• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

70 سال میں 15 فور اسٹار جنرل پاک فوج کے سربراہ بنے

لاہور(صابر شاہ) پاک فوج کے پہلے کمانڈر انچیف فرینک میسری(1974-1893) جنہیں15 اگست1947ء کو کمان دی گئی ان کے بعد 70سال میں 15فورسٹار جنرلز اس عہدے پر فائز ہونے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔15فوجی سربراہوں کا اوسط دورانیہ4سال اور سات ماہ بنتا ہے۔ اس میں طویل مارشل لاء اور فوجی سربراہوں کو دی جانے والی توسیع بھی شامل ہے۔ تاحال جنرل پرویز مشرف کی فوجی سروس کا دورانیہ سب سے زیادہ45 سال پر مشتمل ہے جبکہ ایوب خان کا سب سے کم30سال10ماہ ہے۔ پرویز مشرف نے 19 اپریل1964ء کو پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ ایوب خان نے 2فروری1928ء کو فوج میں شمولیت اختیار کی۔ دونوںفوجی سربراہوں نے یونیفارم میں ملک کا صدارتی منصب بھی سنبھالا۔ پرویز مشرف نے9سال پاک فوج کی کمان سنبھالی۔ جنرل ضیاء الحق نے یکم مارچ1976ء سے 17 اگست1988ء تک آرمی چیف کی حیثیت سے 12سال5ماہ گزارے۔جنرل گل حسن(1899-1921)سب سے کم مدت تک آرمی چیف رہے۔وہ 22جنوری1972ء سے 3مارچ 1972 ء تک اس منصب پر رہے۔15فوجی سربراہوں میں سے بعض کے سروس اور فوجی کیریئر کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ پہلے کمانڈر انچیف فرین میسری ٹرینڈیڈ ٹوباگو میں پیدا ہوئے ان کے والد بینک منیجر تھے۔ وہ15اگست1947ء سے 10فروری1948ء تک کمانڈر انچیف رہے۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے قائداعظم کے بعض احکامات نہیں مانے تھے۔ جیسا کہ مقبوضہ کشمیر میں فوج روانہ کرنے سے متعلق۔ جس کی پاداش میں قائداعظم نے انہیں برطرف کر دیا۔ دوسروے کمانڈر انچیف ڈگلس گریسی نے 11فروری 1948ءسے16جنوری1951ء تک 2سال11ماہ تک پاک فوج کی کمان سنبھالی۔ انہوں نے بھی قائد اعظم کے حکم کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں فوج بھیجنے سے صرف نظر کیا۔ پاک فوج کے تیسرے سربراہ ایوب خان(1974۔1907)پہلے پاکستانی سربراہ تھے جنہیں وزیراعظم لیاقت علی خان نے 1951ء میں اس منصب پر تعینات کیا۔ ان سے بھی قبل جنرل افتخار خان پہلے پاکستانی کمانڈرانچیف تھے مگر وہ طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ جنرل موسیٰ خان(1991-1908)نے ایوب خان کے بعد پاک فوج کی کمان سنبھالی۔ کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ ہاکی کے بہترین کھلاڑی تھے۔انہوں نے 1935میں انڈین ملٹری اکیڈمی میں کمیشن لیا۔ انہیں 1958ء سے 1966ء کے درمیان دو بار توسیع دی گئی۔ انہوں نے 7سال 11ماہ کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے گزارے۔ چکوال میں پیدا ہونے والے جنرل یحییٰ خان جنرل موسیٰ کے جانشین بنے۔ پانچویں آرمی چیف کی حیثیت سے وہ 18جون 1966ء سے 20دسمبر 1971ء تک اس عہدے پر رہے۔ جنرل یحییٰ خان کو بھی دو سینئر جرنیلوں الطاف قادر اور بختیار رانا کوسپرسیڈ کرکے آرمی چیف بنایا گیا۔ ان کی فوجی سروس 32سال 5ماہ پر محیط ہے۔حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ کے بعد صدر ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل گل حسن کو فوری طور پر ریٹائر کر دیا اور ان کا ٹرائل کیا گیا۔ ٹکا خان کو جنرل کے رینک پر ترقی دے کر ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں پہلا چیف آف دی آرمی سٹاف تعینات کیا۔ اس سے قبل فوجی سربراہ کمانڈر ان چیف کہلاتےتھے۔ 1971ء میں اردن میں ایک ٹینک رجمنٹ کی کمان کرتے ہوئے بریگیڈئیر ضیاء الحق کے خلاف جی ایچ کیو کے احکامات نہ ماننے پر کورٹ مارشل کی سفارش کی گئی۔ تاہم جنرل گل حسن نے بریگیڈئیر (بعد میں جنرل ) ضیاء الحق کے حق میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے ایسا نہ ہونے دیا۔ مارچ 1976ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ٹکا خان کو وزیر دفاع بنا دیا۔ بطور آرمی چیف انہوں نے چار سال گزارے۔ 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ٹکا خان دونوں کو گرفتار کر لیا۔ بھٹو کو 1979ء میں پھانسی دیدی گئی۔ ٹکا خان اس وقت پیپلز پارٹی کے رہنما کے طور پر ابھرے اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے۔ 28مارچ 2002ء کو ان کی وفات پر ان کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کی گئی۔ جنرل ضیاء الحق کو سات سینئر لیفٹیننٹ جنرلوں کو سپرسیڈ کرکے آرمی چیف بنایا گیا۔ اس وقت کے سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرل محمد شریف کو جنرل رینک دے کر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بنا دیا گیا۔ جنرل ضیاء نے 12مئی 1943ء میں برٹش انڈین آرمی میں کمیشن لیا اور جنگ عظیم دوم میں نازی فوج کے خلاف لڑے۔ ان کی فوجی سروس 45سال پر محیط ہے۔ 1931ء میں پیدا ہونے والے جنرل مرزا اسلم بیگ نے 17اگست 1988ء کو جنرل ضیاء کی وفات کے بعد نویں آرمی چیف کی حیثیت سے یہ منصب سنبھالا اور 16اگست 1991ء تک اس پر تعینات رہے۔ جنرل اسلم بیگ نے صدر غلام اسحٰق خان کی جانب سے ملازمت میں توسیع لینے سے انکار کر دیا تھا۔ جنرل آصف نواز جنجوعہ نے 16اگست 1991ء میں دسویں آرمی چیف کی حیثیت سے یہ اعزاز حاصل کیا اور 8جنوری 1993ء اپنی اچانک وفات تک اس منصب پر فائز رہے۔ پشاور میں پیدا ہونے والے جنرل عبدالوحید کاکڑ نے 12جنوری 1993ء میں 11ویں آرمی چیف کی حیثیت سے یہ اعزاز حاصل کیا۔ وہ 12جنوری 1996ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ انہوں نے 18اکتوبر 1959ء میں کمیشن حاصل کیا۔ ان کی ملٹری سروس 36سال تھی۔ جنرل عبدالوحید کاکڑ سردار عبدالرب نشتر کے بھتیجے تھے۔ صدر غلام اسحٰق خان اور وزیراعظم نواز شریف نے آئینی بحران پیدا ہونے کے بعد 1997ء میں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ ان کے بعد جنرل جہانگیر کرامت نے 12جنوری 1996ء کو آرمی چیف بنایا گیا اور وہ 7اکتوبر 1998ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ انہیں وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے اس عہدے پر فائز کیا۔ فور سٹار جنرل بنائے جانے کے وقت انہوں نے کسی کو سپرسیڈ نہیں کیا کیونکہ وہ خود سینئر ترین افسر تھے۔ جنرل پرویز مشرف نے تیرہویں آرمی چیف کی حیثیت سے 6اکتوبر 1998ء کو یہ منصب سنبھالا اور 28نومبر 2007ء تک اس پر فائز رہے۔ انہیں وزیراعظم نواز شریف نے دو سینئر جرنیلوں علی قلی خان اور خالد نورز خان کو سپرسیڈ کرکے آرمی چیف بنایا۔ وہ پاکستان کے دسویں صدرکی حیثیت سے جون 2001ء سے اگست 2008ء تک فائز رہے۔ ان کے جانشین جنرل اشفاق پرویز کیانی پہلے آرمی چیف تھے جنہیں کسی جمہوری حکومت نے توسیع دی تھی۔ حال ہی میں اپنی مدت پوری کرنے والے جنرل راحیل شریف 16جون 1956ء میں کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ انہیں 29نومبر 2013ء کو آرمی چیف بنایا گیا۔ جنرل راحیل نے اکتوبر 1976ء میں فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ ان کی فوجی سروس 40سال دو ماہ پر محیط ہے۔ ان کے بڑے بھائی میجر شبیر شریف نے 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں نشان حیدر حاصل کیا تھا۔ میجر عزیز بھٹی شہید نشان حیدر ان کے ماموں ہیں۔ 
تازہ ترین