غالب کی ایک سدا بہار غزل کا سدا بہار شعر ہے ۔
دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے
پندار کاصنم کدہ ویران کئے ہوئے
شاعر کا معاملہ تو عشق سے آن پڑا تھا جو بڑے بڑے سورماؤں کو نچوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ نہ اناسلامت رہتی ہے نہ عزت نفس کا پاس ولحاظ ۔ بار بار اُسی کوئے ملامت کے طواف کو جی چاہتا ہے جہاں سے ذلت و رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ بے بسی اور بے چارگی کی کیفیت ہوتی ہے اور عشق زدہ انسان جانتے بوجھتے اپنے آپ کو فریب دیتا رہتا ہے۔ میر نے یہ بات ذرا سادہ لفظوں میں کہہ دی تھی۔
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
مجھے شاعر کا نام یاد نہیں آرہا لیکن عشق کی بے چارگی کا اظہار کرنے والا کیا عمدہ شعر کہا ہے۔
روز کہتا ہوں نہ گھر جاؤں گا اُس کے لیکن
روز اس کوچے میں اک کام نکل آتا ہے
ہماری سیاست بھی بڑی حدتک عشق کے اجزائے ترکیبی سے عبارت ہے۔ منشور ‘ دستور‘ پروگرام ‘ اصول ‘ نظریات‘ کسی چیز کی کچھ اہمیت نہیں۔چند شخصیات ہیں اور اُن کے عشق میں مبتلا افراد کے ہجوم۔ بعض جگہ تو عشق و عقیدت کا یہ معاملہ اس انتہا کو پہنچ جاتا ہے کہ جمہوری اقدار کی پرچم بردار جماعتیں ”قائد“ کے غدار کو موت کا حقدار قرار دے ڈالتی ہے۔ جس طرح مریدان ارادت کیش کے دلوں میں اپنے اپنے قائد کی مورتی دھری رہتی ہے اور وہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے اس کے سامنے سرجھکاتے رہتے ہیں اسی طرح قائدین کے دلوں میں بھی محبت کا ایک دیا روشن ہوتا ہے جس کی لو کبھی کم کبھی تیز ہوتی رہتی ہے۔
ابھی ملک کو ہمہ نوع مسائل کی دلدل میں پھینکنے والے آمر کو رخصت ہوئے دوسال ہی ہوئے ہیں کہ ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین نے اصلاح احوال کے لئے پھر جی ایچ کیو کے دروازے پر دستک دی ہے اور ”محب وطن“ جرنیلوں کو پکارا ہے کہ آؤ ہمیں اس دلدل سے نکالو۔ بصد احترام عرض ہے کہ قائد تحریک کی تشخیص درست ہوسکتی ہے لیکن اُن کا تجویز کردہ نسخہٴ مسیحائی‘ یقینا محل نظر ہے۔ ایوب خان نامی حکیم جالینوس سے لے کر پرویز مشرف نامی حکیم لقمان تک ‘ ہر ایک اپنے تئیں شفاء الملک تھا لیکن ہر ایک کسی بھی قومی مرض کا مداوا کرنے کے بجائے بیسیوں نئے امراض کی تخم ریزی کرگیا۔
33 برس کے دوران ہمیں اتنی سمجھ توضرور آجانی چاہئے تھی کہ کسی بھی وردی پوش طبیب کے پاس کوئی نسخہٴ شفا نہیں۔سارے نیم حکیم نئے درد ہی دے سکتے ہیں۔ سب ایک سے بڑھ کر ایک وعدائے مسیحائی کے ساتھ نمودار ہوئے۔ ہماری پژمردہ رگوں میں حیات نودوڑانے‘ ہمارے مدقوق چہروں میں عہد جوانی کی رعنائیاں بھرنے‘ ہمارے تھکے ہارے اعصاب کو نئی توانائیاں عطا کرنے کے دلکش دعوے کئے لیکن رخصت ہوئے تو ملک پہلے سے زیادہ بدحال تھا اور قوم پہلے سے کہیں زیادہ نڈھال۔نہ ایوب خان کی معجون مرکب کام آئی‘ نہ یحییٰ خان کا طلسمی جوشاندہ‘ نہ ضیاالحق کا خمیرہ مروارید اور نہ پرویز مشرف کا کشتہ شباب آور ۔ کسی نے دق کے جرثومے تخلیق کئے‘ کسی نے سرطان بویا‘ کسی نے ذیابیطس کا تحفہ دیا‘ کسی نے یرقان کی سوغات عطاکی‘ کسی نے اختلاج قلب کا عطیہ دیا۔ تینتیس برس تک ہم ان نیم حکیموں کے مطب میں جڑی بوٹیوں کی طرح پستے رہے آج اپنے بدن کو ٹٹول ٹٹول کر دیکھ رہے ہیں کہ کوئی عضو سلامت بھی ہے یہ نہیں۔
بہت سرکھپانے کے باوجود میں قائد تحریک کے ارشادات کے معنی و مفہوم کا پوری طرح احاطہ نہیں کرسکا۔ پہلی الجھن تو یہی ہے کہ یکایک ”مارشل لا کی معتوب اور متروک اصطلاح نے کیوں انگڑائی لی اور قائد تحریک کو عین اُس وقت جاگیر داروں اور وڈیرہ ازم پر ضرب کاری لگانے کا خیال کیوں آیا جب ایک چوتھائی پاکستان کمر کمر پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور دو کروڑ انسان حیات وموت کی کشمکش سے دوچار ہیں؟ یہ مرحلہ تو ڈوبتوں کو بچانے ‘ بھوکوں کو کھلانے‘ بے گھروں کو سائبان دینے اور مفلوک الحالوں کی دستگیری کا تھا۔ کوشش ہورہی تھی کہ توجہ اسی ایک نکتے پہ مرکوز رہے لیکن یکایک انقلاب کا سور پھونک دیا گیا اور ”محب وطن جرنیلوں“ سے کہا گیا کہ یہی اُن کی حب الوطنی کے بروئے کار آنے کی گھڑی ہے۔ دوسری الجھن یہ ہے کہ کیا جناب الطاف حسین اب بھی فوج کے زیرنگرانی ایک ماورائے آئین اقدام کو مسائل کا حل خیال کرتے ہیں؟ یہ فوجی بندوبست تو تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ملک کے سیاہ و سفید کا مالک رہا لیکن اس کی فرد عمل میں کوئی ایک بھی ایسا ستارہ نہیں جسے ہم اپنے خوابوں کی مانگ میں سجا سکیں۔ تیسری الجھن یہ ہے کہ جس نظام یا ڈھانچے کو جناب الطاف حسین نے نشانے پہ دھرلیا ہے اور جس ”سپاہ شر“ کے خلاف انہوں نے اپنی شمشیربرہنہ سونت لی ہے‘ وہ خود کیوں اس نظام اور اس ڈھانچے کا حصہ بنے ہوئے ہیں؟ مثلاً انہوں نے امریکہ سے ڈکٹیشن لینے‘ کشکول اٹھانے‘ ملک کی عزت و آبرو بیچنے‘ دیکھتے دیکھتے اربوں اور کھربوں کا مالک بن جانے اور اپنی زمینیں بچانے کے لئے پشتے توڑ کر غریبوں کو غرق کرنے والوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے لیکن اُن کی جماعت سندھ میں بھی ان عناصر کے پہلو بہ پہلو بیٹھی ہے اور مرکز میں بھی اس کا دسترخوان ‘ حصہ بقدر جثہ سے زیادہ پر محیط ہے۔ قائد تحریک نے بڑی درد مندی سے کہا کہ ” 2005ء کے زلزلے کے وقت پاکستان کی اربوں کھربوں کی جو غیر ملکی امداد ملی وہ کہاں گئی؟ اس امداد سے قدرتی آسمانی آفات اور حادثات سے نمٹنے کے لئے حفاظتی مشینری‘ ہیلی کاپٹرز اور امدادی سامان کیوں نہ خریدا گیا“ ۔ اس سوال کا جواب کس سے مانگیں؟ جب اربوں اور کھربوں کی امداد آئی تو مشرف حکمران تھے اور ایم کیو ایم شریک اقتدار تھی۔ ڈھائی سال سے پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اور ایم کیو ایم اُس کی کولیشن کا بھی حصہ ہے۔ پاکستان بھر کی سیاسی جماعتوں میں سے ایم کیو ایم واحد جماعت ہے جو گزشتہ آٹھ سالوں سے مسلسل اقتدار میں ہے۔ اگر یہ اربوں کھربوں لٹ گئے تو ایم کیو ایم کیسے بری الذمہ ہے؟ آٹھ برس سے بارگاہ اقتدار کا حصہ رہتے ہوئے ‘ قائد تحریک نے آنے والی ” جی کیو۔ تیز گام“میں بھی فرسٹ کلاس کی بوگی بُک کرالی ہے۔ ایم کیو ایم کو یہ اعزاز حاصل ہو گیا ہے کہ وہ کسی متوقع مارشل لائی حکومت کا دست وبازو بننے کا پیشگی اعلان کرنے والی پہلی جماعت بن گئی ہے۔ اگرچہ ایک ٹی وی پروگرام میں عمران خان نے بھی کہہ دیا ہے کہ ”فوج استحکام پاکستان کی خاطر آتی ہے تو سو بسم الله“ لیکن ان کی سو بسم الله میں بہر حال وہ والہانہ پن اور جلال و جال نہیں جو الطاف بھائی کی للکار میں ہے۔
ہولے ہولے بات کھل جائے گی کہ اس للکار کا پس منظر ‘ پیش منظر اور تہہ منظر کیا ہے ؟ لیکن سیلاب کی پیچ و تاب کھاتی بے رحم موجوں کے متوازی ایک طوفان ضرور اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ پرویز مشرف کی رخصتی کے بعد چوڑیاں توڑ ڈالنے اور مانگ میں راکھ بھر لینے والی ”بیوائیں“ پھر سے سرمہ دنداسہ کرنے لگی ہیں۔ 1999ء کے مارشل لاء کاخیر مقدم کرنے اور ریفرنڈم کے پھریرے لہرانے والوں کے پھیپھڑوں میں نعروں کی پھوک”بھرنے لگی ہے۔ ووٹ کے ذریعے ساری عمر اقتدار کی شاداب چراگاہ تک نہ پہنچ پانے والے تصور ہی تصور میں جگالی کرنے لگے ہیں۔ سیلاب زدگان کی آڑ میں عوامی انقلاب اور محب وطن جرنیلوں کے نام پر ایک نیا سرکس لگ گیا ہے۔ اور موج درموج بکھری ہوئی قوم کے رہے سہے پشتوں میں شگاف ڈالنے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔
کیا پاکستان کے گوناگوں مسائل کا حل واقعی کسی بندوق بدست جرنیلی ٹولے کی معرکہ آرائی میں ہے؟(جاری ہے)