لندن (سعید نیازی) پاکستان سے برطانیہ کے لیے ویزا کی درخواستوں کو بڑی تعداد میں مسترد کیا جارہا ہے جس کی کئی وجوہات ہیں، ویزا کی درخواست دینے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ چند باتوں کا خیال رکھے۔ اس بات کا اظہار ایڈیسن اینڈ خان سولیسٹرز کے ایم ڈی بیرسٹر گل نواز نے جنگ لندن کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی تاریخ میں کبھی پہلے اتنے ویزے اور درخواستیں مسترد نہیں ہوئیں جتنی کہ ان دنوں کی جارہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے ویزا سے متعلق پالیسی بہت سخت کردی ہے۔ جو افراد گزشتہ دس برس سے آرہے تھے ان کی ویزا درخواستیں بھی مسترد ہوجاتی ہیں۔ اب درخواست گزار کے لیے ضروری ہے کہ نئے قوانین کے حساب سے اپنی درخواست کو تیار کرے۔ جب کوئی شخص وزٹ ویزا کی درخواست دیتا ہے تو اس کا خاندانی پس منظر، پراپرٹی، نوکری وغیرہ چیک کی جاتی ہے۔ ویزا افسران یہ دیکھتے ہیں کہ یہ شخص واپس بھی جائے گا کہ نہیں۔ جب کوئی شخص ویزا درخواست دیتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ اس کے اکائونٹ میں5لاکھ روپیہ آرہا ہے۔ رقم کسی عزیز، رشتہ دار سے لیتا ہے، جبکہ اس کی تنخواہ51ہزار یا ایک لاکھ روپیہ ماہانہ ہوتی ہے جس سے ویزا دینے والے مطمئن نہیں ہوتے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر کسی کی درخواست مسترد ہوتی ہے اور وہ نئی درخواست میں اس کا ذکر نہ کرے۔ سسٹم میں تمام پرانا ریکارڈ موجود ہوتا ہے اور اگر ویزا دینے والے کو پرانا ریکارڈ نظر آجائے اور اس کی نئی درخواست میں ذکر نہ ہو تو وہ دس برس کے لیے اس شخص کو ڈس کوالیفائی کردیتے ہیں، جس کے سبب وہ10برس تک ویزا درخواست نہیں دے سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ درخواست دینے سے قبل کسی اچھے وکیل سے مشورہ ضرور کریں۔ اس سے ویزا ملنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ بیرسٹر گل نواز نے کہا کہ ان دنوں ہر قسم کی درخواست سے متعلق رہنمائی ہوم آفس کو ویب سائٹ پر موجود ہوتی ہے۔ درخواست گزار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کا اچھی طرح سے جائزہ لے۔ اس کے بعد جب وہ کسی ماہر قانون کے پاس جائے گا تو اسے کم از کم یہ اندازہ تو ہوگا کہ مجھے جو مشورہ دیا جارہا ہے وہ درست ہے کہ نہیں۔ ویسے بھی ماہر قانون دان یا ماہر معالج کے انتخاب پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کنزرویٹو پارٹی کے تو منشور میں یہ بات شامل تھی کہ امیگریشن کو کم کریں گے۔ جس کے سبب طلبہ کو ویزے بھی نہیں مل رہے۔ کالج میں داخلے کے خواہشمند طلبہ کو تو کم البتہ یونیورسٹی کے طلبہ کو پھربھی ویزا مل جاتا ہے۔ پہلے طلبہ ویزا میں توسیع کرایا کرتے تھے اور دس سال کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے ویزے کے لیے رجوع کرلیتے تھے۔ لیکن اب نئے قوانین کے تحت حکومت نے کیپ لگا دیا ہے۔ اب چھ یا سات سال کے بعد ویزا میں توسیع نہیں کی جاتی جس کے سبب طویل مدت قیام کے بعد غیر معینہ مدت کا ویزا ملنا تقریباً ناممکن کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ آنے سے پہلے درست کیٹگری کا انتخاب کریں اور اس فیلڈ میں آگے بڑھیں تو بات بنے گی بصورت دیگر انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بیرسٹر گل نواز نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ ابتدا ہی سے برطانیہ کے یورپ سے علیحدگی کے خلاف تھے۔ برطانیہ میں250فارن بینک کام کررہے ہیں ان بینکوں میں بڑی تعداد میں مقامی افراد کام کرتے ہیں۔ یہ بینک سنگل مارکیٹ کی وجہ سے یہاں موجود تھے اور15لاکھ افراد کا روزگار ان بینکوں سے براہ راست یا بالواسطہ وابستہ ہے۔ بریگزٹ کے بعد اگر ان بینکوں نے یہاں اپنا بزنس ختم کیا تو بڑی تعداد میں جابس ختم ہوں گی۔ سنگل مارکیٹ کے سبب یورپ سے سبزی، پھل اور گاڑیاں وغیرہ بآسانی برطانیہ آرہی تھیں۔ لیکن جب برطانیہ، یورپ سے علیحدہ ہوا تو ان اشیا پر اضافی ٹیکس لگے گا جس کے سبب اشیا مہنگی ہوجائیں گی۔ ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں بریگزٹ کا فائدہ ہو، لیکن فوری طور پر نقصان زیادہ اور فائدہ کم نظر آرہا ہے۔ بیرسٹر گل نواز نے بتایا کہ ایڈیسن اینڈ خان سولیسٹرز کو بہترین کارکردگی کے متعدد ایوارڈز مل چکے ہیں، جن میں مقامی ایوارڈ کے علاوہ انٹر نیشنل ایوارڈز شامل ہیں۔ گزشتہ برس ہی گلوبل گڈ گورنس انٹر نیشنل2016ء استنبول میں متعلقہ تقریب میں دیا گیا۔ اس کے علاوہ دبئی میں منعقد تقریب میں لیگل ایکسی لینس کا ایوارڈ دوسری مرتبہ ملا۔ اس تقریب میں8ممالک کے سفیروں کے ساتھ شاہی خاندان کے افراد کے علاوہ دنیا کے بڑے بینکوں کے سربراہ بھی موجود تھے۔