آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
یکم اکتوبر کو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بلند ترین سطح 20ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے جس میں اسٹیٹ بینک کے 15.24ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے 4.83 ارب ڈالر شامل ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں یہ اضافہ 1.6ارب ڈالرکی ادائیگیوں کی وجہ سے ہوا جس میں 500 ملین ڈالر کے یورو بانڈز، 502 ملین ڈالر کے آئی ایم ایف کے قرضے کی قسط، 375ملین ڈالر کے کولیژن سپورٹ فنڈ اور 266ارب ڈالر کی دیگر ادائیگیاں شامل ہیں۔ گزشتہ سال میں نے 21اکتوبر اور 16 دسمبر 2013ء کو شائع ہونیوالے کالموں ’’زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر‘‘ میں بتایا تھا کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 9.12ارب ڈالرکی نچلی سطح پر آگئے تھے جس میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر صرف 3.95ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے 5.17 ارب ڈالر شامل تھے۔ یہ ذخائر سال کے اختتام تک مزید گھٹ کر صرف 8 ارب ڈالر تک رہ گئے تھے جس میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر صرف 3.4 ارب ڈالر تھے جو 2 سے 3 ہفتوں کے درآمدی بلوں کی ادائیگی کیلئے بھی ناکافی تھے جس کے بعد حکومت کیلئے یہ ضروری ہوگیا تھا کہ وہ عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے 2 سے 3 ارب ڈالر کے فنڈز حاصل کرے۔
آئی ایم ایف کے مطابق 2013ء میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں تقریباً 44% کمی ہوئی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے پیش نظر PSO کے تیل کے امپورٹ بلز کی

ادائیگی اسٹیٹ بینک کے کہنے پر FE25 لون کے ذریعے کی گئی تھی تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر مزید کم نہ ہوں۔ یہ انتہائی نازک صورتحال تھی جس سے روپے کی قدر میں 11% کمی ہوئی اور ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 110 کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا جس کے بعد سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں گورنر اسٹیٹ بینک نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ روپے کی گرتی ہوئی قدر کے باعث روزانہ تقریباً 25 ملین ڈالر ملک کے بڑے ایئرپورٹس کے ذریعے بیرون ملک اسمگل کئے جارہے ہیں جس کیلئے ہمیں اینٹی منی لانڈرنگ قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرانا ہوگا۔ مجھے خوشی ہے کہ ملک میں آپریشن ضرب عضب اور کراچی آپریشن کی وجہ سے کرنسی کی اسمگلنگ بہت حد تک رک گئی ہے جبکہ حوالہ، ہنڈی اور منی لانڈرنگ کی روک تھام پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے جس سے روپے کی قدر مستحکم ہوئی ہے اور اس کا سہرا یقینا وزیراعظم اور وزیر خزانہ کو جاتا ہے۔
زرمبادلہ کے موجودہ ذخائر میں اضافے پر تجزیئے کیلئے مجھے کئی ٹی وی پروگراموں میں مدعو کیا گیا جس میں، میں نے بتایا کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے حصول کے 3 ذرائع ہیں۔ پہلا ذریعہ ملکی ایکسپورٹس ہیں جس میں ہم اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں میں فروخت کرکے زرمبادلہ حاصل کرتے ہیں لیکن گزشتہ کئی سالوں سے ملکی ایکسپورٹ 25 ارب ڈالر تک محدود رہ گئی ہے۔ زرمبادلہ کے حصول کا دوسرا ذریعہ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری (FDI) ہے لیکن بدقسمتی سے گزشتہ کئی سالوں سے ملک میں امن و امان کی ناقص صورتحال کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاری میں نہایت کمی ہوئی ہے اور اس سال ہماری براہ راست بیرونی سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر سے بھی کم رہی تاہم پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں سے تقریباً 46 ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ زرمبادلہ کے حصول کا تیسرا ذریعہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر ہیں جن میں گزشتہ کئی سالوں کے دوران ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جو اللہ کے فضل و کرم اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی وجہ سے 17 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہیں۔ بالفرض اگر ان تینوں ذرائع سے حاصل کئے جانے والے زرمبادلہ کے ذخائر ہماری مطلوبہ ضروریات سے کم ہوں تو پھر حکومت کو چوتھے ذریعے یعنی بیرونی قرضے کیلئے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، اسلامک ڈویلپمنٹ بینک اور دیگر عالمی بینکوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج کل ہم بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے آئی ایم ایف سے قرضے لے رہے ہیں۔
ہمارے موجودہ زرمبادلہ کے ذخائر میں آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضوں کی قسطیں بھی شامل ہیں جس سے نجات کیلئے ہمیں اپنے اخراجات میں کمی اور ریونیو میں اضافہ کرنا ہوگا جس کیلئے ہمیں اپنے ٹیکس نیٹ کو بڑھاکر اس میں نئے ٹیکس دہندگان کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کرنا ہوگا۔ ہم اپنی معیشت کو دستاویزی شکل دے کر بجٹ خسارے پر قابو پاسکتے ہیں اور ہمیں قرضوں کیلئے آئی ایم ایف کے پاس بار بار جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ گزشتہ دنوں عید پر میں نے ایف بی آر کے سینئر ممبر پالیسی شاہد اسد صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سننے میں آرہا ہے کہ ایف بی آر غیر ملکی ترسیلات زر جو خوش قسمتی سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کے برابر پہنچ گئی ہیں، پر دی گئی مراعات ختم کرنا چاہتی ہے جس سے غیر ملکی ترسیلات زر میں کمی آئے گی اور یہ ملکی معیشت کیلئے خود کشی کے مترادف ہوگا۔ میں نے انہیں تجویز دی کہ نئے ٹیکس دہندگان کو ریٹرن فائل کرنے اور ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کیلئے ان کو گزشتہ مالی ٹرانزیکشن پر چھوٹ دی جائے تاکہ نئے ٹیکس دہندگان بے خوف اپنے ٹیکس ریٹرن داخل کرواسکیں جبکہ ایسی ریونیو پالیسیاں بنائی جائیں جو زیادہ سے زیادہ ٹیکس حاصل کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ ریونیو پیدا کرسکیں جس سے اضافی ریونیو ملنے کے علاوہ ملک میں نئی صنعتکاری اور ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ شاہد اسد نے میری تجاویز پر مکمل اتفاق کیا۔
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر بات کرتے ہوئے آیئے دنیا کے 10 بڑے ممالک کے اگست 2015ء تک زرمبادلہ کے ذخائر پر نظر ڈالتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ زرمبادلہ کے ذخائر چین کے پاس ہیں جو 3634 ارب ڈالر ہیں جس کے بعد جاپان 1244 ارب ڈالر، سعودی عرب 672 ارب ڈالر، سوئٹزرلینڈ 600 ارب ڈالر، تائیوان 426 ارب ڈالر، کوریا 375 ارب ڈالر، روس 369 ارب ڈالر، برازیل 368 ارب ڈالر، بھارت 350 ارب ڈالر اور ہانگ کانگ 340 ارب ڈالر تھے۔ دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ کے زرمبادلہ کے ذخائر 120 ارب ڈالر، یورپی یونین کے مجموعی ذخائر 743 ارب ڈالر اور چین اور ہانگ کانگ کے مجموعی 3974 ارب ڈالر ہیں۔ ان ممالک کے ذخائر کو دیکھتے ہوئے ہم ان کی مستحکم معیشت کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ پاکستان کی یہ خوش قسمتی ہے کہ بین الاقوامی مارکٹوں میں تیل کی قیمت گررہی ہیں جس سے ہمارے تیل کے امپورٹ بلز میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ خوردونی تیل اور دیگر کموڈیٹی کی قیمتوں میں بھی عالمی سطح پر کمی آئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے سالانہ امپورٹ بل اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو میں کمی متوقع ہے لہٰذا ہمیں اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کیلئے ملکی ایکسپورٹس اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کو بڑھانا ہوگا۔
یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بنگلہ دیش کے زرمبادلہ کے ذخائر 26ارب ڈالر سے بھی کم ہیں۔ یکم جنوری 2014ء سے یورپی یونین سے سب سے بڑی ڈیوٹی فری تجارتی مراعات جی ایس پی پلس ملنے کے باوجود ہم اپنی ایکسپورٹس میں اضافہ نہیں کرسکے بلکہ بدقسمتی سے ہماری ایکسپورٹس میں کمی ہوئی ہے۔ ملکی ایکسپورٹس بڑھانے کیلئے میں نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ملک کے ممتاز ایکسپورٹرز، فیڈریشن کے صدر اور ٹی ڈیپ کے CEO کے ہمراہ وزیراعظم میاں نواز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر تجارت خرم دستگیر خان کو اپنی پریذیڈنٹیشن میں کچھ اہم سفارشات پیش کیں۔ اس دو روزہ اہم میٹنگ میں وزیراعظم کی ہدایت پر ان کے ایڈیشنل سیکریٹری فواد حسن فواد بھی شریک تھے جنہوں نے ہماری سفارشات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا اور وزیراعظم نے ہم سے ملاقات میں وعدہ کیا کہ وہ ایکسپورٹ میں اضافے کیلئے دو ہفتوں میں ریلیف پیکیج کا اعلان کریں گے جس کا ایکسپورٹرز شدت سے انتظار کرر ہے ہیں۔