آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 20؍رمضان المبارک 1440ھ26؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی( اسٹاف رپورٹر  )  بلدیہ عالیہ ملیرکی کونسل  کا بجٹ اجلاس چیئرمین و کنوینر جان محمد بلوچ کی زیر صدارت کونسل ہال مرکزی دفتر میں منعقد ہوا،  اجلاس میں بلدیہ عالیہ ملیرکا آئندہ مالی سال 2017-18ء کا 2ارب82کروڑ90لاکھ89ہزار 80روپے تخمینے کا بجٹ پیش کیا گیا جو کہ طویل بحث و مباحثے اور غور و خوص کے بعد اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا،بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ2ارب83 کروڑ78لاکھ روپے لگایا گیا ہے،اگلے مالی سال کے دوران بلدیہ عالیہ ملیر کے مختلف علاقوں میں واقع شاہراہوں کو 15کروڑ کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا، پانی جیسی بنیادی سہولت کی فراہمی کی مد میں 10کروڑ ، نکاسی آب کی بہتری کیلئے 11کروڑ 15 لاکھ ،تعلیم کی بہتری کیلئے 4کروڑ،عوام کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے 1کروڑ22لاکھ، پارکوں اور کھیل کے میدانوں کی بہتری کیلئے 8کروڑ30لاکھ ،ڈسپنسریزمیٹرنٹی ہوم کی عمارات کی تعمیر و ترقی کیلئے2کروڑ50لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں ،بجٹ دستاویز میں12 لاکھ89 ہزار80روپے بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے، تعلیم کیلئے ایک فنڈ قائم کرنے کی قرارداد منظور کرتے ہوئے2017؁ ء کو تعلیم کا سال قرار دیا ہے اور اس کیلئے تمام یونین کمیٹیوں میں ایک ایک ماڈل اسکول بنانے اور مراکز صحت کی بہتری اور عوام کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے بھی

انقلابی بنیادوں پر منصوبوں کی تشکیل وتکمیل کویقینی بنایا، بجٹ اجلاس میں وائس چیئرمین بلدیہ ملیر عبدالخالق مروت ، میونسپل کمشنر عمران اسلم ، اراکین کونسل اور افسران شریک تھے،بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بلدیہ ملیر نے  کہا کہ ماضی میں ملیر کو ترقیاتی و تعمیرات کے حوالے سے نظر انداز کیا گیا، جب ہم نے بلدیہ ملیر کا انتظام سنبھالا تو ہمارے پاس وسائل کم اور مسائل زیادہ تھے، ملیر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا تھا، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں، ہم نے ماضی میں الجھنے کے بجائے ملیر کی تعمیر و ترقی کونئے عزم کے ساتھ شروع کیا اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مفاہمتی پالیسی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے مختلف جماعتوں کے اراکین کو ساتھ لیکر چل رہے ہیں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں