آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بارہا دیکھی ہیں، ان کی رنجشیں
پر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے
دے کے خط، منہ دیکھتا ہے نامہ بر
کچھ تو پیغام زبانی اور ہے
(غالب)
کافی دن معاملہ ٹھنڈا رہنے کے بعد اب پکڑ دھکڑ کے معاملات میں کچھ گرمی آتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ شاید یہ عوامی دبائو کا نتیجہ ہے یا نیب کورٹ اسلام آباد کی کوٹیکنا کے ریفرنس میں حالیہ ججمنٹ کاری ایکشن ۔ کچھ تو ہے کہ اخباری اور الیکٹرونک میڈیا کی خبروں میں طویل بوریت کے بعد پھر سے چاشنی آگئی ہے۔ ڈاکٹر عاصم کے 90 دن کے ریمانڈ کی تکمیل پر ان کی آئی جی سندھ کو حوالگی اور پھر پیشی پر ریمانڈ کے سلسلے میں وکیل سرکار اور مدعی کے وکیل کے درمیان ہونے والی چپقلش اور پھر وکیل سرکار کی درخواست پر 14دن کے بجائے 4دن کے ریمانڈ نے الیکٹرونک میڈیا پر بھونچال پیدا کردیا۔ ہر چینل پر یہی قصے دہرائے جارہے تھے۔ پھر شرجیل میمن کی ای اسی ایل میں شمولیت ، حیرت کی بات یہ ہے کہ جب وہ ملک سے جارہے تھے تو کسی نے پوچھا بھی نہیں۔ ان کے خلاف کوئی مقدمہ رجسٹر بھی نہیں اور پھر وہ دبئی میں بیٹھ کر اپنے صوبائی فرائض منصبی ادا کررہے ہیں۔ ایسی صورت میں ای سی ایل میں ڈالنے کا مقصد یا تو آنکھ میں دھول جھونکنا ہے یا پھر ان کو ملک کے اندر آنے سے روکنا ہے، ان سے پوچھو کہ جو ملک سے نکل گیا مکمل پروٹوکول کے ساتھ ہوائی راستے

سے وہ ان حالات میں واپس کیوں آئے گا، اسے تو بلانے کے لئے کوئی دعوت نامہ بھیجا جانا چاہئے تھا نہ کہ باہر رہنے ہی کی ہدایت کردی گئی۔ عجب داستاں ہے یہ، کہاں شروع کہاں ختم۔ یہ منزلیں ہیں کون سی۔ نہ تم سمجھ سکے نہ ہم!
ڈاکٹر عاصم کے چار روزہ مختصر پولیس ریمانڈ کے بعد خبرگر م تھی کہ اسی رات ان تمام لوگوں کی گرفتاریوں کے لئے چھاپے مارے جائیں گے جن کے نام ڈاکٹر عاصم نے اپنے بیان میں لئے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم سے منسوب بیان اور اس بیان میں نامزد لوگوں کے نام بھی بار بار میڈیا پر بتائے گئے۔ وہ لوگ بھی رات بھر ڈرے رہے مگر صبح ہونے پر پتہ چلا کہ سب خدشات غلط تھے اور ایسی کوئی بات نہیں۔ رات امن اور سکون سے گزر گئی۔ چھاپے مارنے والے خود بھی سوتے ہی رہ گئے۔
سندھ حکومت نے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے 272ویں عرس پر حسب سابق چھٹی دی ۔ جمعہ کا مبارک دن بھی تھااور جمعہ کے بعد ہفتہ اور اتوار کی چھٹی نے ویک اینڈ کا مزہ دوبالا کردیا ۔ علامہ اقبال کی مرکزی حکومت کی جانب سے ختم کی جانے والی چھٹی پر بھی کافی تبصرے ہوئے۔ حکومتی موقف تو یہی بتایا گیا تھا کہ ایک چھٹی پر اربوں روپے کا قومی نقصان ہو جاتا ہے اور مزدوروں کو کام کئے بغیر پروڈکشن دیئے بنا تنخواہ مل جاتی ہے جس سےاربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ اس طرح اس ملک میں اور بھی بہت سی چھٹیاں ہیں مگر ان پر اس نقصان کا اطلاق نہیں ہوتا۔ کسی نے طنزیہ طور پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال کے یوم پیدائش پر غلطی سے چھٹی ہورہی تھی، وہ تو دراصل 1938ء میں انڈیا میں وفات پاگئے تھے اور انہوں نے تو لکھا تھا سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا لہٰذا ان کی وفات پر انڈیا میں چھٹی ہونی چاہئے اور مزید یہ کہ اب تو ان کا بیٹا بھی فوت ہوگیا ہے تو کس کو دکھانے کے لئے چھٹی کی جائے۔ بس ایسا ہی کوئی نوٹ یا ملتا جلتا نوٹ کسی افسر نے بنایا ہوگا اور علامہ اقبال چھٹیوں کی فہرست سے غائب ہوگئے۔ بہرحال اب اللہ قائداعظم کے یوم پیدائش کی چھٹی کی خیر کرے۔ اس دن یہ فائدہ ہے کہ 25؍دسمبر کو کرسمس بھی ہوتی ہے تو ٹو ان ون کا معاملہ ہے یعنی ایک ٹکٹ میں دو مزے۔ مگر اگر کسی دن کسی سیکشن افسر نے یہ نوٹ بنادیا کہ اس چھٹی پر اتنا نقصان ہوتا ہے تو کچھ معلوم نہیں کیا آرڈر آجائے ۔
کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے قبل انتخابی جوڑ توڑ کا عمل جاری ہے۔ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے گزشتہ دنوں لیاری میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور لوگوں کو یاد دلایا کہ ستار افغانی سابق میئر کراچی کا تعلق لیاری اور جماعت اسلامی سے تھا۔ ادھر متحدہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے سیکٹر دفاتر کھلتے ہی مفرور یا مطلوبہ ورکروں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ چھپے ہوئے ورکر پولیس کو نظر آتے ہی ہتھے چڑھ گئے۔ متحدہ نے احتجاجی ریلی نکالی تو مزید مقدمات کا سامنا ہوگیا اور اب مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ ایک دوسرے کے بینر پھاڑنے یا اکھاڑنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ میری رائے میں یہ وقت ان چیزوں کا نہیں ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی صبروتحمل سے کام لیں اور انتخابات کا مرحلہ گزرنے دیں ، مفرور ملزم کہیں نہیں جاتے، پھر مل جائیں گے۔ اس وقت زیادہ ضروری کام انتخابات کا امن و امان سے ہوجانا ، دوسرا یہ کہ سیاسی کارکنوں کا ایک دوسرے کے پوسٹر اور بینر پھاڑنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ ایسا کرنے سے آپ کی پارٹی کے خلاف ری ایکشن آئے گا۔ منفی پبلسٹی ہوگی اور ووٹ بینک پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔ طاقت ور پارٹی کو صبروتحمل کا مظاہرہ کرکے رول ماڈل بننا ہے۔ کمزور پارٹیوں کو اسپیس (Space) دیں تاکہ انتخابات جمہوری اور آزاد نظر آئیں ، یکطرفہ انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور ایسی نمائندگی کا مزہ بھی نہیں آتا۔ یہ گلی محلے کے الیکشن ہیں یہ مل جل کر لڑیں اور شام کو انتخابات کے نتائج آنے کے بعد دوبارہ سے ایک ہوجائیں، کوئی بغض یا دشمنی نہ رکھیں۔ اب تو ویسے بھی نیا قانون آنے کے بعد ناظموں کے پاس کوئی مالی پاور نہیں ہوگی اور تمام اختیارات ایم پی اے اور ایم این اے کے ہی ہوں گے۔ سنا ہے کہ اس قانون کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں کیونکہ یہ بدنیتی پر مبنی ہے ۔ قوی امکان ہے کہ اس قانون میں ترمیم ہوجائے گی یا سارے کا سارا ہی ختم ہو جائے گا۔ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کا دور دور تک پتہ ہی نہیں ہے جبکہ کراچی سے تعلق رکھنے والے تین سینیٹر پنجاب کے ایڈریس سے منتخب ہوئے ہیں اور کراچی کو بھول گئے۔ میاں نواز شریف صاحب کے لئے مشورہ ہے کہ نئے صوبائی عہدیداروں کو نامزد کریں جو کراچی یا سندھ ہی میں رہتے ہوں اور ان کا پنجاب کا ایڈریس نہ ہو اور نہ ہی پنجاب کی ووٹرلسٹ میں ان کا نام ہو۔ کراچی کے عہدیداروں نے پنجاب کے مختلف اضلاع سے اپنے ووٹ کا اندراج کروایا اور سینیٹ کا الیکشن لڑا اور پنجابی ایم پی اے کے ووٹوں سے سینیٹ میں منتخب ہو کر وہیں کے ہوگئے۔ تاریخ میں ایسی مثالیں کم ملتی ہیں۔
کراچی میں پہلی لاء یونیورسٹی جوکہ سندھ اسمبلی کے ایکٹ X111/2013 کے تحت قائم ہوئی۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء لیگل ایجوکیشن پر 4 سے 6دسمبر تک بین الاقوامی کانفرنس ایک مقامی ہوٹل میں منعقد کررہی ہے جس میں قانون کے شعبے سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی اور پاکستانی اسکالرز اپنے اپنے مقالے پڑھیں گے۔ متوقع طور پر چیف جسٹس آف پاکستان اس کانفرنس کا افتتاح کریں گے اور بہت سے موجودہ اور سابق جج صاحبان اس میں شرکت کریں گے ۔ یہ ایک اچھی روایت قائم ہورہی ہے اگرچہ اس کام میں محنت اور خرچہ بہت ہے۔ میرا مشورہ ہےکہ دوسری یونیورسٹیاں بھی اپنے اپنے شعبے میں اس طرح کی بین الاقوامی کانفرنسوں کا اہتمام کریں۔ خصوصی طور پر پرائیویٹ یونیورسٹیاں کیونکہ ان کے پاس فنڈز کی کمی نہیں ہوتی۔ میڈیکل کے شعبے میں قائم یونیورسٹیوں کو بھی اس عمل کی تقلید کرنی چاہئے تاکہ باہر ملکوں سے بڑے بڑے ڈاکٹر آکر اپنے مقالات پڑھیں اور اس سے ہمارے ڈاکٹروں اور عوام کو آگہی حاصل ہو۔ آخر میں حسب قیوم نظر کے اشعار قارئین کی نذر کرتا ہوں۔
تیری نگاہ سے تجھ کو خبر ہے کہ کیا ہوا
دل زندگی سے بار دگر آشنا ہوا
پوچھو تو ایک ایک ہے تنہا سلگ رہا
دیکھو تو شہر شہر ہے میلہ لگا ہوا

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں