آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جو کہانی سپریم کورٹ کو سنائی گئی ، وہ تو شہرزاد، جس نے بادشاہ شہریار کو ایک ہزار راتوں تک سحر انگیز کہانیاں سنائیں، کے رومانوی تخیل سے بھی بالا ترتھی۔ کہا گیا کہ قطر کے حکمران خاندان ، التھانی کے ایک ہونہار شہزادے، سابق وزیر نے ، جوخود بھی عالمی اسکینڈلز کی زد میں رہے ہیں، نے کوئی خط لکھا ہے۔ اس افسانوی موڑ کو تو طلسماتی واقعات پر یقین کرنے والا الف لیلیٰ کا اوّلین سامع اور شمشیر بکف ناقد بھی ناقابل ِ یقین قرار دے کر مسترد کردیتا ۔ شریف فیملی کو اسنو وائٹ کی مانند سفید قرار دینے والے اس خط کی کہانی اگر ہمالیہ کی چوٹی پر رکھی جاتی تو تمام نہیں تو بھی ایک دو پہاڑ تو اس کے بوجھ سے چٹیل میدان بن جاتے۔ جب اس شاہکار کو فاضل جج صاحبان نے سناتو وہ بھی اپنی حیرت پر قابو نہ پاسکے۔
ہمارے کلچر میںمرحومین کے ناموں پراپنی غلطیوں کے دفاع کا مورچہ بنا لینا مناسب نہیں سمجھا جاتا، اور یہ بات مزید معیوب ہوجاتی ہے جب وہ ہمارے والدین ہوں۔ تاہم اس الف لیلیٰ کے تازہ ترین ایڈیشن میں لند ن کے چاروں فلیٹس ، جن کی بابت فاضل عدالت میں سماعت ہورہی ہے ، کو موجودہ وزیر ِاعظم کے والد صاحب، میاں محمد شریف مرحوم کی کاروباری صلاحیت اور دانائی کی طرف منسوب کردیا گیا۔ کہا گیا کہ میاں شریف صاحب نے التھانی خاندان کے ساتھ کاروباری شراکت

اختیار کی(حالانکہ اُس وقت تک انٹرنیشنل بزنس ٹائیکون کے طور پرکسی نے شریف فیملی کا نام تک نہ سنا تھا)اور اتنے کامیا ب رہے کہ پہلی ہی فرصت میں لندن فلیٹس جا خریدے۔ اس فسانے کا معنی خیز موڑ وہ ہے جب میاں شریف صاحب نے اپنی زندگی میں اپنے تینوں بیٹوں (نواز شریف، شہباز شریف اور عباس شریف مرحوم) کی بجائے اپنے ایک پوتے، حسین نواز کو ان فلیٹس کا وارث بنانے کی خواہش ظاہر کی ۔ 2005-2006 ء میں ان فلیٹس کو حسین نواز کے نام ٹرانسفر کیا گیا۔ اگر اس فکشن ، جس کی کتابی شکل ’’Booker Prize‘‘ کے لئے نامزد کی جانے کی مستحق ہے، کو من و عن تسلیم کرلیا جائے تو پھر نواز شریف پر کوئی الزام نہیں ، اور نہ ہی مریم نواز کے کسی معاملے میں ملوث ہونے کی بات ہے اور نہ ہی رقم کے منتقل کیے جانے پر کوئی تکلیف دہ سوالات بنتے ہیں۔
خادم ِ اعلیٰ کی جونیئر بیگم ، تہمینہ درّانی ، جن کی صاف گوئی کو دبانا ناممکن، نے ٹوئٹ کی کہ اگر وہ فلیٹس ابا جی کے نام پر ہوتے تو شہباز شریف کو بھی ان سے حصہ ملنا چاہیے تھا۔ یہ ایک دلچسپ پوائنٹ ہے کیونکہ میاں شریف صاحب کا 2004 ء میں انتقال ہوگیا تھا، اور اگر ہم سنائی گئی الف لیلیٰ پر یقین کرلیں تو اُ س وقت تک مذکورہ فلیٹس ابھی قطری شہزادے اوربڑے میاں صاحب کی مشترکہ ملکیت میں تھے ۔ گویا حسین نواز کے نام منتقل نہیں ہوئے تھے ۔ تاہم ان فلیٹس میں شہباز شریف کے بچوں کے نام کچھ نہیں۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ یہ فلیٹس میاں شریف صاحب کی بجائے کسی اور کی ملکیت میں تھے ؟یہ ہے وہ مرکزی نکتہ جسے عدالت میں پٹیشنز دائر کرنے والوں نے ثابت کرنا ہے کہ 2005 ء سے پہلے یہ فلیٹس کس کی ملکیت تھے ۔ میری ناقص رائے میں تمام کیس اسی ایک نکتے کے گرد گھومتا ہے ۔
اس سے قطع نظر کہ قطری فسانے سے آباد پندھار کے صنم کدے کو ادبی حلقوں میں کیا پذیرائی ملتی ہے ، شریف فیملی کی سخت جانی اور استقلال کی داد دینی بنتی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ ادبی چاشنی سے محروم عام افراد اس رویے کو دیدہ دلیری یا ڈھٹائی کا جادو قرار دیں،کیونکہ شریف فیملی کا ہرنابغہ لندن فلیٹس کی بابت مختلف وضاحتیں پیش کررہا ہے ۔ خاندان کی ہونہار صاحبزادی ایک بات کہتی ہیں، والدہ صاحبہ کچھ اور فرماتی ہیں، ٹی وی انٹرویو دیتے ہوئے بھائی جان کا بیانیہ کچھ اور ہے ۔قوم سے خطاب کے دوران وزیر ِاعظم کے دفاعی حصار کے خدوخال مکمل طور پر مختلف ہیں۔ جب ایمرسن نے کہا تھا کہ مستقل مزاجی کم ظرف ذہنوں کو لاحق بیماری کا نام ہے تو شاید وہ نہیں جانتے تھے کہ ایک دن یہ بات کسی حکمران خاندان پر صادر آئے گی۔ اگر وہ مستقبل دانی کی صلاحیت سے بہرہ مند ہوتے تو یقینا اپنے فلسفے پر نظر ِ ثانی کر لیتے۔ لیکن،جیسے کہ توجیہات کے طلسم کدے میں کوئی کسر تھی، محترم شہزادے کا جادو بھرا خط اُڑنے والے قالین کی طرح آن موجود ہوا۔
تاہم اس کی بے مثال خوبصورتی یہ ہے کہ ان شہزادوں کے چہرے پر تاسف یا شرمندگی کا شائبہ تک نہیں۔ نہایت اعتماد سے ایک بات کہتے ہیں ، لیکن جب کہانی کوئی اور موڑ مڑتی ہے تو ابھی پہلی وضاحت کا بار شانوں پر ہوتا ہے لیکن آفرین ہے اعتماد پر،طلسمی پٹاری سے ایک اور وضاحت نکال کر یقین دلایاجاتا ہے کہ یہی ابدی سچائی ہے ۔ حقائق اور قانونی پہلو ایک طرف، کارکردگی اور انداز کے کیا کہنے!
ہم نے اپنے فوجی حکمرانوں سے کیا پایا؟ قوم کو ملنے والے تحائف کی طرف نظر دوڑائیںاور دیکھیں کہ ایک طرف تو اُنھوں نے ہمیں جہاد اور مجاہدین کا تحفہ دیاجو آگے چل کر طالبان بن گئے، اور پھر اُن میں سے کچھ مزید ترقی کی منازل طے کر داعش کا روپ دھار گئے۔ آمر حکمرانوں کی دوسری پیش کش شریف برادران تھے۔ہم جانتے ہیں کہ مجاہدین اپنے تخلیق کاروں کے قابو سے باہر ہوگئے ۔ اسی طرح شریف برادران بھی اپنے اساتذہ سے سبقت لے گئے ۔
قطرکے موجودہ حکمرانوںسے تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ اُنھوں نے نواز شریف کو مشرف دور میں پاکستان سے باہر بھجوانے کی ڈیل میں کردار اد اکیا۔ اس وقت قطر پاکستان کے ساتھ بہت سے معاہدوں میں شریک ہے ۔ ان میں سے ایک اگلے پندرہ برسوں پر محیط گیس کی ڈیل ہے۔ دراصل دولت اور اقتدار کے درمیان تعلق تو ہمیشہ سے ہی تھالیکن اتنا مضبوط نہیں جتنا موجودہ دور میں دیکھنے میں آیا ہے ۔ جنرل ضیا سے پہلےشریف فیملی کا شمار پاکستان کے چوٹی کے صنعت کار وں میں نہیں ہوتا تھا۔اتفاق گروپ مشہور بائیس خاندانوں میں شامل نہ تھا، لیکن ایک مرتبہ جب ان پر ضیا کے اقتدار کا منتر پھونکا گیا تو پھر اُنھوںنے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔اب ان کی فیکٹریوں اور بزنس کاپھیلائو پاکستان سے لے کر لند ن تک ، ہر جگہ ہے ۔ اب قطری شہزادے پرجرح کرنے کی بات کی جارہی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ وہ محترم جج صاحب کے سامنے پیش ہوںگے ۔ عرب شہزادے کاروبار کرتے ہیں ، اپنی گردن نہیں پھنساتے ۔ دیکھیں یہ ڈرامہ اب کیا منظر پیش کرتا ہے ، اور الف لیلیٰ کی کون سی نئی کہانی ہماری سماعت میں رس گھولنے آرہی ہے۔


.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں