آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس وقت جب ہم اس فکر میں گھلے جارہے ہیں کہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ برما میں بہت برا سلوک ہو رہا ہے ہم اس برے سلوک کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکال کر کچھ نعرے لگا کر بینر چپکاکر شایدگھروں کو واپس جا کر کسی اور خبر میں گم ہو جائیں لیکن شاید ہمارا دھیان اس طرف نہ جائے جس طرف مغربی اخبار ہماری توجہ دلا رہے ہیں اور وہ ہے اس ملک میں بڑھتی ہوئی جنونیت اور انتہاپسندی۔ مغرب کے اخباروں نے حال ہی میں ہونے والے ایک واقعہ کو اٹھایا ہے۔ یہ واقعہ 17برس کےایک عیسائی نوجوان کی ہلاکت کا ہے جسے اس کے کلاس کے دوسرے لڑکوں نے شدید تشدد کا نشانہ بنا کر مار ڈالا۔ 17برس کے اس بچے کا قصور یہ تھا کہ اس نے ایسے گلاس سے پانی پینے کی جرأت کی جس سے وہ سب پانی پیتے تھے۔ یہ واقعہ خادم اعلیٰ کے پنجاب میں واقع شہر بوریوالہ میں ہوا ہے لیکن ہمیں شاید اس طرح کے واقعات کی مذمت کرنے کے لئے ٹائم نہیں ملتا۔ ہم شاید اس واقعہ کے بارے میں بھی یہ کہہ دیں کہ مغرب اصل میں ہے ہی مسلمانوں کے خلاف۔ اسے ہمارے ایٹم بم پر قبضہ کرنے کے لئے بہانوں کی ضرورت ہے۔ اسی لئے تو اب امریکہ بہادر نے ہمیں دھمکیاں اور ہندوستان ہمارے ازلی دشمنی کوشاباش دینا شروع کردی ہے۔ لیکن ہم اس کا کیا کریں کہ ہمارے اپنے ہمالہ سے اونچے اور شہد سے میٹھی دوستی والے چین نے بھی

ہمارے ملک میں موجود شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے کہہ دیا ہے۔
ہم اس بارے میں لاکھ کہتے پھریں کہ دہشت گرد تنظیمیں تو اصل میں افغانستان میں ہیں ہم چاہے برکس اعلامیہ کو مسترد کردیں اور کہیں کہ افغانستان میں 40فیصد سے زائد حصے پر اب حکومت کا کنٹرول نہیں اور ہمارے ملک میں دہشت گردی کے تانے بانے وہیں ملتے ہیں لیکن عالمی قوتیں اورخود ہمارا دوست ملک چین بھی کسی اور ہی طرف دیکھنے کو کہہ رہے ہیں۔ اس حوالے سے اگر دیکھیں تو ہم مکمل سفارتی تنہائی کا شکار ہوتے چلے جارہے ہیں۔ کہنے کو تو اس کی طرف اشارے بہت دیر سے کئے جارہے تھے ہمیں دوست ممالک بھی سمجھارہے تھے لیکن ہم نے اس طرف دھیان ہی نہیں دیا۔ ایک عرصہ تک خارجہ پالیسی کا چارج نواز شریف صاحب نے اپنے پاس رکھااور اپنی معاونت کے لئے سرتاج عزیز اور طارق فاطمی کو رکھے رکھا لیکن اس حوالے سے اب جو صورتحال ہے وہ مکمل مایوسی کی ہے۔ ہم نے اب کی بار اس بارے میں کوئی پالیسی اختیار کرنےکے لئے اگرچہ وزرا کی کانفرنس بھی بلائی اور سفرا کو بلا کر بھی ایک کانفرنس منعقد کرا دی۔ امید تو یہی ہے کہ مختلف سفرا نے جو کہانیاں سنائی ہوں گی اس سے ہمارے خارجہ پالیسی بنانے والوں نے کچھ سیکھا ہوگا لیکن اگر اب بھی نہیں سیکھا تو پھر اس طرح کی کانفرنس بھی بے کار ہی جائے گی۔ سفیروں نے یقیناً یہ بتایا ہوگا کہ بھارت اپنے پتے بہت کامیابی سے کھیل رہا ہے۔ اس نے اپنے دشمن ملک چین کے ساتھ ڈوکلام کے بارڈرپر محاذ آرائی کے بجائے اپنی فورسز کو واپس بلا کرچین کویقیناً خوش کیا ہوگا۔ چین کا بھی انٹرسٹ اسی میں ہے کہ اس کی تجارت پھیلے اور اس میں اسے بھارت کے ساتھ جو ایک بڑی منڈی ہے اربوں ڈالرز کی تجارت کے مواقع ملنے کے بعد شاید یہ یاد نہ رہے کہ ہم اس کے نظریاتی دوست رہے ہیں۔ پھر دوسری بات ایک ایسی دہشت گردی کی فضا ہے جس کی ساری دنیا مخالفت کرتی ہے۔ ہمارے وزیر خارجہ خواجہ آصف اگریہ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے گھر کو دیکھنا ہے، وہ اس بات کا بھی اب اقرار کرتے ہیں کہ ماضی میں ریاست نے کچھ گروہوںکی سرپرستی کی ہے۔ جی اسٹرٹیجک گہرائی کے نام پر۔ اگراب ہمارے آرمی چیف یہ کہہ رہے ہیں کہ جہاد کا حق صرف ریاست کو ہے تو یہ پچھلی پالیسیوں سے مختلف بات ہے۔
اور وہ پرانی پالیسیاں جس کے نتیجے میںہی ہم پر یہ الزامات لگے کہ ہم نان اسٹیٹ ایکٹرز کو مدد کرتے ہیں اب ہمیں مکمل طور پر ختم کرنا ہوں گی۔ ہم اس حوالے سے کئی محاذوں پر جنگ لڑ رہے ہیں لیکن اس محاذ پر جنگ بے حد ضروری ہے۔ اتنی ہی ضروری جتنی اس ملک میں پھیلتی ہوئی وحشیانہ شدت پسندی کے خلاف جنگ ضرور ی ہے۔ ایسی جنگ جس کا شکار ایک طرف تو 17برس کے غیرمسلم بچے ہوتے ہیں اور دوسری طرف انصار الشریعہ جیسے گروپ بنتے ہیں۔ اس طرح کے گروپ بننے میں ایک حصہ ہمارا جاہلانہ نظام تعلیم ہی ڈالتاہے جہاں ابتدائی تعلیم بھی اتنی تنگ نظری کے بیج بو دیتی ہے کہ پھر آگے چل کر کالج یا یونیورسٹی کے لیول پر شدت پسند تنظیموں کے متحرک اساتذہ اور گائیڈ ان بچوں کا آسانی سے شکار کرلیتے ہیں۔ آپ خود ہی دیکھ لیجئے انصار الشریعہ تنظیم کے کرتا دھرتا لوگوں میں کئی پروفیسر اور استاد موجود ہیں۔
کالم کی دم:گزشتہ روز دنیا میں لٹریسی کا دن منایا گیا جہاں دنیا کے مختلف ملکوں میں اس بات پرخوشی کااظہارکیا گیا ہوگا کہ لٹریسی بڑھ رہی ہے ہمارے لئے یہ شرم کا مقام ہے کہ ہمارے ملک میں گزشتہ سالوں کی نسبت لٹریسی کی شرح کم ہوئی ہے۔ ہمارے وزیراعلیٰ پنجاب، یا دوسرے صوبوں کے سربراہان لاکھ کہیں کہ معیاری تعلیم کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا لیکن جناب ِمن اب کر بھی لیں صرف نعرے لگانے کاکیا فائدہ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں