یہ کہانی بہت پرانی ہے۔ نئے حالات میں اس کہانی کے صرف چند کردار بدل گئے ہیں۔ افسوس کہ آج اس کہانی کے صرف چند نئے کرداروں پر لعن طعن کی جارہی ہے جبکہ پرانے کرداروں کا نام ہی نہیں لیا جارہا جو ایک دفعہ پھر سرگرم عمل ہیں۔ آج یہ خاکسار اس کہانی کے ان پرانے کرداروں کے چہرے سے نقاب ہٹانے کی کوشش کرے گا تاکہ نئی نسل کو پتہ چل سکے کہ اس کہانی کا اصل ولن کون ہے؟ اس کہانی کا آغاز 15/اگست 1947ء کو ہوا۔ تقسیم ہند کے فوری بعد بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے افغانستان کے راستے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مداخلت شروع کردی۔ کابل میں بھارتی سفارتخانے کی طرف سے کچھ قبائلی عمائدین کے ذریعے انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کے ہیرو فقیر ایپی کیساتھ رابطہ قائم کیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے چہرے پر داڑھی ہے اور نہ اسلام کے بارے میں کچھ جانتے ہیں لہٰذا آپ وزیرستان کو افغانستان میں ضم کردیں یا علیحدہ ریاست کے قیام کا اعلان کردیں۔ دوسری طرف 17/اپریل 1948ء کو پشاور میں قبائلی علاقوں کے عمائدین کا ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں قائد اعظم محمد علی جناح کے سامنے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ قبائل کشمیر کی آزادی کیلئے جہاد کریں گے۔ اس جرگے میں قائد اعظم سے درخواست کی گئی کہ قبائلی علاقوں کو براہ راست مرکزی حکومت کے تابع رکھا جائے۔ قائد اعظم نے یہ درخواست تسلیم کرلی۔ اس دوران بنوں میں فقیر ایپی کے نام سے یہ پمفلٹ تقسیم ہوا کہ جہاد کشمیر حرام ہے بلکہ قائد اعظم کے خلاف جہاد کیا جائے جنہوں نے پاکستان میں شریعت نافذ نہیں کی۔ 29 جون 1948ء کو پاکستانی اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ ایک 35 سالہ قبائلی اول حسین کو گرفتار کرلیا گیا ہے جو فقیر ایپی کے نام پنڈت نہرو کا ایک خطہ دہلی سے لا رہا تھا۔ گیارہ ستمبر 1948ء کو قائد اعظم وفات پا گئے۔ نہرو کا خیال تھا کہ پاکستان چھ ماہ میں ٹوٹ جائے گا لہٰذا انہوں نے قبائلی علاقوں میں شورش کو مزید ہوا دی۔ تاریخی دستاویزات بتاتی ہیں کہ 19جنوری 1950ء کو میر علی اور وانا کے علاقوں میں آزاد پشتونستان کا پرچم لہرا کو فقیر ایپی کو امیر سلطنت قرار دیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ نئی ریاست کا قانون اسلامی شریعت ہوگی۔ 26جون 1950ء کو فقیر ایپی کے دو ساتھیوں اختر جان اور سعید نے کابل میں افغان حکام سے ملاقاتیں کیں اور آزاد پشتونستان کی فوج بنانے کیلئے وسائل مانگے۔ یہ وسائل بھارت نے فراہم کئے جس کی تفصیل ڈاکٹر فضل الرحمن کی کتاب ”بطل حریت… فقیر آف ایپی“ میں تفصیل کے ساتھ درج ہے۔ کچھ ہی عرصے میں میر علی سے وانا تک بغاوت کو کچلنے کیلئے فضائی بمباری شروع کردی گئی۔ بمباری سے مسئلہ حل نہ ہوا تو مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ انہوں نے 22 مارچ کو احمد زئی وزیر، اتمان زئی وزیر، داوڑ اور محسود قبائل کے عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک اسلامی ریاست کے خلاف جہاد جائز نہیں، اگر جہاد کرنا ہے تو فلسطین اور کشمیر میں جاؤ۔ سید امین الحسینی کے دورہ وزیرستان سے فقیر ایپی کی تحریک کمزور پڑ گئی اور انہوں نے حکومت سے نفاذ شریعت کیلئے مذاکرات شروع کردیئے۔ فقیر ایپی نے سیزفائر کردیا تو بھارت نے ان کی مدد بند کردی۔ 16/اپریل 1960ء کو فقیر ایپی ابدی نیند سو گئے۔ کئی سال کے بعد بھارت ایک دفعہ پھر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں عسکریت کو ہوا دے رہا ہے۔ ایک دفعہ پھر کابل میں بھارتی سفارتخانہ اس عسکریت پسندی کو رقم اور اسلحہ فراہم کررہا ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دو طرح کے عسکریت پسند ہیں۔ ایک قسم وہ ہے جو افغانستان میں غیر ملکی افواج کے خلاف مزاحمت کو جہاد سمجھتے ہیں۔ دوسری قسم ان کی ہے جو افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستان میں کارروائیاں کررہے ہیں۔ ان عسکریت پسندوں کے لیڈر مولانا فضل اللہ ہیں جنہوں نے نہ کبھی افغانستان میں جہاد کیا اور نہ کشمیر میں جہاد کیا۔ حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ امریکہ کے خلاف زیادہ نفرت ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے منظر سے ہٹنے کے بعد ان علاقوں میں پاکستانی فوج کے خلاف مزاحمت کمزور پڑ گئی کیونکہ پاکستانی فوج نے ان علاقوں کے قبائلی عمائدین اور علماء کے ذریعے کئی مزاحمتی گروپوں کے ساتھ سیزفائر کرلیا لیکن وادی سوات میں ایسا نہ ہوسکا۔ وجہ یہ تھی کہ وادی سوات میں قبائلی نظام کمزور ہے۔ یہ علاقہ صوبہ سرحد کے شہری علاقوں سے متصل ہے اور مقامی لوگ باہر سے آنے والوں پر زیادہ نظر نہیں رکھتے کیونکہ یہاں سیاحوں کی آمد و رفت بھی رہتی تھی۔ مقامی لوگوں کے کان اس وقت کھڑے ہوئے جب باجوڑ کے راستے سے ازبک اور تاجک اسلحہ بردار بونیر میں داخل ہونے لگے۔ یہ اسلحہ بردار بظاہر تو شریعت کی بات کرتے تھے لیکن نہ نماز باقاعدگی سے ادا کرتے اور نہ ہی روزہ رکھتے تھے۔ ان میں سے اکثر کو پشتو زبان بھی نہ آتی تھی بلکہ وہ فارسی بولتے تھے۔ راولپنڈی سے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی ایک ایسے شخص کو جانتے ہیں جس کی تین بیٹیاں تھیں۔ ایک دن یہ اسلحہ بردار اس کے گھر پہنچے اور مطالبہ کیا کہ وہ اپنی تینوں بیٹیوں کا نکاح ان نام نہاد مجاہدین کے ساتھ کردے۔ اس شخص نے حکمت سے کام لیتے ہوئے کہا کہ اسے شادی کی تیاری کیلئے ایک دن دیا جائے۔ اسلحہ بردار دوبارہ شادی کیلئے آئے تو ان کی تاک میں بیٹھے ہوئے مقامی لوگوں نے انہیں گولیوں سے بھون ڈالا۔ وادی سوات میں ایسے کئی واقعات ہوئے جن میں غیر مقامی اسلحہ برداروں نے زبردستی مقامی لڑکیوں کے ساتھ شادی کی کوشش کی، مولانا فضل اللہ ان غنڈوں کے سامنے بے بس تھے یا پھر ان کی ملی بھگت سے یہ سب ہو رہا تھا۔ یہ شواہد بھی سامنے آنے لگے کہ یہ غیر مقامی اسلحہ بردار باجوڑ کے ہمسائے میں واقع افغان صوبے کنڑ سے رقم اور افرادی قوت حاصل کرتے ہیں اور مولانا فضل اللہ نے انہی عناصر کے دباؤ پر مولانا صوفی محمد اور سرحد حکومت کے درمیان امن معاہدے کو ناکام بنایا۔
دوسری طرف افغان طالبان کے رہنما ملّا محمد عمر نے خوست کے راستے سے شمالی وزیرستان کے عسکریت پسندوں کو حال ہی میں پیغام بھیجا کہ پاکستانی فوج کے خلاف لڑنا جہاد نہیں ہے اگر انہیں لڑنا ہے تو افغانستان آکر امریکی فوج سے لڑیں۔ القاعدہ کی حکمت عملی بھی یہی ہے کہ پاکستان میں لڑنے کی بجائے افغانستان پر توجہ دی جائے لیکن پاکستانی حکومت کی مشکل یہ ہے کہ ڈھائی ہزار کلومیٹر لمبی پاک افغان سرحد پر کوئی باڑ یا دیوار نہیں لہٰذا وہ قبائلی علاقوں کے عسکریت پسندوں کو افغانستان جانے سے نہیں روک سکتی اور اس مشکل کا فائدہ اٹھا کر امریکہ پاکستان پر ڈرون حملے کرتا ہے۔ اس مسئلے کا آسان ترین حل یہ ہے کہ امریکہ افغانستان سے نکل جائے، اگر امریکہ کو وہاں سے نہیں نکلنا تو پھر پاکستان کو چاہئے کہ پاک افغان سرحد کو بند کردے۔ یہ سرحد بند ہو گی تو نہ پاکستانی عسکریت پسند افغانستان جائیں گے نہ افغانستان کے راستے سے ازبک اور تاجک سوات آئیں گے۔ افغانستان کے راستے سے پاکستان میں آکر نفاذ شریعت کے نام پر قتل عام کرنے والوں کو بھارتی اسلحہ اور روپیہ دیا جارہا ہے اور اس کھیل میں کراچی کے کچھ بڑے سیٹھ بھی ملوث ہیں۔ یہ کھیل 1947ء سے جاری ہے۔ 1947ء میں نفاذ شریعت کیلئے فقیر ایپی کا نام استعمال ہوا اور 2009ء میں مولانا فضل اللہ کا نام استعمال ہوا۔ دونوں مرتبہ فساد کی جڑ بھارت ہے۔ ہمارے حکمران مولانا فضل اللہ کو تو کوستے ہیں لیکن بھارت کے بارے میں خاموش ہیں۔ کچھ دانشور بھی اچھل اچھل کر کہتے ہیں کہ طالبان اور پاکستان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے لیکن جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان میں آگ لگانے والے طالبان کو بارود اور روپیہ کون دے رہا ہے تو یہ دانشور کھسیانی بلی بن جاتے ہیں۔ پاکستان کے آئین سے انکار کرنے والے طالبان ہمارے دوست نہیں بلکہ دشمن ہیں لیکن ہمیں ایسے دانشوروں اور ریٹائرڈ جرنیلوں سے بھی ہوشیار رہنا ہے جو پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملوں کی حمایت کرتے ہیں۔ کیا امریکی ڈرون حملے ریاست کے آئین اور ریاستی عملداری کیلئے خطرہ نہیں؟ ان دانشوروں اور ریٹائرڈ جرنیلوں کے ماضی کو کریدیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے تانے بانے بھی دہلی کے ساتھ ملتے ہیں۔ میں دہلی کے ساتھ برابری کی بنیاد پر دوستی کا مخالف نہیں لیکن یہ سیکولر انتہا پسند ہمیں دہلی کا غلام بنانا چاہتے ہیں لہٰذا مولانا فضل اللہ کے ساتھ ساتھ ان سے بھی ہوشیار رہیئے۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ یہ امریکی ڈرون حملوں کے حامی ہیں، مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈالنے کی تجویزیں دیتے ہیں اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔ خود ہی فیصلہ کرلیجئے کہ مولانا فضل اللہ اور بھارتی دودھ پر پلنے والے ان آستین کے سانپوں میں کیا فرق ہے؟