آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کیلئے نئی زرعی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود 5.75 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملکی معیشت کے بارے میں اسٹیٹ بینک کی جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں توانائی، معاشی صورتحال میں بہتری اور اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ گزشتہ سال کے 1.7 ارب ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 3.6ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جس کی وجوہات میں ملکی ایکسپورٹس میں کمی، سی پیک کے منصوبوں کیلئے پلانٹ اور مشینری کی امپورٹ میں اضافہ، امریکہ سے کولیشن سپورٹ فنڈ (CSF)نہ ملنا، غیر ملکی ترسیلات زر میں کمی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران افراط زر (مہنگائی) کی شرح اوسطاً 3.9 فیصد رہی جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ 2017ء میں یہ 6 فیصد ہدف سے کم رہے گی۔ رپورٹ کے مطابق ملکی قرضے 20.8کھرب روپے سے تجاوز کرچکے ہیں جبکہ بینک ڈپازٹس میں اضافے سے نجی شعبے کے قرضے بڑھ رہے ہیں جو گزشتہ مالی سال میں اسی مدت میں 282 ارب روپے کے مقابلے میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 375 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں بڑے درجے کی صنعتوں (LSM) کی گروتھ میں 3.2 فیصد اضافہ ہوا ہے جو خوش آئند ہے۔ اس کے علاوہ زراعت

کے شعبے میں خریف کی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں رواں مالی سال 5 سے 6 فیصد جی ڈی پی گروتھ کی پیش گوئی کی ہے جبکہ گزشتہ سال جی ڈی پی گروتھ 4.7 فیصد رہی جو گزشتہ 8 سالوں میں بلند ترین سطح پر تھی۔
امریکہ میں بدلتے ہوئے حالات، عالمی سطح پر منی لانڈرنگ کے سخت قوانین، برطانوی پائونڈز کی قیمت میں کمی کے باعث توقع ہے کہ رواں مالی سال بیرون ملک ترسیلات زر 20 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ ملکی ایکسپورٹس بڑھانے کیلئے وزیراعظم نے ایکسپورٹرز کیلئے 180 ارب روپے کے مراعاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے جس سے مستقبل میں ملکی ایکسپورٹس میں اضافہ متوقع ہے۔ پاکستانی روپیہ مستحکم ہے لیکن اسٹیٹ بینک، انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے ریٹ میں 4 روپے سے زائد فرق کو کم کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے افواہوں کی تردید کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت 5ہزار روپے کا نوٹ بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ گزشتہ دنوں وزیر خزانہ نے کراچی میں ایک ملاقات میں بتایا کہ ملکی زرمبادلہ کے موجودہ مستحکم ذخائر کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اسٹیٹ بینک کو چین کے 500 ملین ڈالر کے جنوری 2017ء کے واجب الادا قرضے کو ادا کردیا ہے جسے حکومت گزشتہ دو سالوں سے رول اوور کراتی رہی ہے۔
کسی ملک کی معاشی ترقی کا انحصار اس کے جدید انفرااسٹرکچر اور توانائی کی بلاتعطل سپلائی سے ہوتا ہے۔ سی پیک کے ذریعے پاکستان میں جدید انفرااسٹرکچر کے منصوبے زیر تکمیل ہیں جبکہ توانائی کیلئے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ 2018ء تک پاکستان میں لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے گی۔ متبادل توانائی کے حصول کیلئے 2017ء تک سندھ میں 50ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے 2000 میگاواٹ بجلی پیدا کرسکیں گے جو نہایت حوصلہ افزاہے۔ یاد رہے کہ بھارت میں اس وقت 25000میگاواٹ بجلی اور چین میں 1,30,0000 میگاواٹ بجلی ہوا سے حاصل کی جارہی ہے۔ پاکستان کے صوبہ سندھ میں اللہ تعالیٰ نے جھمپیر اور گھارو میں بہترین ہوا کی رفتار کا کاریڈور عطا کیا ہے، پنجاب میں قائداعظم سولر پاور پارک کے شمسی توانائی کے منصوبے سے 1,000 میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی جبکہ کے پی کے اور آزاد کشمیر میں چھوٹے ڈیمز سے پن بجلی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت پائی جاتی ہے۔ ہوا اور شمسی توانائی سے پیدا کی جانے والی بجلی کی فی یونٹ لاگت دوسرے ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت سے زیادہ ہوتی ہے۔یاد رہے کہ چند سال قبل جون 2013ء تک ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے نرخ 10 سے 11 سینٹ فی یونٹ ہوتے تھے لیکن نیپرا نے حال ہی میں مستقبل کے ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کیلئے 20 فیصد کم ٹیرف کا اعلان کیا ہے جس سے بجلی کی قیمت 6 سے 7 سینٹ فی یونٹ ہوجائے گی جو ہماری بجلی کی اوسط پیداواری لاگت اور اس کے نرخوں میں کمی لائے گی۔
دنیا میں کوئلے کے مجموعی ذخائر تقریباً 929 ارب ٹن ہیں جن سے اس وقت اوسطاً 41% بجلی پیدا کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ 21% گیس، 16% پن بجلی، 13% سول نیوکلیئر انرجی، 5% تیل اور باقی 4% متبادل انرجی ذرائع سے بجلی حاصل کی جاتی ہے۔ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے سرفہرست ممالک میں جنوبی افریقہ 93%، آسٹریلیا 78%، پولینڈ 87%، چین 79%، قزاقستان 75%، بھارت 68%، اسرائیل 58%، یونان 54%، مراکش 51%، امریکہ 45% اور جرمنی 41% شامل ہیں لیکن اس کے برعکس دنیا میں کوئلے کے 175 ارب ٹن کے تیسرے بڑے ذخائر رکھنے کے باوجود پاکستان میں کوئلے سے حاصل ہونے والی بجلی کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن سی پیک کے جاری منصوبوں میں سندھ میں 1320 میگاواٹ پورٹ قاسم، 660 تھراینگرو، 1320 حب کول اور 330 تھرانرجی کول پاور کے منصوبے زیر تکمیل ہیں۔ حکومت کی نئی پالیسی کے تحت ان پاور پلانٹس کو درآمدی کوئلے کے بجائے مقامی کوئلے سے چلایا جائے گا اور اس طرح کئی دہائیوں کے بعد اب ہم جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے سطح زمین میں اپنے کالے سونے کو توانائی کی ضروریات پورا کرنے کیلئے استعمال کرسکیں گے۔
2017-18ء میںتوانائی کے Early Harvest منصوبوں کے ذریعے مجموعی 10,600 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کی جائے گی جو ہماری توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے کافی ہے۔ قطر سے ایل این جی کی امپورٹ سے ملک میں گیس کی کمی پرقابو پایا جارہا ہے اور ایل این جی کے دوسرے ٹرمینل کی تکمیل کے بعد مطلوبہ ایل این جی گیس دستیاب ہوگی۔ میری وزیراعظم اور وزیر خزانہ سے درخواست ہے کہ ملک میں صنعتکاری کے فروغ کیلئے گیس کے نئے کنکشن پر پابندی فوراً ختم کی جائے تاکہ صنعتکار اپنی صنعتوں میں پھیلائو کے ساتھ نئی صنعتیں لگاکر ملازمتوں کے مواقع پیدا کرسکیں تاکہ ملک میں بیروزگاری میں کمی لائی جاسکے۔ اسٹیٹ بینک کی جائزہ رپورٹ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ملکی معیشت صحیح سمت کی جانب گامزن ہے۔ زیادہ تر معاشی اشارے مثبت ہیں جن کا اعتراف عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ورلڈ اکنامک فورم کررہے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 50ہزار انڈیکس عبور کرنے نے پاکستان کو خطے میں سرمایہ کاروں کیلئے نہایت منافع بخش مارکیٹ کے طور پر پیش کیا ہے۔ ہمیں ملکی ایکسپورٹس میں اضافے کے ساتھ صنعتوں کے ذریعے نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس کیلئے ملک میں پالیسیوں کا تسلسل اور سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔

.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں