آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
موضوع سے پہلے میں ایک انسانیت سوز واقعہ پر اپنا سر شرم سے جھکاتے ہوئے عوام کی طرف سے قابل تعظیم بزرگ محترم خواجہ علقمہ سابق وائس چانسلر جامعہ زکریا، ملتان سے درخواست گزار ہوں کہ وہ ان نااہل ،ناپختہ ،عقل سے پیدل افراد کو معاف کر دیں۔ جنہوں نے ان کی عمر بزرگی، تعلیم اور سابقہ عہدے کو دیکھتے ہوئے یہ جرات کی کہ وہ کسی سابقہ الزام پر ان کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کریں۔ ان کے اگر کسی شاگرد نے ان کو اس حالت میں دیکھ لیا ہو گاتو اس کا کیاحال ہوا ہو گا ۔ میرا ان سے کوئی ذاتی تعلق نہیں۔الزام پر انسان مجرم نہیں ہوتا، استاد تو زندگی بھر استاد ہی رہتا ہے۔ اسی قسم کا واقعہ ایک نجی فضائی کمپنی کے ہوا باز کو پیش آیا جس کی کسی غلطی سے جہاز گر پڑا مگر200مسافر محفوظ رہے۔ محکمانہ تحقیقات میں وہ ملزم ثابت ہوا۔ کراچی میں پنجاب پولیس نے اس کے گھر پر چھاپہ مارا، لباس تبدیل کئے بغیر اس کو ہتھکڑیاں لگا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ ہر شخص کی اپنی عزت اور عزت نفس ہوتی ہے اس کو یوں بے عزت کرنا انصاف کے تقاضوں کے برابر نہیں۔
13نومبر کو کراچی کے ایک انگریزی موقر اخبار میں لاہور کے ایک ڈاکٹر نے اخبار میں شائع ہونے والے اس مراسلے کا ذکر کیا ہے جس میں شکایت کی گئی کہ ملک میں ایک کلو گرام دال کی قیمت200روپے ہے مگر مرغی 100روپے کلو فروخت ہو رہی

ہے اور متوسط طبقہ دال کے بجائے مرغی کی جانب رخ کر رہا ہے۔ (بھارتی) حکومت کو چاہئے کہ وہ مرغی کی پیداوار بڑھائے، ڈاکٹروں نے لکھا ہے کہ پاکستان میں بھی کم و بیش یہی صورت ہے (کراچی مین سپر مارکیٹ میں ماش 260مونگ170اور مسور 160روپے کلو فروخت ہو رہی ہے، کمشنر کی جانب سے کراچی میں زندہ مرغی 124اور مرغی کا گوشت 186روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے جنرل مشرف کے دور میں دال مہنگی اور مرغی سستی تھی تو انہوں نے بھی یہی تلقین کی تھی کہ لوگ مرغی کھائیں، راقم نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ ’’مرغی ،دال کا متبادل نہیں ہو سکتی، آدھاپائو پتلی دال میں پورا گھر کھا سکتا ہے لیکن آدھی مرغی کا گوشت اول تو ملنا مشکل اور پھر اس میں سارے گھر کا گزارہ نہیں ہو سکتا۔ جب کبھی سستی اور مہنگی غذا کا تقابل ہوتا ہے تو یہ لطیفہ/واقعہ ضرور سنایا جاتا ہے۔ کہ جب انقلاب فرانس سے قبل فرانس میںمزدوروں کا جلوس نعرے لگاتا ہوا شاہی محل کے سامنے سے گزرا تو ملکہ نے پوچھا یہ کیا چاہتے ہیں تو ان کو بتایا گیا۔ ’’روٹی‘‘ تو ملکہ نے کہا یہ ’’کیک‘‘ کیوں نہیں کھاتے۔ اب جدید ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ ملکہ نےکیک کا متبادل فرانسیسی لفظ gateauاستعمال نہیں کیا بلکہ briocheاستعمال کیا تھا، جو روٹی کی طرح خمیری آٹے سے تیا ر کیا جاتا ہے۔ اب تو مورخین اس بات ہی سے انکار کرتے ہیں کہ ملکہ نے اس قسم کا کوئی لفظ بھی استعمال کیا تھا ،یہ ساری روایت فرضی ہے۔ فرانسیسی انقلاب کی بابت چار اور فرضی قسم کے قصے مشہور ہیں ،جن کی کوئی حیثیت نہیں۔
راقم نے اپنے26اکتوبر کے کالم میں حکومت کے دو بڑے سرکاری اداروں ۔پاکستان اسٹیل ملز اور پی آئی اے کی نج کاری کے متعلق لکھا تھا جنہیں آئی ایم ایف کے معاہدے کے مطابق اوائل2016ء میں نجکاری کے سپرد کر دینا تھا ۔کسی قائمہ کمیٹی نے ملز کی اراضی کا سوال اٹھایا تھا کہ وہ ملز کی نہیں ہے۔ پی آئی اے حصہ داری کارپوریشن ہے اس کے حصے داروں کو گزشتہ 12/15سال سے نہ تو منافع ملا اور نہ رپورٹ بلکہ 10/18سال سے تو یہ اسٹاک ایکس چینج کی فہرست سے بھی غائب تھی اب پھر نظر آنےلگی ہے مگر حصے کی قیمت دس روپے سے کم کوٹ ہوتی ہے۔
گزشتہ ہفتے نج کاری کے وزیر اور کمیشن کے چیئرمین نے کمیشن سے خطاب کرتے ہوئے ایک انکشاف تو یہ کیا کہ اسٹیل ملز اور پی آئی اے کی نج کاری2016کے بجائے 2018میں ہو گی۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ معیشت کی ترقی کے لئے نج کاری ضروری ہے کیونکہ حکومت اوسطا ً 9اداروں کا 400بلین روپے سالانہ خسارہ مسلسل برداشت نہیں کر سکتی اور نہ 4فیصد شرح نمود حاصل کرنے والے جملہ ملازمین کو ملازمت دے سکتی ہے اور آئندہ 7فیصد شرح کے حصول کی خاطر نج کاری کو قبول کرنا ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ جہاں تک اسٹیل ملز کا تعلق ہے سندھ کے چیف منسٹر کو خط لکھ دیا گیا ہےکہ سندھ حکومت ملز کی ملکیت حاصل کر لے اگر چھ ماہ تک ان کا جواب نہیں آیا تو حکومت دوسرے خریدار تلاش کرے گی۔ انہوں نے یہ بات بھی زور دے کر کہی کہ نجکاری کمیشن 2018تک پی آئی اے کے ساتھ اسٹیل ملز، ایس ایم ای بینک ،ایس ایل آئی سی اور 3دوسرے مملکتی یونٹوں کی نج کاری پایہ تکمیل تک پہنچائے گا۔ کارروائی کی ابتدا میں ایف پی سی سی آئی ایس کے عبوری صدر نے یہ بھی بتایا کہ نج کاری کئے جانے والے یونٹوں نے حال میں منافع حاصل کرنا شروع کر دیا ہے (اگر یہ حقیقت ہے تو سونے کا انڈا دینے والی مرغیوں کو کیوں ذبح کیا جا رہا ہے ؟ لیکن اس امرسے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ملک کے عوام کو ملک کے بنیادی اثاثوں کی نج کاری قطعی پسند نہیں۔
آخر میں یہ بات دہرانا ضروری ہے کہ چکن کو دال کا متبادل ہونے کے لئے ایک طویل عرصہ درکار ہے بشرطیکہ دال بھی پرواز کا رخ نہ کرے۔
مولوی عبدالحق کا جانشین اور اردو کا ایک بڑا محسن جمیل الدین عالی جہان سے گزر گیا اللہ اس کی مغفرت اور اہل خاندان کو صبر عطا فرمائے (آمین)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں