• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
نواز شریف اگر لائحہ عمل نہیں دیتے تو کوئی اور دے گا۔ وہ نہیں تو کوئی اور۔ جنرلوں کو اب وہاں رہنے دیجئے، جہاں انہیں رہنا چاہئے۔ شعیب بن عزیز کا شعر یہ ہے۔
دیارِ شب کی مسافت نے کیا دیا ہم کو
ہوائے شام ہمیں اب گھروں میں رہنے دے
تاخیر سے دفتر پہنچا تو بتایا گیا کہ تین بار فیض صاحب کا فون آ چکا۔ اپنے عصر کے شاعر فیض احمد فیض#۔ خدا خیر کرے، میں گھبرایا۔ بے باک خالد چوہدری کی مدد سے ایک غزل ان سے ہتھیا لی تھی۔
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
بھٹو صاحب کے ساتھ بنگلہ دیش جانے والے وفد میں فیض# شامل تھے۔ لوٹ کر آئے تو انٹرویو کی درخواست کی۔ وہ کہاں مانتے لیکن نجیب آدمی۔ مشاہدے کا سوزو گداز غزل میں ڈھل چکا تھا لیکن نظرثانی ابھی نہ کی تھی۔ نوجوان اور ناتجربہ کار اخبار نویسوں کی دلجوئی منظور تھی۔ اگلے دن کی حاضری کا اذن بخشا۔ خلیل ملک مرحوم کو آمادہ کیا کہ تاج محمد لنگاہ سے ملاقات کر کے، ان کے مشاہدات رقم کریں۔ خالد چوہدری غزل لے کر آئے
تھا بہت زہر آفریں دردِ شراب دوستی
تھیں بہت بے درد صبحیں مہرباں راتوں کے بعد
ہفت روزہ نصرت کے دفتر میں حنیف رامے کی کرسی پر بیٹھا میں حیراں رہا کرتا کہ ذمہ داری کے تقاضے کیا ہیں۔ ڈرتے ڈرتے فون کا چونگا اٹھایا۔ وہی ٹھہری ہوئی آواز۔ فرمایا ”بے درد صبحیں“ کی بجائے ”بے مہر صبحیں“ لکھ دو۔ مودبانہ عرض کیا : بے درد بھی کم زیبا نہیں۔ ارشاد کیا : جی ہاں مگر ایک دوسرے مصرعے میں بھی یہ اصطلاح موجود ہے۔ تکرار حسن اظہار کے کے خلاف ہوتی ہے۔
انیس# غزل لکھ چکتے مگر مہینہ بھر کسی کو سناتے نہ تھے۔ وہی انیس# لکھنو جن پر ناز کرتا رہے گا۔
بے سبب نہیں یہ خالی گھروں کے سناٹے
مکان یاد کیا کرتے ہیں مکینوں کو
اور یہ کہ
انیس# دم کا بھروسہ نہیں ٹھہر جاؤ
چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے
ایرانی انقلاب فروری 1979ء میں برپا ہوا۔ مختار مسعود چشم دید گواہ تھے۔ روداد مگر 1996ء میں چھپی۔ مشتاق یوسفی لکھ ڈالنے کے بعد رکھ چھوڑتے ہیں، برسوں کے لئے۔ قاری آج بھی ان کی خودنوشت کے انتظار میں ہے۔ اپنے عہد کے نثر نگار کی صحت مندی کے محو دعا۔ سیدنا عمر بن خطاب کے پسندیدہ شاعر زہیربن ابی سلمیٰ کو ”شاعرِ یک سالہ“ کہا جاتا ہے۔ قصیدہ لکھ چکتے تو سال بھر سینے سے چمٹائے رکھتے۔ اقبال کو اللہ نے طبع موزوں تو ایسی بخشی تھی کہ باید و شاید۔ ایم ڈی تاثیر نے ایک مصرعہ پڑھا تو پوری غزل لکھوا دی۔
عشق کی ایک جست نے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بیکراں سمجھا تھا میں
ایسا بھی مگر ہوتا، ایک مصرعہ لکھ کر گھنٹوں سوچتے۔ مولانا عبدالقادر گرامی کا ہاتھ تھامے کھڑے رہتے کہ گرہ نہیں لگ رہی۔ ان کا انتقال ہوا تو مہینوں خاموش رہے۔ یاروں نے طعنہ زنی کی کہ ممدوح کا مرثیہ نہیں لکھتے۔ گرامی وہ تھے، جن کے بارے میں ہجوم سے کہا تھا ”انہیں دیکھ لو۔ آنے والی نسلوں کے سامنے اس پر فخر کرو گے“ آخر کار وہ نظم
یاد اِیامے کہ با او گفتگو ہاداشتم
چہ خوشا حرفے کہ گوید آشنا با آشنا
(ان دنوں کی یاد کہ جب میں اس سے بات کیا کرتا۔ ایک دوسرے کے قلب و نظر کو جاننے والوں کے درمیان الفاظ کیسے اجلے تھے) بہت پہلے نکتہ انہوں نے آشکار کر دیا تھا۔ لوگ لیکن بھول جاتے ہیں۔
نغمہ ہے بلبلِ شوریدہ ترا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی
جب تک دل و دماغ پر بیت نہ جائے رقم نہ کرنا چاہئے۔ سوچنا چاہئے بہت سوچنا چاہئے۔ خاص طور پر اس وقت جب ملک و ملت کا معاملہ ہو۔ خلق خدا کے سودوزیاں کا معاملہ۔
فیض احمد فیض# ہی نے لکھا تھا : لکھنے والے نے کتنے مترادفات مسترد کئے ، قاری کبھی نہیں جان سکتا۔ معرکہ نثر نگار اور شاعر کے باطن میں برپا ہوتا ہے۔ ظفر اقبال نے کہا تھا
دل کا یہ دشت عرصہٴ محشر لگا مجھے
میں کیا بلا ہوں، رات بڑا ڈر لگا مجھے
سٹیل مل کے سابق سربراہ جنرل عبدالقیوم بادشاہ آدمی ہیں۔ سپہ سالار اشفاق پرویز کیانی کے لئے انہوں نے اخبار میں ایجنڈا لکھ دیا اور وہ بھی عالمگیر۔ گویا وہ محمد علی جناح ہیں کہ ترجیحات طے کر دیں تو ملک مان لے گا۔ حد یہ ہے کہ کرپشن کا خاتمہ وہ کریں اور افغانستان سے امریکیوں کو وہ نکالیں۔ جس محفل میں جایئے اور جس سے ملئے وہ پوچھتا ہے کہ کیانی صاحب کیا سوچ رہے ہیں۔ کیا کرنے کا ارادہ ہے۔ ایک شام جیو ٹی وی کے پروگرام میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے کیمرے کے سامنے پوچھ لیا۔ عرض کیا : کل شام وہ لسی پی رہے تھے… ”اور پرسوں؟“ … ”پرسوں کافی کے ساتھ سگار“ ہر کسی نے اپنے مطلب کی بات نکالی۔ خاکسار نے فقط یہ عرض کیا تھا کہ احساس ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے کر آسودہ ہیں۔ ایک ملک ہے اور تین بادشاہ۔ زرداری صاحب، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جنرل کیانی۔ فرق یہ ہے کہ جنرل خود کو حکمران نہیں سمجھتا۔ پوٹھوہار کا سپاہی ٹکا خان ہو یا جنرل آصف نواز، وردی میں شادمان رہتا ہے۔ بچپن کے جھٹ پٹے میں، گاؤں کی گرد آلود گلیوں میں اس خواب کا آغاز ہوتا ہے۔ اگر مجسم ہو جائے تو عمر بھر کولہو کے بیل کی طرح آدمی جتا رہتا ہے۔ ماں کی طرح جو بچے کو سینے سے لگائے رکھے وہ اپنے خواب کو تھامے رکھتا ہے۔
ملک دلدل میں ہے اور اس سے نکلنا چاہتا ہے۔ آرزو سچی ہو تو پوری ہوتی ہے۔ قرائن یہ ہیں کہ اب انشاء اللہ پوری ہو گی لیکن اقوام کے ادبار کا خاتمہ کسی ایک فرد کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ عدالت خوب ہے؛ اگرچہ کبھی تجاوز کرتی ہے۔ جنرل نے بھی تجاوز کیا مگر اتنا ہی کہ کوئی شکایت نہیں کر سکتا۔ اخلاقی اور نہ قانونی بلکہ اکثر نے تحسین کی۔ زرداری صاحب وحشت میں مبتلا ہیں۔ فرماتے ہیں: سات نسلوں کے لئے بھٹو کی وراثت برقرار رہے گی۔ بابر، ہمایوں، اکبر، جہانگیر، شاجہاں، اورنگزیب عالمگیر اور پھر اس کا فرزند۔ بستر مرگ پر جس کے ایک فیصلے کی خبر پا کر بادشاہ ملال سے دہراتا رہا
بہر لحظہ بہر ساعت بہر دم
دگر گوں میشود احوال عالم
(ہر گزرتی ساعت کے ساتھ دنیا کی حالت بگڑتی جا رہی ہے)۔ محترمی و مکرمی جنرل عبدالقیوم صاحب! پیشرفت انشاء اللہ بہت جلد ہو گی اور امید ہے سبھی اس میں شریک ہوں گے۔ قاعدے قرینے سے۔ عدالت، اخبار نویس، وکیل، دانشور، طالب علم لیکن اولین ذمہ داری سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے۔ نواز شریف اگر لائحہ عمل نہیں دیتے تو کوئی اور دے گا۔ وہ نہیں تو کوئی اور۔ جنرلوں کو اب وہاں رہنے دیجئے، جہاں انہیں رہنا چاہئے۔ شعیب بن عزیز کا شعر یہ ہے۔
دیارِ شب کی مسافت نے کیا دیا ہم کو
ہوائے شام ہمیں اب گھروں میں رہنے دے


تازہ ترین