کے انتظامات کو غیرضروری قرار نہیں دیا جاسکتا۔اچھی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ لوگوں کو ہر قسم کے حادثات سے محفوظ رکھنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات عمل میں لائے جائیں۔ حج کے فقیدالمثال سالانہ اجتماع کے دوران محض چند گھنٹوں میںمکہ مکرمہ سے منیٰ، عرفات ، مزدلفہ پھر منیٰ اور مکہ مکرمہ کے درمیان دنیا بھر سے آئے ہوئے مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے اور مختلف زبانیں بولنے والے لاکھوں افراد کی نقل و حرکت نیز رمی جمار اور دیگر مناسک کی ادائیگی کا اہتمام بلاشبہ سعودی حکام کی اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس حقیقت سے بھی کوئی انصاف پسند شخص انکار نہیں کرسکتا کہ حج کے انتظامات کو مسلسل بہتر بنانے کی کوششیں بھی سعودی حکومت کی جانب سے مسلسل جاری رہتی ہیں۔اسی کا نتیجہ ہے کہ حادثات کا تناسب مسلسل کم ہوا ہے اور راستوں کو کشادہ کرنے ، آمدورفت کے راستے الگ الگ کرنے اور رمی کیلئے ستونوں کے بجائے وسیع دیواریں تعمیر کیے جانے کے سبب پچھلے نو سال سے اس عمل کے دوران بھگدڑ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ تاہم حالیہ حج کے موقع پر پہلے حرم شریف میںکرین کے گرنے اور پھر منیٰ میں بھگدڑ مچنے کے واقعات پیش آ چکے ہیںلہٰذا ان سانحات کی مکمل تحقیقات، اس کے اسباب کے تعین اور پھر ان کے تدارک کیلئے تمام ممکنہ طریقوں کا اختیار کیا جانا بہرصورت ناگزیر ہے۔ یہ بات قابل اطمینان ہے کہ سعودی حکومت نے سانحہ کے فوراً بعد تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ امید ہے کہ تحقیقاتی عمل میں ایران اور نائیجیریا کی حکومتوں اور عینی شاہدوں کے اس موقف کو بھی پوری طرح ملحوظ رکھا جائیگا جس کی رو سے سانحہ حاجیوں کی کسی غلطی کے نتیجے میں نہیں بلکہ راستے بند ہونے اور پولیس کی کارکردگی معیار کے مطابق نہ ہونے کے نتیجے میں پیش آیا۔حج کے انتظامات کے حوالے سے سعودی حکام کی بہترین صلاحیتوں کا پوری دنیا میں اعتراف کیا جاتا ہے اسکے باوجود سعودی حکومت ضرورت محسوس کرے تو مزید بہتر انتظامات کیلئے دوسرے مسلم ملکوں سے مشاورت کا اہتمام کرسکتی ہے۔حج کے موقع پر دنیا بھر سے مختلف زبانیں بولنے والے لاکھوں مسلمان مکہ مکرمہ میں جمع ہوتے ہیں لیکن پولیس اور منتظمین بالعموم عربی کے سوا کوئی زبان نہیں جانتے جس کی بناء پر اکثر حاجیوں کیلئے ان کی رہنمائی سے فائدہ اٹھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔اس صورت حال کے ازالے پر لازماً غور کیا جانا چاہئے ۔ رمی جمار کیلئے مختلف ملکوں یا حج مکاتب کے حاجیوں کیلئے الگ الگ وقت مقرر کرکے ایک ہی وقت میں بہت زیادہ لوگوں کے جمع ہونے کو روکا جاسکتا ہے۔گرمی زیادہ ہونے کی صورت میں دن کے بجائے رات میں رمی کرنے کی ہدایت کی جاسکتی ہے جس کیلئے فتویٰ آچکا ہے۔غرض یہ کہ ایسے متعدد اصلاحی اقدامات ممکن ہیں جو حادثے کے امکانات کو کم سے کم کرسکتے ہیں لہٰذا معاملے کے تمام پہلوؤں کا پوری طرح جائزہ لے کر تمام ممکنہ تدابیر کو عمل میں لایا جانا چاہئے۔












عید پر سپہ سالار کا عزم!
ملک میں دہشت گردوں کو جڑ سے ا کھاڑ پھینکنے کے لئے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میںجاری فوجی آپریشن تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جبکہ جو دہشت گرد بچ گئے ہیں ان کو تلاش کرکے ان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا کام بھی انتہائی کامیابی سے جاری ہے اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاک فوج کو نہ صرف عوام کی مکمل حمایت اور تائید حاصل ہے بلکہ خراج تحسین بھی پیش کیا جارہا ہے۔ پاک فوج نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ہر قیمت پر ملک کا دفاع کرے گی۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے عید سے ایک روز قبل کنٹرول لائن پر اگلے مورچوں کا دورہ کیا جبکہ عید بھی خیبر ایجنسی میںفوجی جوانوں کے ساتھ منائی۔ کنٹرول لائن پر جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ نے بھارت کی جانب سے اشتعال انگیز کارروائیوں کا ذکربھی کیااور کہا کہ بھارت کی اشتعال انگیز ی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستان کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے،دشمن کسی خوش فہمی میں نہ رہے ہماری مضبوط فوج دو محاذوں پر کامیابی سے لڑچکی ہے، مارد وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے جبکہ خیبر ایجنسی میں جنرل راحیل شریف فوجی جوانوں سے عید ملے اور ان کے عزم و حوصلہ کی تعریف کی۔ دوسری جانب بھارت بلا جواز کنٹرول لائن پر فائرنگ کرکے مسلسل مداخلت کررہا ہے جس میں کئی شہری شہید ہوئے ہیں۔ پاکستان میں بھارتی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے احتجاج بھی کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے فورم پر اس مسئلہ کو اٹھایا جائے گا تاکہ بھارت کا چہرہ بے نقاب ہوسکے، تاہم جنرل راحیل شریف نے دو ٹوک الفاظ میںبھارت کوخبردار کردیا ہے کہ اگر اس نے کوئی اشتعال انگیز کارروائی کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائیگا اور اندرونی طور پر ضرب عضب اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دہشت گردوں کو ختم نہیں کیا جاتا۔ ان کا یہ عزم پاکستانی قوم کی ترجمانی کرتا ہے اور پوری قوم شانہ بشانہ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

پاکستان پولیو فری کب ہوگا؟
پولیو بچوں کی ایک انتہائی مہلک بیماری ہےاور اگر بروقت بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے نہ پلائے جائیں تو قوم کی یہ معصوم کلیاں تمام عمر کیلئے معذور ہوسکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے تعاون سے اس بیماری کے تدارک کیلئے عالمگیر مہم شروع کی گئی ہے اور اس وقت افغانستان ا ور پاکستان کے سوا تمام دنیا کو پولیو فری قرار دیدیا گیا ہے۔ یہاں تک نائیجریا جیسے ملک کو بھی اس بیماری سے پاک کردیا گیا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں کے علاوہ کئی اور علاقوں میں پولیو کیخلاف مہم میں مشکلات کا سامنا ہےحتیٰ کہ پولیو ورکرز خصوصاً خواتین پر حملہ کئے گئے جس میں متعد خواتین جان بحق بھی ہوئیں ۔ حکومت کی جانب سے ان کی حفاظت پر پولیس اہلکار بھی متعین کئے گئے اسکے باوجود قبائلی علاقوں میں عوام کو اس جانب راغب نہیں کیا جاسکا۔ مائیکرو سافٹ کمپنی کے بانی بل گیٹس نے اس حوالے سے پاکستان کی مالی امداد بھی کی۔ گزشتہ روزبھی نیویارک میں بل گیٹس نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی جس میں پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بل گیٹس نے پولیو خاتمہ کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ سال 306پولیو کیسز رپورٹ ہوئے تھے جواب کم ہو کر 32 رہ گئے ہیں ۔ اس طرح اس سال پولیو کے خاتمے کا تناسب 82فیصد رہا اگرچہ یہ درست ہے کہ پاکستان پولیو کے خاتمے کے لئے ہر ممکن اقدام کررہا ہے، جب نائیجریا جیسے ملک میں اس موذی مرض کا خاتمہ ہوگیا ہے تو پاکستان کو پولیو فری کیوں نہیں بنایا جاسکا۔ ضرورت ہے کہ حکومت اس حوالے سے ایک جامع پالیسی مرتب کرے اور عوام میں شعور کی آگاہی کے لئے علماء کرام اور سول سوسائٹی کی خدمات حاصل کرےاور قبائلی علاقوں کے عوام کو اس بات پر قائل کرے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں تاکہ نئی نسل کو اس بیماری سے محفوظ کیا جاسکے۔ حکومت کو سول سوسائٹی کے تعاون سے فوری طور پر پولیو فری تحریک کا آغاز کرنا چاہئے۔
SMS: #JEC (space) message & send to 8001


تازہ ترین