لاہور(ایم کے آر ایس رپورٹ) پچھلی کچھ دہائیوں میں متعارف ہونیوالے اسٹیرائیڈز نے انسانی صحت کو تباہ کر دیاہے۔ جلدی ٹھیک ہونے کی غرض سے لوگ اسٹیرائیڈز لے تو لیتے ہیں لیکن اس کے خطرناک اثرات آپ کو اور بہت سی بیماریوں میں مبتلا کردیئے ہیں جدید اسٹیم سیل تھراپی سے کینسر سمیت بہت سی بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار میر خلیل الرحمن میموریل سوسائٹی جنگ گروپ آف نیوز پیپرز اور ایڈوانسڈ بین سنٹرز کے زیراہتمام ہونے والے سیمینار میں مقررین نے کیا۔ مقررین میں چیئرمین ایڈوانسڈ پین سنٹرزڈاکٹر النعیم نوشاد، ڈاکٹر بریجیٹ ہینلے،یوگا ایکسپرٹ حمیرا خرم، رپورٹر جیو نیوز امین حفیظ اورمعروف اداکار شجاعت ہاشمی شامل تھے۔ سیمینار کی میزبانی کے فرائض چیئرمین ایم کے آر ایس واصف ناگی نے سرانجام دیئے۔ سیمینار کا موضوع’’پاکستان میں پہلی مرتبہ جدید سٹیم سیل تھراپی کی بدولت اینٹی ایجنگ آرتھرائٹس، فالج، جوڑوں اور گھٹنوں کی دردوں کا علاج...اب ممکن‘‘تھا۔ سیمینار میں سائنس دان تھامس کینسگ، سائنس دان جنیگ یون کم، ڈاکٹر وقاص اے چوہدری، ڈاکٹر اکبر زاہد، عبدالرحیم، مسٹر فین اور مسٹر کلائیو نے بھی شرکت کی۔ڈاکٹر عبدالنعیم نوشادنے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق نارووال سے ہے اور وہاں پر انہوں نے اپنی والدہ کے نام سے ایک ہسپتال بھی کھولا ہوا ہے اور وہاں روزانہ300 سے 400مریض آتے ہیں اور ان مکمل علاج کیا جاتا ہے۔ پچھلی کچھ دہائیوں سے متعارف ہونے سٹیرائیڈز نے صحت کو کافی حد تک خراب کر دیا ہے۔ جدید سٹیم سیل تھراپی کی مدد سے ہم تمام لوگوں کو خوف ناک دردوں سے نجات دلوا رہے ہیں۔ سٹیم سیل تھراپی کی بہت سے اقسام ہیں، اس جدید طریقہ علاج میں مریض کے جسم سے ہی صحت مند سیل لے کر ایک خاص پروسیس سے گزار کر واپس مریض کے جسم میں داخل کر دیئے جاتے ہیں، نئے سیل جسم میں داخل ہو کر جہاں جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔ اس جدید طریقہ علاج کی مدد سے ہم کینسر سمیت جوڑوں، گھٹنوں، آرتھرانئس، فالج، اوسینو پروسیس اور دیگر لاعلاج بیماریوں کا بھی علاج کر رہے ہیں۔2018یا2020 تک مزید نئی دوائیاں متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے1988ء میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے گریجویشن کی تھی اور تب سے لے کر اب تک کوئی بھی نیا سرکاری ہسپتال نہیں بنا۔ جناح ہسپتال کا دورہ کرتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو آ گئے جب میں نے اتنی زیادہ تعداد میں بے بس اورلاچار مریض دیکھے۔ حکومت کی ترجیحات کچھ اور ہیں ارو عوام کے مسائل کچھ اور، لوگ اپنا بہتر علاج کروانے کیلئے یورپ اور امریکہ جاتے ہیں اور دو گھنٹے پیسے خرچ کرتے ہیں، ہمارا مقصد لوگوں کا دکھ اور بوجھ بانٹنا ہے اس ملک نے ہمیں اتنا کچھ دیا ہے اس لیے ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اس ملک کے لوگوں کی خدمت کریں۔ اگرصرف پیسے کمانا ہمارا مقصد ہوتا تو ہم کبھی بھی اتنی محنت کر کے اپنی پوری ٹیم امریکہ سے نہ لے کر آتے۔سٹیم سیل تھراپی پر مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کینسر کی درد صرف ایک کینسر کا مریض ہی جانتا ہے اس لیے ہم نے اس پر اتنا کام کیا۔ کسی بھی مریض کو شوگر یا مسکولرپین کا مسئلہ ہو تو اس کے کامیاب علاج کی شرح86فیصد سے زیادہ ہے۔ آج کل لوگ صرف دھوکے بازی اورفراڈ میں مصروف ہیں۔ آپ تب تک سٹیم سیل تھراپی نہ کروائیں جب تک سیل فریش اور ایکٹو نہ ہو، فریزڈ سیل آپ کی صحت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ امریکہ میں سٹیم سیل تھراپی کے کامیاب تجربے ہوئے ہیں اور میں امریکہ میں ڈاکٹر ہینلے کے ساتھ کلینکل ریسرچ ڈائریکٹر بھی ہوں۔ پاکستان کا ہیلتھ کیئر سسٹم مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور لوگ سرکاری ہسپتال میں جانا پسند نہیں کرتے لیکن غریب لوگوں کے پاس وہاں جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیںہوتا۔ صرف یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بیماریوں کی شرح میں ہر روز اضافہ ہورہا ہے۔ لوگ ڈاکٹروں سے زیادہ عطائی حضرات پر بھروسہ کرتے ہیں ۔میری یہ التجا ہے کہ لوگ اپنا علاج ڈاکٹر سے کروائیں اس سے ان کی بیماری کا بہتر اور مکمل علاج ہوگا۔ ڈاکٹر بریجیٹ ہنیلے نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پانچ سال پہلے سٹیم سیل ٹیکنالوجی دریافت کی گئی اس میں بون میرو سٹیم سیل فیٹس سٹیم سیل اور ایمبریونک سٹیم سیل بھی شامل ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ سٹیرائزڈ جسم میں داخل ہو کر ضرورت سے زیادہ تیز کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے فائدے کی بجائے نقصان ہوجاتا ہے سٹیم سیل تھراپی کی مدد سے دل کے امراض اور دماغ کی تکالیف سے بھی نجات حاصل کی جاسکتی ہے سٹیم سیل تھراپی میں استعمال ہونیوالے سیل بالکل نئے سیل کی طرح کام کرتے ہیں اور مریض کو درد سے نجات دلواتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں اگر اپنے ہی سیل کو سٹور کیا جائے تو اس کی لاگت 20سے 50ہزار ڈالر تک آتی ہے، پیسے کمانے کے لئے امریکہ اور مڈل ایسٹ بہت اہم جگہ ہیں لیکن ہم پاکستان کے لوگوں کی مدد کے لئے آئے ہیں ہمارا مقصد لوگوں کی فلاح کیلئے کام کرنا ہے۔ واصف ناگی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 50فیصد لوگوں کی بیماری کی اصل وجہ غربت ہے جدید تحقیق کے مطابق پاکستان میں دس کروڑ افراد کی روزانہ کی تنخواہ ایک ڈالر سے بھی کم ہے جس کا مطلب ہے کہ دس کروڑ افراد غذائی قلت کا شکار ہیں جب آپ کے ملک میں کھانے کی چیزیں ہی ٹھیک نہیں ہوں گی تو لوگ بیماریوں سے کیسے لڑیں گے۔ پچھلے دنوں فوڈ تھارٹی نے بہت اچھی کارروائی کی اور میڈیا میں بھی سرگرم رہی لیکن اب کوئی کارروائی نظر نہیں آتی اور لوگ دوبارہ وہی سب گندگی چیزیں کھا رہے ہیں، حکومت تب ہوش میں آتی ہے جب پانی سر سے اونچا ہوتا ہے۔ صحت کے شعبے میں جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے ہمارے لئے عوام کی بہتری سب سے زیادہ اہم ہے اس لئے حکومت سے گزارش ہے کہ اپنی ترجیحات بدلے اور عوام کی صحت پر زیادہ توجہ دے۔ امین حفیظ بٹ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میڈیا کا اصل مقصد لوگوں کو معلومات فراہم کرنا ہے آج کل جتنا علم اور ٹیکنالوجی میڈیا سے ملتی ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں ملتی ۔ حمیرا خرم نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر لوگ ٹھیک طریقے سے سانس لینا شروع کر دیں تو ان کی کئی بیااریاں ٹھیک ہوسکتی ہیں مثبت سوچ اور مثبت کام آپ کی شخصیت میں نکھار پیدا کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ سٹیم سیل تھراپی بہت ہی جدید طریقہ علاج ہے اور لوگوں کو دردوں سے نجات دلانے کا بہترین طریقہ ہے۔ شجاعت ہاشمی نے ڈاکٹر عبدالنعیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ کسی ایک انسان کی درد کو ختم کرنا پوری انسانیت کی خدمت ہے نماز ایک عبادت ہے اور عبادت سے جنت ملتی ہے لیکن خدمت سے خدا ملتا ہے۔ سیمینار کے آخر میں مہمانوں نے مقررین سے سوالات کئے اور ڈاکٹرز نے جوابات دیتے ہوئے مفید مشورے دیئے۔