آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جھل مگسی درگاہ میںخودکش حملے کے نتیجے میں اب تک کوئی دو درجن مسلمان شہید ہو چکے ہیں۔ ہمارے دل بوجھل ہیں۔ ہم کس سے اپنے غم کی بات کریں۔ مرنے والے بھی مسلمان اور مارنے والے بھی مسلمان۔ افسوس یہ کہ اب جو کراچی سے خبریں آ رہی ہیں کہ انصار الشریعہ جیسے گروہوں کے طلبا اچھے خاصے تعلیم یافتہ ہیں لیکن ایسی تعلیم کس کام کی جو امت ِ مسلمہ کو ہی نشانہ بنائے اور ان کا قتل عام کرے۔ اس حوالے سے ایک قطعہ جو منسوب تو علامہ اقبال سے ہے لیکن ہے شاید مولانا ظفر علی خان کا:
اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی، اولاد بھی، جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
ایک خبر ہے کہ جس وقت دہشت گرد نے بم پھاڑا تو اللہ اکبر کا نعرہ لگا تھا۔ مولانا نے یقیناً اسی طرح کےلوگوں کو فتنہ قرار دیا ہے اور اسی طرح کےمعصوم لوگوں کو قتل کرنے والے لوگوں کے نعرہ تکبیر کو فتنہ پیدا کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ یہ کون لوگ ہیں؟ یہ معصوم لوگوں کا قتل کیوں کرتے ہیں؟ ان کے اس طرح کے اقدام سے آج کی املت مسلمہ پر کیا گزرتی ہے؟ یورپی ملکوں میں اسی طرح کے واقعات کے بعد مسلمانوں کے بارے میں کیا رائے پیداہوتی ہے؟ یہ سب سوال جواب چاہتے ہیں۔ یہ سوال بھی اہم ہیں کہ آج کے مسلمانوں کے دل اس طرح کیوں

نہیں سوچتے یا تڑپتے جس طرح اقبال یا ان کے پیر رومی سوچتے تھے؟ ڈاکٹر سعد کی محفل میں سوال اٹھایا گیا کہ رومی کے ساتھ ایک واقعہ ہوا اور ان کا سب کچھ تبدیل ہو گیا۔ ہم لوگوں کے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ ہم دنیا میں ذلیل و خوار کیوںہیں؟ اس سے آگے بڑھنے سے پہلے آیئے رومی کے ساتھ ہونے والے واقعہ کے بارے میں جانیں۔ واقعہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ مولانا روم ایک روز اپنے شاگردوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اچانک وہاں سے شمس تبریز کا گزر ہوا۔ انہو ںنے مولانا روم کے قریب پڑی کتب کی طرف اشارہ کیا اورپوچھا کہ ’’یہ کیا ہے؟‘‘
مولانا نے جواب دیا کہ ’’یہ وہ ہےکہ جس سے تم واقف نہیں ہو‘‘ شمس تبریز نے اشارہ کیااور کتابوں میں آگ لگ گئی۔ مولاناروم نے حیرت سے دریافت کیا کہ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ شمس تبریز نے کہا کہ ’’یہ وہ ہے جس سے تم واقف نہیں ہو‘‘ یہ کہااور محفل سے روانہ ہو گئے۔ اس واقعہ سے مولانا روم کی حالت دگرگوں ہوگئی۔ انہوں نے گھر بار چھوڑا اور شمس تبریز کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ کچھ لوگ بعض اور واقعات بھی سناتے ہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد مولانا روم نے شمس تبریز کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ واقعہ کےمطابق ان دونوں بزرگوں نے صلاح الدین زرکوب کے حجرے میںچالیس روز چلہ کاٹا۔ اس عرصہ میں کھانا پینا بالکل ترک کردیا اور صلاح الدین زرکوب کے علاوہ حجرے میں اور کوئی نہیں جاسکتا تھا۔ اس کے بعدمولانا روم کے حالات بدل گئے۔ پہلے سماع سے پرہیز کرتے تھے اب اس کے بغیر چین نہ آتا تھا۔ مسند تدریس اور فتویٰ نویسی بالکل ترک کردی۔ ایک لمحے کے لئے بھی شمس تبریز سے جدائی گوارا نہ کرتے تھے۔ اس سے اہل شہر میں شمس تبریز کے خلاف شورش برپا ہوئی۔ شمس تبریز قونیہ چھوڑ کر دمشق چلے گئے۔ مولاناروم اس جدائی سے بہت پریشان ہوئے اور انہوںنے شمس کی یاد میں نہایت رقت آمیز شعر کہنا شروع کردیئے۔ دیوان شمس تبریز مولانا کے اسی دور کی یادگار ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت اس کتاب کے چرچے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جویورپ اب شمس تبریز اور مولانا روم کا دیوانہ ہے ہم وہاں اس طرح کے لوگ کیوں نہیں پہنچا پاتے؟ خودہمارے دل اس طرح سے کیوں نہیں پھرتے کہ جس طرح شمس تبریز نے مولانا روم کا دل پھیر دیا؟ ایک روایت تو یہ ہے کہ بُدھی یعنی عقل تین طرح کی ہوتی ہے۔ گھاس بُدھی ، نمدہ بُدھی اور بانس بُدھی ۔ گھاس بُدھی ایسی کہ اگراس کے اندر سوا ڈالا جائے تو اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔نمدہ بُدھی ایسے کہ اس پر اس سوئے کا اثر اتنی دیرہی رہتا ہے کہ جتنی دیر اس کے اندر یہ سوا رہتا ہے اور بانس بُدھی جو سب سے بہتر ہے ایسے کہ بانس کے اوپر کے سر ے کو اگر چھری سے چیرا جائے تو نیچے تک جاتا ہے۔ ہم سب گویا نمدہ بُدھی یا گھاس بُدھی ہیں۔ علامہ اقبال کی طرح یامولانا روم کی طرح بانس بُدھی اب شاید پیدا نہیں ہوتے۔ اگر ایسا ہو پاتا تو ہم میں سے بہت سے مولانا روم ایسے بنتے پھر ہم میں سے ایسے وحشت والے شدت پسند پیدا نہ ہوتے کہ جو معصوموں کا قتل عام کرتے ہوں۔ اللہ کی رحمت بقول علامہ اقبال کے جاری و ساری ہے۔ ہم ہی اس سے دور ہو گئے ہیں۔
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
رہ دکھلائیں کیسے؟ رہرو منزل ہی نہیں
تربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیں
جس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیں
کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں
امتی باعثِ رسوائی پیغمبرؑ ہیں
بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں
تھا براہیمؑ پدر اور پسر آزر ہیں

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں