آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس رپورٹ کے بار ےمیں ہم پہلے ہی بات کرچکے ہیں لیکن یہ ہے ہی اتنی خوفناک کہ اس کا ذکر بار بار کیا جانا چاہئے تاکہ وہ حکمران جو صرف یہ جانتے ہیں کہ سڑکوں کےجال بچھانے کو ترقی کہا جاتا ہے، اس خوفناک حقیقت کاادراک کرسکیں۔رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی عمر کے 45 فیصدسے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ صرف پنجاب میں اسکول جانے والے ایک کروڑ 10لاکھ بچوں میں سے نصف طلبہ کے قد ان کی عمر سے کم ہیں۔ ان بچوں کی ذہنی نشو ونما بھی دوسرے صحت مند بچوں کی نسبت کم ہے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ پورے ملک میں مجموعی طور پر 2کروڑ طلبہ خوراک کی ضروریات پوری نہیں کرپارہے جس کےنتیجے میں ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثرہو رہی ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ یہ رپورٹ کسی عام سے غیرسرکاری ادارے نے مرتب نہیں کی بلکہ یہ ورلڈ بنک کی مرتب کردہ ہے۔ اس عالمی ادارے نے ان اعدادو شمار کو پاکستان کی نوجوان نسل کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ بڑھتے ہوئے بچوں کی نامناسب خوراک کی بدولت ان کی ذہنی اور جسمانی صورتحال میں خرابی کی بنا پر ملک کا مستقبل غیرمحفوظ ہاتھوں میں ہونے کے مترادف ہے۔ ورلڈ بنک کے صدر نے بھی نوجوانوں میں غذا کی شدید کمی کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسئلے پر قابو نہ

پاسکنے کو’’شرمناک‘‘ قرار دیاہے۔ اس مسئلے کو جب دوسرے غذائی ماہرین کے سامنے رکھا جائے تو وہ یہی بتاتے ہیں کہ اس طرح کی صورتحال اگرچہ حکمرانوں کے سامنے بار بار لائی جاتی رہی ہے لیکن ان کی توجہ شاید دوسرے مسائل کی طرف زیادہ ہے۔ وہ لوگ جو پہلے ہی صحت اور تعلیم ایسے منصوبوں سے رقم نکال نکال کر اورنج ٹرین ایسے مہنگے اوربے کار منصوبوں پرلگا رہے ہیں وہ اس حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں کہ یہ صورتحال مستقبل میں کتنی خوفناک ثابت ہوسکتی ہے۔
ابھی ہم دو کروڑ ان بچوں کی بات کر رہے ہیں جو اس وقت غذائی قلت کے باعث ذہنی طور پر پست رہ سکتے ہیں۔ ہم ان کروڑوں بچوں کی بات نہیں کر رہے جو گزشتہ کئی برسوں سے اس طرح کی پالیسیوں کی بدولت جوان ہو کر جسمانی اور ذہنی طور پر پست ہوچکے ہیں۔ یہ لوگ اب اسکولوں سے نکل کر کالجوںاور یونیورسٹیوں تک پہنچ چکے ہیں لیکن ایک تو ان کی نامناسب خوراک کی بدولت اور دوسرے ان کی ناقص تعلیم کی وجہ سے جب یہ فارغ التحصیل ہوچکیں گے تو ان کا کیا مستقبل ہوگا؟ اور پھر ان کے ہاتھوں میں آیا ہوا پاکستان کیسا ہوگا؟ اس طرف سوچنے کی شاید ان لوگوں کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے جو یوں توہرمحفل میں اقبالؒ اورفیض ؔ کا کلام گا گا کر حاضرین کو سناتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کرتے۔
جناب ضمیر جعفری نے لکھا کہ؎
حضرت اقبال کا شاہیں تو کب کا اُڑ چکا
اب کوئی اپنا مقامی جانور پیدا کرو
ان بہت سے نوجوانوں کو بھی بتایا گیا ہوگا کہ اقبالؒ اپنے نوجوان مسلموں سے کیا توقع رکھتا تھا لیکن ان کے سامنے اقبالؒ کے خواب رکھنا بھینس کے سامنے بین بجانے کے مترادف ہوگا اس لئے کہ یہ نوجوان تو جسمانی طور پر اور نہ ہی ذہنی طور پر اس خواب کو سمجھ سکتے ہیں۔ اس خواب پر عمل کرکے اقبالؒ کا شاہین بننا تو دور کی بات ہے۔
اس رستے سے دور ہٹے ہوئے لوگ ہی گائوں اور ضلع کی سطح پر انتظامی کمیٹیاں بنا رہے ہیں، ممبران منتخب ہورہے ہیں اورپھر دیہات اور ضلعوں کی سطح پر اساتذہ بن رہے ہیں۔ یہ کس طرح کا انتظام چلا رہے ہیں اور کیسی تعلیم دے رہے ہیں؟ ہمیں بے شمارسروے اس بارے میں بتاتے ہیں لیکن یہ جو پنچایت کی سطح پر آ کر ایسے لوگ ایسے فیصلے کرتے ہیں جس میں کسی بچی کو اس کےکسی خاندان کےفرد کی غلطی کی بنا پر سزا دی جائے کہ اسے دوسری پارٹی کے مردوں کے سپرد کردیاجائے جو اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائیں اس کی وجہ بھی شاید یہی ہے جس کی طرف ورلڈ بنک کی رپورٹ اشارہ کررہی ہے۔
ہم ابھی ایک صدمے سے نکلتے ہیں کہ ایک اور واقعہ ہمیں دکھ میں مبتلا کر دیتاہے۔ ایک واقعہ پر چند دن اس کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور پھر بجائے اس کے کہ اس طرح کے واقعات کی تہہ میں جا کر حقائق جانے جائیں حکمران پھر وہی سڑکوں اور ٹرینوں کے جال کی باتیں شروع کردیتے ہیں۔ ملک میں مشکل کا دور آئے تو عوام کو پکار کر کہا جاتا ہے کہ آپ قربانی کے لئے تیار رہیں اورخود عوم ان کی مثال تو اس کہاوت ایسی ہے جو مجھے ایک دوست نے بھجوائی ہے۔ ’’بادشاہ کی آل اولادوں میں خیر سے سبھی لڑکیاں تھیں، کچھ سالوں بعد خیر سے ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اب پورے محل میں وہی ایک لڑکا تھا باقی سب شاہی خاندان کی لڑکیاں، کنیزیں اور خواجہ سرا۔ شہزادے کی پرورش اسی ماحول میں ہورہی تھی۔ایک دن اچانک محل میں آگ بھڑک اٹھی جسے بجھانے والا کوئی مرد نہیں تھا۔ شور مچ گیا۔ سبھی عورتیں چلانے لگیں ’’کسی مرد کوبلائو، کسی مردکوبلائو‘‘اور ان آوازوں میں سب سےبلند آواز اس شہزادے کی تھی جوچیخ چیخ کر کہہ رہا تھا ’’کسی مردکو بلائو‘‘ ہمارے حکمران اور عوام سب گویا اسی شہزادے کی مانند کسی مرد کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں