آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فضل کا نام پھجا کینیڈی منصور نے رکھا تھا۔ وجہ یہ کہ فضل کے گھر والے کینیڈا شفٹ ہوگئے تھے اوروہ وہاں جانے کے انتظار میں اپنے دن بس ایسے گزاررہا تھا کہ پاکستان کی ہر چیز پر تنقید کرتا تھا۔ اس کے بقول یہ ملک وحشی لوگوں کاایک ایسا ملک تھا جس میں صحیح ہونے کاموقع ختم ہوچکاتھا۔ منصور نے اس کے ہروقت پاکستان کو کینیڈا سے تقابل کی وجہ سے اس کا نام ہی پھجا کینیڈی رکھ دیا تھا۔ پھجےکے بقول (اگرچہ اس نے ابھی تک کینیڈا دیکھا نہیں تھا) جنت اگر اس دنیا میں ہوتی تو بس کینیڈا جیسی ہوتی ۔ پھر وہ آخر کار کینیڈا چلا ہی گیا۔خیر اب پھجا کینیڈی پچھلے دنوں کچھ عرصہ کے لئے پاکستان آیا ہوا تھا۔ میری قسمت کہ پاکستان میں زندہ دوستوں میں صرف میں ہی بچا تھا سو وہ روز وارد ہو جاتا اور اپنے ساتھ پاکستانی شہروں کی ابتری، سیاست کے میدان میں گند اور نامعلوم کس کس طرح کی خبروں سے مجھے نوازتا رہتا۔ ابھی پرسوں ہی جو ایک روزنامہ نے عالمی ادارۂ صحت کی یہ رپورٹ چھاپی کے زہریلے پانی کی وجہ سے پاکستان کے چھ کروڑ لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے تو پھجے کی تو گویا مراد پوری ہوگئی فوراً رپورٹ پکڑ کر میرے پاس آگیا۔
’’پڑھو اسے‘‘ اس نے گویا حکم دیا۔ کیا ہے اس میں۔ میں نے پڑھتے ہوئے کہا۔ ’’یار پھجے یہ دوسرے ملکوں کے خاص طور پر پاکستان کے دشمنوں

کے لوگ اس طرح کی خبریں چھاپ کر ہمیں ترقی کرنے سے نہیں روک سکتے۔‘‘ میں نے اپنے تئیں ایسا بیان دیا جیسا خواجہ آصف یا احسن اقبال کو دیناچاہئے تھا۔
’’بھائی‘‘ پھجا بولا ۔ ’’غور کرو۔ تم خود بتاتے رہے ہو کہ گزشتہ دو ماہ میں تمہارے دفتر کے تین مختلف لوگوں کے رشتہ دار جگر کے فیل ہونے سے مر گئے‘‘ یہ جگر کی خرابی ان چند خرابیوں میں سے ہے جو خراب، گندےاور زہریلے پانی کی وجہ سے پیش آرہی ہیں۔ یہ رپورٹ کوئی ایسے ٹیبل پر بیٹھ کر نہیں بنائی گئی جیسے اس ملک میں لوگ اپنے گھر بیٹھے رپورٹس بنا لیتے ہیں۔ اس کے لئے مختلف علاقوں سے پانی کے 1200 نمونے حاصل کئے گئے ہیں۔ ان نمونوں میں سنکھیا (زہر) کی مقدار انتہاسے زیادہ ہے۔ اب اگر طویل مدت تک سنکھیا پینے والے لوگ مثانے، جلد کے سرطان، پھیپھڑے اور دل کے امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں تو یہ خطرے کی بات ہے۔ اس کا تدراک کرنا چاہئے۔‘‘
’’یار پھجے!اس طرح کی رپورٹس یہ مغربی ممالک کے لوگ اس لئے چھاپتے ہیں کہ ہمارے ملک کی ایکسپورٹس پر پابندی لگائی جائے۔ہماری اپنی ریسرچ کی لیبارٹریز تو ’’سب صاف ہے‘‘ کی بات کرتی ہیں۔‘‘
’’تمہارےاپنے ملک کی ریسرچ اور اس کے ریسرچ کرنے والے گئے بھاڑ میں‘‘ پھجا گویا غرایا ’’تمہارےاپنے ملک میں پیدا ہونے والے سائنس دانوں اور ریسرچ کرنے والے اداروں کے بارے میں جو کچھ ڈاکٹر ہود بھائی اور علی اکبر نے لکھ دیا ہے وہ کافی نہیں ہے کیا؟ سب جعلی ہے، سب دھوکہ۔ تمہارے ہائر ایجوکیشن کمیشن کا دعویٰ ہے کہ اگلے چند برسوںمیں ریسرچ اسکالرز کی تعداد ہزاروں نہیں لاکھوں میں پہنچ جائے گی۔ تم نے کبھی ان ریسرچ اسکالرز کے معیار کا جائزہ لیا ہے۔ دنیا میں کتنے ایسے ریسرچ کے ادارےہیں جو تمہارے ان نام نہاد ریسرچ اسکالرز کو اپنے ہاں رکھنے پر یا ان کی تحریر کردہ ریسرچ کو کسی ریسرچ جنرل میں شائع کرنے پر تیارہوں گے۔ اس ریسرچ کو کرنے والے اور اس ریسرچ کو چیک کرنے والے سبھی دونمبر ہیں۔ گھٹیا معیار کے نقل شدہ پیپرز کی مدد سے خانہ پُری کرنے والے۔ ‘‘
’’پھجے!LUMSبھی تو ہے نا!‘‘ میں نے کہا
’’ایک LUMS کو لے کر کیا چاٹو گے تم۔ یہ جو گلیوں گلیوں یونیورسٹیوں کے نام پر دھوکہ ہو رہا ہے اس بارے میں کیا کہو گے؟ بھائی! نہ صرف یہ کہ ریسرچ نہیں ہو رہی بلکہ ملک اور مذہب کے نام پر ایسے لوگ تیار کئے جارہے ہیں جن کےاندر تخلیقی یا استدلالی کام کرنے کی صلاحیت نہیں۔ یہ صرف اور صرف جذباتی غلط فہمیوں پر مشتمل نعرے لگا سکتے ہیں۔ وہ زمانے گئے جب یہاں سے ڈاکٹر ہودبھائی جیسے لوگ پیدا ہوتے تھے۔ تم خود دیکھو کہ میڈیکل سائنس میں یا دوسری سائنس بھی لے لو، تمہارے ان اسکالرز نے کیاایجاد کیا ہے؟ تمہاری سائنس کی سب کتب اب ہندوستان سے آتی ہیں۔ تمہارے ہاں پیچیدہ مسائل کے حل کے لئے یا علاج کے لئے لوگ منتیں کرکے ہندوستان کاویزہ لیتے ہیں۔‘‘
’’یہ ہندوستان والا طعنہ تم نہ دو مجھے۔‘‘ میں غصے میں آگیا۔ ’’کینیڈا کی حد تک بات صحیح ہے لیکن ہندوستان ہمارا دشمن ہے‘‘
’’تم نے اپنی اکانومی اور ہندوستان کی اکانومی کا کبھی جائزہ لیا ہے۔ وہاں جوایجادات ہو رہی ہیں اس کے بارے میں پڑھا ہے۔ تم کس طرح اس کا مقابلہ کروگے؟ صرف عسکری قوت بڑھانے سے قوت حاصل نہیں ہو جاتی۔ ملکوں کے ترقی کرنےکےلئے تخلیق اور اکانومی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔‘‘
’’ہم اب اکیس کروڑ ہیں اور پھر ہمارے پاس ایسے لوگوں کی بڑی تعداد ہےجو ایک منٹ میں لاکھوں مجاہدین پیدا کرسکتے ہیں‘‘ میں نے اپنے تئیں پھجے کو جواب دیا۔
’’اس کی بات تو چھوڑ دو، تعداد کچھ نہیں کرتی۔ اسرائیل کی آبادی ایک کروڑ سے کم ہے لیکن اس نے کروڑوں عربوں کو آگے لگایا ہوا ہے اور رہے مجاہدین، بھائی جتنا نفرت انگیز زہریلا مواد تم لوگوں نے چھاپ چھاپ کر ایک دوسرے کے اندر نفرت پیداکی ہے وہ تمہیں کبھی اکٹھا نہیں رہنے دے گی۔‘‘
پھجا شکر ہے کل واپس کینیڈا چلا گیا ہے وگرنہ میں شاید اس کا سر پھاڑ دیتا۔میرے پاس اپنی مدافعت میں دلیلیں ختم ہوگئی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں