آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگست کا مہینہ شروع ہوا تو جیسے پاکستان کی آزادی کے ستر سالہ جشن کا طبل بجنے لگا۔ یہ احساس کہ ہم اپنے اس سفر میں ایک اہم سنگ میل کوچھو رہے ہیں ایک عرصے سے تھا۔ نئی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ نئے تجزیے کئے جارہے ہیں۔ کیونکہ پاکستان اور انڈیانے اپنی آزادی کا سفر ایک ساتھ شروع کیاتھا اس لئے عالمی میڈیا اس تقریب کو ایک اور تناظر میں بھی دیکھ رہا ہے کہ ان دونوں ملکوں نے اپنی آزادی کا کیا استعمال کیا اور یہ بھی کہ ان کے باہمی تعلقات کیسے رہے ہیں۔ گویا یہ جشن کاموسم بھی ہے اور ایک لمحہ فکریہ بھی ہے۔ لیکن پاکستان میں ہماری جو کیفیت ہے وہ کسی جشن یا اطمینان یا آسودگی سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی ۔ اپنے پرچم توہم اب بھی لہرائیں گے اور ساری رسمیں نبھائی جائیں گی ۔ لیکن اندر سے ہم ایک ایسی شکستگی کا شکار ہیں کہ جیسے ہمارے ساتھ کوئی دھوکہ ہوا ہے۔ ایک فلمی گیت کا ایک مصرع یاد آرہا ہے کہ ’’ تمام عمر کا حساب مانگتی ہے زندگی‘‘۔ لیکن ایک طرح سے یہ صورت حال بہت مناسب بھی ہے۔ یعنی جب ہم اپنی آزادی کا جشن منانے جارہے ہیں تو ہمارے لئے اپنی تاریخ اور اپنے اجتماعی عمل کو سمجھنے اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے کی ایک ایسی ترغیب بھی ہے کہ جو سینے میں اٹھنے والے درد کی صورت ہمیں بے چین رکھتی ہے۔ اس وقت ملک میں جو ہورہا ہے اس کا

ایک تسلسل ہے۔ اب یہ دیکھئے کہ نواز شریف اب وزیر اعظم نہیں ہیں ۔ یعنی ہماری تاریخ کی یہ روایت قائم ہے کہ کوئی وزیر اعظم اپنی آئینی مدت مکمل نہ کرے ۔ کوئی اس کا ترجمہ ان لفظوں میں بھی کرسکتا ہے کہ ’’ چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھاکےچلے‘‘۔ اب یہ مسئلہ کہ کس وزیر اعظم کے ساتھ کب کیا ہوا اس توجہ کا طالب ہے کہ جس کی ہم میں اس وقت بالکل سکت نہیں ہے۔ ایک تو ہماری عادت ہے کہ ہم تاریخ سے چھپے چھپے پھرتے ہیں۔ دوسرے جذبات کی شدت ہمیں حقائق کو دیکھنے کی مہلت نہیں دیتی ۔ سیاست کے بازار میں دھما چوکڑی کا سا عالم ہے۔ کوئی سخن فہم نہیں بچا ۔ سب کسی نہ کسی کے طرف دار ہیں۔ عوامی میڈیا یعنی نیوز چینلز کا یہ حال ہے کہ آپ ان کے سامنے زیادہ دیر تک بیٹھ کر ذہنی مریض بن سکتے ہیں۔ اور ہاں، بہت لوگ ان کے سامنے بس بیٹھے رہتے ہیں۔ نامی گرامی مبصر اپنے حواس کھو بیٹھے ہیں۔ ماحول کی آلودگی کا چرچا ساری دنیا میں ہے۔ آب وہوا میں انتشار ہے۔ پاکستان میں ذہن کی آلودگی ایک چیلنج بن گئی ہے۔ ایسی فضا میں تاریخ کو پڑھنے کا دماغ کس کے پاس ہے۔ پھر یہ مسئلہ بھی ہے کہ پاکستان کی ایک تاریخ ضرور1947سے شروع ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان کی دوسری تاریخ دسمبر1971سے بھی تو شروع ہوتی ہے۔ ہم کیسے کمال کے لوگ ہیں ۔ ستر سالوں میں دوبار ہم نے اپنا ملک بنایا ۔
یہ بات میں نے کئی دفعہ کہی ہے کہ پاکستان میں ہم سیاست میں اتنے الجھے رہتے ہیں کہ معاشرے کے مسائل کوئی توجہ حاصل نہیں کرپاتے ۔ ہم اپنی فکری ، تہذیبی اور اخلاقی پسماندگی کی کوئی خاص پروا نہیں کرتے۔ بار بار ، کوئی نہ کوئی واقعہ ہمیں اس پسماندگی کا ثبوت فراہم کرتا ہے اور ہم تھوڑی دیر کے لئے رو دھوکرپھر فواد چوہدری یا طلال چوہدری کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ملک کے چند بنیادی قضیے ایسے ہیں جن پر کھل کربات نہیں کی جاسکتی اور موجودہ حالات نے ان تضادات کو زیادہ زہر آلود بنادیا ہے۔ ستر سال سے ہم اپنی شناخت کے بحران میں مبتلا ہیں۔ مذہب اور سیاست کے رشتے کو ہم سلجھا نہ سکے۔ آنے والے چند دنوں میں پھر قائد اعظم کے وژن کی بات ہوگی پورے دن ہم قائد اعظم کی باتیں کریں گے اور جب سو جائیں گے تو ضیاالحق کے ڈراؤنے خواب دیکھیں گے ۔ اسی طرح فوج اور سویلین اداروں کے ٹکراؤ سے بھی ہم کبھی بچ نہ پائے۔ آخر کسی وزیر اعظم نے اپنی پانچ سال کی آئینی مدت کیوں پوری نہیں کی؟ پاکستان جمہوریت کے نطفے سے پیدا ہوا اور اب ، پاکستان کے سابق فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں فوج ملک کو پٹری پرلاتی ہے اور سویلین پھر آکر اسے پٹری سے اتار دیتے ہیں۔ ان کی دلیل بہت سادہ ہے کہ آمریت، جمہوریت سے بہتر ہے۔ یاد رہے کہ بی بی سی نے جنرل مشرف کا انٹرویو بھی ستر سال کی آزادی کے حوالے سے کیا ۔ اب یہ بھی سوچئے کہ فوج( اور نوکر شاہی) کی برتری کا تعلق بھی پاکستان کی پیدائش سے ہے ۔ برطانوی سلطنت کی فوج میں بھی پنجاب کاحصہ بڑا تھا اور تقسیم کے بعد ، برطانوی فوج بلکہ بری فوج کی30فی صد تعداد پاکستان کو ملی جب کہ پاکستان کی اس وقت کی آبادی بر طانوی ہند کا پانچواں حصہ تھی ۔ پھر کیا ہوا، اسے آپ پاکستان کے وزرائے اعظم کی آمدورفت کی کہانی سے سمجھیں فیض نے بھی یہ سوال پوچھا تھا کہ ’’ دربار میں اب سطوت شاہی کی علامت /درباں کاعصا ہے کہ مصنف کاقلم ہے۔‘‘ سو مصنف کے قلم کو قلمدان میں رکھ دیجئے۔
آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ میں عائشہ گلالئی کے ذکر کو ٹالنے کی کوشش کررہا ہوں۔ یہ ایک اور آئینہ ہے جس میں ہم اپنے معاشرے اور اپنی سیاست کے کئی پہلو دیکھ سکتے ہیں۔ پاکستان کی خواتین ایک انتہائی پر سوز ، المیہ داستان کا عنوان ہیں اور اس میں ہمیں مختاراں مائی اور ملالہ یوسف زئی جیسےکردار بھی ملتے ہیں۔ مختاراں مائی کا حوالہ چندروز قبل کسی اور جرگے کی ایک بچی کو دی گئی سزا سے بھی منسلک ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے زیادتی کی اس سزا کا ازخود نوٹس لیا جو مقامی آبادی کے بڑے لوگوں نے ایک جرگے میں سنائی۔ ہم کیسے سمجھ لیں کہ اس سے کوئی فرق پڑے گا کیونکہ مختاراں مائی کا قصہ15سال پرانا ہے اور تب اسے ایک عالمی شہرت حاصل ہوئی تھی ۔ یعنی ان15سالوں میں ہماری دنیا زیادہ نہیں بدلی۔ اس ہفتے کا ایک اہم بیان سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے حوالے سے آگے نہیں بڑھا بلکہ اسے ریورس گیئر لگ گیا۔ یہ ریورس گیئر معاشرتی انصاف اور تبدیلی کے ضمن میں بھی نمایاں ہے۔ جاگیردارانہ اور قدامت پرستانہ سوچ، مذہبی انتہا پسندی کی چھتری کے نیچے، اب بھی تندرست وتوانا ہے۔ گھریلو ملازمین کے ساتھ کیا جانے والا سلوک اس کی ایک مثال ہے۔ ایک برطانوی جریدے کے برصغیر کی آزادی کے ستر سال کے ضمیمے میں یہ بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً دس لاکھ افراد گھریلو ملازم ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان میں عورتوں اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اگر کوئی مالکن اپنے ایک گھریلو ملازم پراتنا تشدد کرسکتی ہے کہ وہ ہلاک ہوجائے توپھر کیا بچا ہے۔ گویا سیاسی انصاف کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف کے معاملے میں بھی ہیرپھیر ہے۔ اور یہ جو آمریت یعنی فوجی ڈکٹیٹر شپ کا جواز پیدا ہو تا رہا تو اس کی ذمہ داری کا فیصلہ کون کرے گا ۔ عدالت کی عدالت میں پیشی کیسے ہوگی ۔ آپ کہیں گے کہ پرانے قصے پرانے ہوگئے ۔ اب ہمارے ادارے آزاد ہیں۔ لیکن عاصمہ جہانگیر کہتی ہیں کہ مافیا کے خلاف کوئی فیصلہ کرکے دکھائیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں