آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاناما پیپرز سابق وزیر ِاعظم نواز شریف کے لئے فقید المثال چیلنج بن کر آئے۔ اُن پر اور اُن کی پارٹی اور خاندان پر الزام لگا کہ وہ بدعنوانی، اقرباپروری اور ذاتی پسند نا پسند کی روش اپناتے ہوئے میرٹ کو نظر انداز کرکے نااہل وفاداروں کو ترجیح دے رہے ہیں۔اس معاملے کو سپریم کورٹ کے سامنے لے جایا گیا جہاںہونے والی غیر معمولی قانونی جنگ وزیر ِاعظم کی نااہلی پر منتج ہوئی۔سابق وزیر ِاعظم اور ان کے خاندان کو ابھی اثاثے چھپانے کی پاداش میں مقدمات کا سامنا کرنا ہے۔ مقدمات کی ضرورت اس لئے پیش آئی کیونکہ سابق وزیر ِاعظم اور اُن کی فیملی کچھ آسان سوالات کا جواب نہ دے پائے۔ فاضل عدالت نے نیب کو جے آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی ہے حالانکہ قانون کا تجویز کردہ راستہ کچھ اور ہے۔
سپریم کورٹ کی طرف سے کوئی بھی فیصلہ آتا، اُس کے سیاسی مضمرات کے پیش نظر اس پر بحث و تمحیص کا راستہ کھلنا لازمی امر تھا۔ فیصلے کے کچھ پہلو نہ صر ف غیر معمولی ہیں، بلکہ اُن سے آئینی اور قانونی راہ سے ہٹنے کا تاثر بھی ابھرتا ہے۔ اس کیس کے لئے اپنی طرز کی ایک انوکھی جے آئی ٹی قائم کی گئی اور پھرمزید کسی تحقیقات کے بغیر،محض اس کی رپورٹ کی بنیاد پر وزیر ِاعظم کو نااہل قرار دے دیا گیا،نیزاُن کے خلاف ریفرنس دائر

کرنے کا حکم بھی دے دیا گیا۔ عملدآمد بنچ کی تشکیل اور پھر اس کا پانچ رکنی بنچ میں دوبارہ ادغام بھی بہت سے سوالات اٹھاتا ہے، جن کا تاحال کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔
بلاشبہ سپریم کورٹ وسیع اختیارات رکھتی ہے، لیکن آئین کے آرٹیکل 175(2) کے مطابق عدالت کی عملداری آئین یا قانون کی عطاکردہ ہے۔ حتیٰ کہ آرٹیکل 187 کے تحت بھی اس کے اختیارات اُن حدود کے اندر ہیں جن کا تعین175(2) میں کردیا گیا ہے۔ کسی تنازع کا فیصلہ کرنے کی غرض سے حقائق معلوم کرنے کے لئے سپریم کورٹ کوئی بھی فورم تشکیل دے سکتی ہے، اس کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں۔ لیکن ایسا کوئی بھی حکم نامہ آئین اور قانون کے مطابق ہونالازمی ہے۔ لیکن جے آئی ٹی کی تشکیل اور اس کی رپورٹ کسی قانونی تشریح سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایک اپنی مثال آپ فورم کہاجاسکتا ہے۔
فاضل عدالت نے نیب کو ہدایت کی ہے کہ’’ جے آئی ٹی کے حاصل کردہ مواد اور رپورٹ میں شامل مواد اور اُس مواد جو ایف آئی اے اور نیب کے پاس موجود ہے ‘‘ کی بنیاد پر شریفوں کے خلاف ریفرنسز دائر کیے جائیں۔ بصداحترام کہنا پڑتا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ حکم آئین کے آرٹیکل 175(2) کی بیان کردہ حدود سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مزید برآں، اس طریقے سے ریفرنس دائر کرنا نیب آرڈیننس کے سیکشن 18(d) کی خلاف ورزی ہے۔ مذکورہ سیکشن بہت وضاحت سے کہتا ہے۔۔۔’’ جرم کی تحقیقات کی ذمہ داری نیب کی ہے جس میں کسی اور ایجنسی اور اتھارٹی کا عمل دخل نہیں ہوگا تاوقتیکہ چیئرمین نیب بذات ِ خود اس کی ضرورت محسوس کریں۔ ‘‘نیب آرڈیننس کے سیکشن 18(d) کے مطابق معمول کی تحقیقات کے بغیر ریفرنس دائر کرنے سے قانونی پیچیدگیاں پید ا ہوسکتی ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے درجنوں فیصلے یہ کہتے ہیں کہ جب قانون کسی کام کوکسی مخصوص انداز میں کرنے کا حکم دے تو اسے اسی طریقے سے سرانجام دینا لازمی ہے، ورنہ اس کی انجام دہی تسلیم نہیں کی جائے گی۔
طے شدہ قانونی تشریح یہی ہے کہ جب کسی قانونی طریق ِ کار میں اٹھایا گیا پہلا قدم ہی غیر قانونی ہو تو اس کی بنیا د پر کھڑا کیا گیا تمام ڈھانچہ زمین بوس ہوجائے گا۔ گویا اسے قانون کی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔ مذکورہ فیصلے سے طے شدہ اصولوں سے انحراف کا تاثر ملتا ہے۔ 2011 ء میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ روٹ میں اربوں روپے کے فراڈ اور ٹیکس چوری کے اسکینڈل نے سراٹھایا۔ سوموٹو نوٹس لینے کے بعد اس معاملے کو تحقیقات کے لئے ایف ٹو او (FTO) کے سپرد کردیا گیا۔ پیش کی گئی رپورٹ کی بنیاد پر عدالت نے نیب کو ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی۔ نیب نے 600 کسٹم اور بارڈر کلیئرنگ ایجنٹس کے خلاف 59 ریفرنس دائر کیے۔ مقدمے کے دوران نیب کے سینئر تحقیقاتی افسر نے تسلیم کیا کہ سیکشن 18(d) کے تحت تحقیقات نہیں کی گئیں۔ فاضل عدالت نے اسے قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا،اور ان ملزمان کے خلاف مزید کوئی ثبوت نہ ملا۔ عدالت نے تمام 59 ریفرنسز مسترد کردئیے۔
پاناما کیس کے حتمی فیصلے کے حوالے سے اٹھنے والا ایک اور سوال یہ ہے کہ اگر چہ کیس کے دوسرے حصے کی سماعت ایک تین رکنی بنچ نے کی لیکن کیس کا فیصلہ پانچ رکنی بنچ نے سنایا۔ یہ ایک غیر معمولی بات ہے جوبہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے۔پہلے اکثریتی فیصلے میں محترم چیف جسٹس سے جے آئی ٹی کی تحقیقات کو یقینی بنانے کے لئے ایک تین رکنی بنچ کے قیام کی درخواست کی گئی۔ اکثریتی فیصلے میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ بنچ اصل پانچ رکنی بنچ سے ہی لیا جائے۔ تاہم محترم چیف جسٹس نے اپنی صوابدید کے مطابق پہلے بنچ سے ہی تین رکنی بنچ تشکیل دے دیا۔ یہ بنچ پہلے لارجر بنچ کا توسیع شدہ حصہ نہیں تھا۔ تو پھر پانچ رکنی بنچ حتمی فیصلہ کس طرح سنا سکتا ہے ؟
جہاںتک وزیر ِاعظم کو نااہل قرار دینے کی بات ہے،عدالت نے دیگر حقائق کو ایک طرف رکھ کر ’’اثاثوں ‘‘ اور ’’قابل ِ وصول ‘‘کی تشریح کی ہے۔ اس ضمن میں پہلی بات تو یہ ہے کہ عدالت نے اس پر غور نہیں کیا کہ کیا ’’قابل ِ وصول ‘‘کی کوئی اور بھی تشریح ہوسکتی ہے ؟ دوسری بات یہ کہ عدالت نے بہت سے دیگر عوامل کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک مشینی انداز میں نتیجہ نکلا، حالانکہ ان عوامل سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا تھا کہ جن ’’اثاثوں ‘‘ کو مبینہ طور پر چھپانے کا الزام ہے، اُن سے تو مدعاعلیہ نے دستبرداری اختیار کرلی تھی۔ اس نوعیت کا اثاثہ اُس وقت اثاثہ بنتا ہے جب کوئی شخص اس پر اپنااثاثہ ہونے کا دعویٰ کرے۔ تیسری بات یہ ہے کہ عدالت اس بات پر غور کرنے میں ناکام رہی کہ کیا کوئی شخص واقعی کسی اثاثے پر کنٹرول رکھتا تھا، یا اس سے استفادہ کررہا تھا؟چوتھی بات یہ کہ عدالت نے اس بات کی رعایت نہیں دی کہ اقامہ بنانے کے لئے تنخواہ کا ذکر کرنا ایک قانونی ضرورت ہے، لیکن اس پیرائے میں تنخواہ ایک مجرد تصور ہے۔ پانچویں بات یہ کہ فیصلے کے پیراگراف نمبر 13 سے تاثر ملتا ہے کہ عدالت نے اثاثے کی موجودگی کانتیجہ جلدبازی میں نکالا اور اس بات کونہ سوچا کہ اثاثے کے یہ معانی نکالنے سے مدعاعلیہ کی بطور امیدوار اہلیت پر کیا اثرات مرتب ہوںگے۔ چھٹی بات یہ کہ عدالت نے اس بات پر بھی غور نہیں کیاکہ اگر انتخابات میں اس مبینہ اثاثے کو چھپایا گیا تو اس سے اُس شخص نے کیا ناجائز فائدہ اٹھایا ؟ساتویں یہ کہ معزز وکیل کی طرف سے کیپٹل FZE سے تنخواہ وصول کرنے کے اعتراف کی بنیاد پر، کسی تحقیقات کے بغیر، عوامی عہدے سے نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ آخری بات یہ کہ عدالت نے ایک ایسے معاملے پر توجہ مرکوز کی جسے درخواست گزاروں نے اٹھایا ہی نہیں تھا۔ عدالت نے اس بات کو بھی نظر اندازکردیا کہ وہ جتنی بڑی سزا دے رہی ہے کیا وہ جرم سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔
یہ فیصلہ اکثریتی فیصلے کے کچھ اہم نکات کی بھی روح سے بھی متصادم ہے۔ اُس فیصلے میں کم از کم دو جج صاحبان نے پیراگراف نمبر 22 اور 58 میں لکھا ہے کہ وزیرِاعظم کو مروجہ طریق کار اختیار کیے بغیر نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔یہ دونوں جج عملدرآمد بنچ کا بھی حصہ تھے۔ اب تاریخ ہی بتائے گی کہ اس اچانک جوڈیشل قلابازی کے ملک میں جمہوری عمل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
(صاحب تحریر ایڈووکیٹ ہیں جنہوں نے کرمنالوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں