وزیراعظم کی قائم کردہ نیشنل لیگل ریفارمز کمیٹی کے سربراہ چوہدری محمد اشرف گوجر ایڈووکیٹ نے کچھ عرصہ قبل پنچایتی نظام کے قیام پر غور وغوض کے لیے اجلاس طلب کیا تھا۔ جس کا مقصد عوام کو سستا اور فوری انصاف مہیا کرنا اور دیوانی مقدمات کا جلد تصفیہ تھا مگر تاحال اس ضمن میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ موجودہ حکومت نے اپنے دوسرے دور میں بھی پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس مجریہ1998 میں ترمیم کر کے صوبہ بھر میں پنچایتی نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ترمیم شدہ آرڈیننس کے مطابق دیہات کی سطح پر پنچایت اور بڑے شہروں میں زونل میونسپل کارپوریشنیں قائم کی جانی تھیں۔18 اپریل 1998 کو منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل اس نئے پنچایتی نظام کے متعلق عوامی اور سیاسی حلقوں میں شکوک و شبہات جنم لینے لگے۔ سیاسی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت ’’نچلی سطح پر جمہوری عمل‘‘ کو اپنی گرفت میں لینا چاہتی ہے جبکہ حکومت کا موقف تھا کہ پنچایتی نظام اپنے روایتی مزاج کے مطابق کام کرے گا اور اس سے مقامی مسائل کو مقامی سطح پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔ پنچایتی نظام کا تاریخی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ نظام اسکندر اعظم کے ساتھیوں نے ہمارے یہاں رائج کیا تھا۔ ہندوستان کی سماجی زندگی میں اس نظام کا کردار بڑا فعال رہا۔ پنچایت جدید معنوں میں ایک جیوری تھی جو گائوں کے اچھی شہرت رکھنے والے، ایماندار، معاملہ فہم اور خدا ترس ارکان پر مشتمل ہوتی تھی۔ یہ جیوری گائوں کے جھگڑوں کا باہمی رضامندی سے فیصلہ کرتی۔ اس کے علاوہ مالی لین دین، قرض، زمین و پانی کی تقسیم، شادی بیاہ اور وراثت کے معاملات بھی طے کرتی تھی۔ یہ ’’ادارہ‘‘ ہمیشہ تغیرات زمانہ سے محفوظ رہا۔ اس کی کامیابی کی بنیادی وجہ اس کا سادہ اور کم خرچ ہونا تھا۔ پنچایت کے پاس فوجداری اختیارات کم تھے البتہ دیوانی معاملات کو نمٹانے کے اختیارات زیادہ تھے۔ فریقین کو باقاعدہ اپیل کا حق حاصل تھا۔ پنچایتی نظام کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر مسٹر گاندھی نے آزادی کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ ’’بھارت کی آزادی کی ابتدا نچلی سطح سے ہو گی۔ ہر گائوں پنچایت ری پبلک ہو گا۔ اگر ہماری آزادی عوام کی آواز ہے تو پنچایت کو مکمل آئین کا حصہ بننا چاہئے۔ پنچایت کے پاس جتنے اختیارات ہوں گے اتنا ہی لوگوں کے حق میں بہتر ہو گا‘‘۔ بھارتی حکومت نے گاندھی جی کے بیان کی روشنی میں1954 تک تمام صوبوں میں پنچایتی نظام نافذ کر دیا۔ قیام پاکستان کے بعد مغربی پاکستان میں باقاعدہ پنچایت ڈائریکٹریٹ قائم کیا گیا۔ پنچایتوں کے معاملات پر نظر رکھنے لئے پنچایت افسر اور اسسٹنٹ پنچایت افسر تعینات ہوتے تھے۔ پنچایت میں کئے گئے فیصلوں کی قانونی حیثیت ہوتی تھی۔سیاسی ماہرین کے مطابق پنجاب میں ’’پریا‘‘ اب بھی موثر ہے جس طرح کے پی کے میں ’’جرگہ‘‘ اور سندھ میں ’’کچہری‘‘، ’’ایک گائوں کی حکومت‘‘ کی صورت میں کام کر رہی تھی۔ پریا کے تمام ارکان کا انتخاب چونکہ لوگوں کی مرضی سے ہوتا تھا اس لئے اس کے فیصلے نہایت موثر ہوتے تھے۔ ان ماہرین نے یاد دلایا کہ صدر جنرل ضیاءالحق کے دور میں بھی مسجد کمیٹیاں، امانت کمیٹیاں اور زکوۃ کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں مگر یہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ ان کمیٹیوں کے تمام ارکان حکومت خود نامزد کرتی تھی۔ سیاسی ماہرین نے پنچایتی نظام کے نفاذ کے ممکنہ حکومتی مقاصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس نظام کے ذریعے حکومت نہری نظام کو پرائیوٹائز کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے اور جاگیرداروں کو براہ راست اپنے کنٹرول میں لانا چاہتی ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق ن لیگ جونیجو حکومت کی طرز پر اپنے ایم پی ایز اور ایم این ایز کو فنڈز دینے کی بجائے اس نئے نظام کے ذریعے نوازنا چاہتی ہے اور یوں اپنی پولیٹیکل گرائونڈ کو مضبوط بنا کر بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو توقع کے مطابق دیکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان دانشوروں کے مطابق انگریز نے جو مخبری کا نظام برصغیر میں1922میں رائج کیا تھا وہ دوبارہ اس نئے نظام کے ساتھ یہاں بھی شروع ہو جائے گا۔ مغلیہ دور میں جس طرح اس نظام کے ذریعے لگان وصول کیا جاتا تھا اسی طرح موجودہ حکومت زرعی ٹیکس وصول کرے گی۔
.