• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا ڈاکٹر سعید احمد صدیقی
سورۃ الانبیاء:
الحمدللہ آج ہم سترہویں پارہ کا خلاصہ پڑھنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں، جس کی ابتدا ’’سورۃ الانبیاء‘‘ سے ہو رہی ہے۔ سورہ انبیاء ترتیبی اعتبار سے قران پاک کی اکیسویں سورت ہے، جب کہ نزولی اعتبار سے اس کا نمبر73واں ہے، یہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اس لئے مکی سورت کہلاتی ہے، اس میں بہت سے انبیائے کرام (17) کا تذکرہ ہے، اس مناسبت سے یہ ’’سورہ انبیاء‘‘ کہلاتی ہے۔
احتساب کا دن:
اس سورت کی ابتدا میں بتایا گیا کہ انسان کے احتساب اعمال کا وقت قریب آ پہنچا ہے، مگر وہ غفلت میں پڑا ہوا ہے، اور اللہ کے جو احکام اس کے پاس آئے ہیں، وہ اسے بے پروا ہو کر سنتا ہے اور وہ کھیل و تفریح میں منہمک ہے۔
منکرین کی تردید:
منکرین کی تردید ہے، جو آپؐ کے بارے میں نازیبا کلمات کہتے تھے کہ ساحر ہیں، اور گزشتہ رسولوں کا تذکرہ ہے کہ وہ بھی اللہ کے پیغام کے داعی تھے، ان کی قوم نے بھی ان کے ساتھ یہی معاملہ کیا۔
گزشتہ اقوام:
گزشتہ قوموں کا ذکر ہے جنہوں نے اپنے وقت کے نبی کا کہنا نہ مانا اور ہلاک ہوئیں جس طرح ان قوموں نے اپنی شامت اور وبال کو دعوت دی، قرآن کے منکر بھی یہی کر رہے ہیں۔
قیامت سے غفلت:
انسان اپنی پیدائش کے مقصد کو فراموش کر کے قیامت سے غافل ہے اور قرآن اور صاحب قرآنؐ کا مذاق اڑاتا ہے۔
رسول اللہؐ کو تسلی:
اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبؐ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا، آپؐ سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا، بالاخر ان قوموں نے اپنے کئے کا مزا چکھا اور وہ عذاب سے دوچار ہوئیں۔
مشرکین اور معبود:
جو لوگ شرک کرتے ہیں، ان کواللہ کے عذاب سے وہ چیزیں نہیں بچا سکتیں، جن کو انہوں نے اپنا معبود بنا رکھا ہے۔
تکوینی دلائل:
قرآن کریم نے مشرکین کے باطل نظریات کا ذکر کر کے چھ تکوینی دلائل دیئے، جن کا تعلق مشاہدے اور تحقیق سے ہے (1) زمین و آسمان ملے ہوئے تھے، ہم نے ان کو جدا جدا کیا (2) ہر جاندار چیز کو پانی سے بنایا ہے (3) زمین پر پہاڑ بنائے جس سے وہ ساکن ہے (4) زمین میں کشادہ راستے بنائے تاکہ سفر کرنے میں دشواری نہ ہو (5) آسمان کو محفوظ چھت بنایا (6) رات اور دن کو اللہ نے بنایا، سورج، چاند اور ستارے اللہ نے بنائے جو آسمان میں تیر رہے ہیں۔
سترہ انبیائے کرام:
یہاں سترہ انبیائے کرام کا ذکر ملتا ہے جن میں حضرت موسیٰؑ، ہارونؑ، ابراہیمؑ، لوطؑ، اسحٰقؑ، یعقوبؑ، نوحؑ، دائودؑ، سلیمانؑ، ایوبؑ، اسماعیلؑ، ادریسؑ، ذوالکفلؑ، یونسؑ، زکریاؑ، یحییٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ شامل ہیں۔
انبیاء کی دعوت:
تمام انبیاء حق کے داعی تھے، اور یہی پیغام دیا کہ جو نیک کام کرے گا، اور مومن ہو گا تو اس کی کوشش اور اعمال ضائع نہ ہوں گے۔
کفار کو غلط فہمی:
کفار کو غلط فہمی تھی کہ وہ اسلام کا خاتمہ کر دیں گے، جب کہ یہ ان کا فریب نفس ہے، اسلام پھیلے گا۔
بت شکن پیغمبر:
انسانی تاریخ کے پہلے بت شکن حضرت ابراہیمؑ کا خاص طور سے ذکر ہے کہ کس طرح بتوں کو توڑا اور جواب طلب کرنے پر توحید کے اثبات اور بتوں کی بے بسی پر پرمغز اور پراثر تقریر فرمائی، لیکن ظالموں نے آپؑ کو انتہائی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالا جس کو اللہ نے ٹھنڈک اور سلامتی کا گہوارہ بنا دیا۔
بی بی مریم:
حضرت بی بی مریم کے مصائب و مشکلات اور ان کے صبر و برداشت اور پھر ان کی کامیابی کا تذکرہ بڑے موثر انداز میں بیان ہوا۔
یاجوج و ماجوج:
کا ذکر ہے کہ قیامت کے قریب اتنی بڑی تعداد میں آئیں گے کہ ہر بلندی سے اترتے محسوس ہوں گے۔
کفار کا حال:
قیامت کے دن کفار کے حال کا ذکر ہے جب ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، انہیں غفلت کا احساس ہو گا اور وہ جہنم کا ایندھن اور سخت عذاب سے دوچار ہوں گے۔
رحمۃ اللعالمینﷺ:
آپﷺ کا ذکر خاص وصف کے ساتھ فرمایا کہ ہم نے آپؐ کو سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
آپؐ کی دعا:
آپؐ کی اپنے اور کافروں کے درمیان فیصلہ کرنے کی دعا کا ذکر ہے، جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔
سورۃ الحج:
ترتیبی اعتبار سے قرآن پاک کی بائیسویں سورت ہے جب کہ نزولی اعتبار سے اس کا نمبر103 ہے، یہ مدنی سورت ہے، اس سورت میں حضرت ابراہیمؑ کی زبان سے لوگوں پر حج کی فرضیت کا اعلان کروایا گیا، اس مناسبت سے یہ ’’سورہ حج‘‘ کہلاتی ہے۔
قیامت کا منظر:
سورت کی ابتدا قیامت کی منظرکشی سے ہو رہی ہے کہ جب وہ واقع ہو گی ’’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، قیامت کا زلزلہ بڑا واقعہ ہے، تم اس دن دیکھو گے کہ دودھ پلانے والی ہر عورت اپنے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی کا حمل گر جائے گا اور لوگ تم کو نشے کی حالت میں نظر آئیں گے حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے مگر اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے، اس میں شک نہیں کرنا چاہئے، یہ آ کر رہے گی۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی عبادت:
انسان کی ذہنیت بتائی گئی کہ وہ اللہ کی عبادت کرتا ہے، لیکن ذرا سی تکلیف اور مصیبت سے گھبرا اٹھتا ہے، اور اپنی عبادت چھوڑ دیتا ہے، ایسا کرنا اس کے لئے نہایت برا ہے۔
خانہ کعبہ کی حرمت:
خانہ کعبہ کی حرمت کا بیان ہے کہ یہ گھر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے تعمیر ہوا، اس میں لوگوں کو عبادت سے روکنا اور اس کی بے حرمتی کرنا اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانا ہے۔
تعمیر کعبہ کا بیان:
کعبہ کی تعمیر حضرت ابراہیمؑ نے کی تھی تاکہ یہاں طواف کرنے والے، اعتکاف کرنے والے، رکوع، سجود کرنے والے اللہ کی عبادت کریں۔
حج اور قربانی:
حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم سے حج کے لئے لوگوں کو دعوت دی، جو اللہ کے حکم سے پورے عالم میں پھیل گئی اور سنی گئی، ساتھ ہی قربانی کے احکام بتائے گئے ہیں۔
قربانی کا فلسفہ:
قربانی کا فلسفہ بتایا کہ اللہ کو خون اور گوشت نہیں پہنچتا مگر تمہاری دلی کیفیت اور پرہیزگاری پہنچتی ہے۔
ظالموں کے خلاف جنگ:
جہاد کا فلسفہ بیان کیا گیا اور مظلوم مسلمانوں کو ظالموں کے خلاف جنگ کی اجازت دی اور جو انصاف قائم کرنے کے لئے اٹھیں گے، ان کی مدد و نصرت کا وعدہ فرمایا۔
آپؐ کی رسالت تمام عالم کیلئے:
زبان رسالت سے اعلان کرایا گیا کہ آپؐ کی رسالت ساری دنیا کے لئے اور ہمیشہ کے لئے ہے، جو لوگ اس کی تصدیق کر کے نیک عمل کی زندگی اختیار کریں گے، ان کے لئے بشارت ہے۔
شیطان کی چالبازیاں:
شیطان کی چالبازیوں کا ذکر کیا گیا کہ اس نے ہر زمانے میں دین کی دعوت کو ناکام بنانے کی کوشش کی، اور جو لوگ اس کے آلہ کار ہوئے، وہ ناکام ہوئے اور وہ قیامت کے دن سزا بھگتیں گے۔
ہجرت و جہاد:
ہجرت اور جہاد کی فضیلت بیان کی گئی، اس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اللہ کے راستے میں جہاد اور ہجرت کرنے والوں کو اللہ نے اپنی رضا، رضوان اور رزق حسنہ کی بشارت دی اور کامیابی کی۔
مشرکین کو حکمت سے دعوت:
مشرکین کو سمجھایا گیا کہ جن کو تم نے اپنا معبود بنایا ہے وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے، نہ اسے اپنے اوپر سے اڑا سکتے ہیں، مکھی آن سے کچھ چھین کر لے جائے تو اسے واپس نہیں لے سکتے، اس لئے عقل سے کام لو، شرک نہ کرو۔
نماز، زکوٰۃ اور جہاد:
اہل ایمان کو نماز، جہاد فی سبیل اللہ، زکوٰۃ اور بھلائی کے کاموں کی تاکید کی گئی ہے۔
ملت ابراہیمؑ :
ہم سب کی اصل ملت ابراہیمؑ ہے اور اللہ نے ہمارا نام ’’مسلمان‘‘ رکھا ہے اور پھر ہمیں یاد دلایا گیا کہ حق کی شہادت کے لئے تمہارا انتخاب ہوا، یہی تمہارے لئے وجہ شرافت ہے اس لئے نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو کہ اللہ تمہارا مولیٰ اور مددگار ہے۔

تازہ ترین