آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی سیاست میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے ، اس پر محفوظ تبصرہ کرتے ہوئے صرف افسوس کا ا ظہار کیا جا سکتا ہے ۔ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک شہر پر سیاسی بالادستی قائم رکھنے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کا شیرازہ بکھر گیا ہے اور منطقی طور پر ایسا ہی ہونا تھا ۔ اسکے بعد یہ شہر سیاسی طور پر ’’ بے سمت ‘‘ ہو گیا ہے ۔ اگرچہ عروس البلاد کراچی پہلے جس سمت جا رہا تھا ، وہ بھی درست نہیں تھی ۔ آج کراچی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ’’ ڈی ٹریک ‘‘ ہونے والے اس شہر کو واپس ’’ ٹریک ‘‘ پر ڈالنے کیلئے نہ تو کوئی سوچ رہا ہے اور نہ کوئی ’’ وژن ‘‘ ہے ۔ ایم کیو ایم کے ایک دھڑے یعنی ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار اور دوسرے دھڑے کے سربراہ مصطفی کمال جو کچھ کر رہے ہیں یا کراچی میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو پر کرنے کی کوشش میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے راتوں رات جس طرح سیاسی جماعتوں کا اتحاد قائم کر لیا ہے ، یہ اس شہر کے سیاسی المیہ کا ایک نمونہ ہے حالانکہ کراچی والوں کا اتحاد امن اور ترقی کے لئے ضروری ہے۔
1970 ء کی دہائی تک جو کراچی شہر تھا ، اس شہر کی کوئی خصوصیت باقی نہیں رہنے دی گئی ہے کراچی میں بسنے والے جمہوری اور فکری تحریکوں کا اہم حصہ رہے ہیں اگر چہ اس شہر میں رجعتی

تحریکیں بھی چلتی رہی ہیں لیکن 1970 ء کی دہائی تک یہ شہر جمہوری ، ترقی پسند اور روشن خیال حلقوں کے زیر اثر رہا ۔ 70 ء کی دہائی تک یہ شہر نہ صرف پاکستان کی سیاسی قیادت کرتا تھا بلکہ یہ ملک کو ایشوز دیتا تھا ۔ نظریاتی اور فکری مباحث کے سوتے یہیں سے پھوٹتے تھے ۔ یہ شہرادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز اور پاکستان کا چہرہ تھا ۔ شہر کی قیادت مڈل کلاس باشعور سیاسی کارکنوں اور اہل دانش کے پاس تھی ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کراچی جنوب مشرقی ایشیا ء کے شہروں میں امیر ترین شہر اور تجارت و ثقافت کا مرکز تھا ۔ اس خطے کی سب سے مصروف ترین بندرگاہ اور ایئرپورٹ کراچی کے تھے ۔ پورے ملک میں کراچی کا بیانیہ چلتا تھا ۔ ملک کی ترقی کا راستہ کراچی سے جاتا تھا۔سیاسی کارکن کے طور پر ہم کوکراچی کے قائدانہ کردار پر فخر ہوتا تھا لیکن پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کا کراچی کے بارے میں جو وژن تھا ، اس نے کراچی کی اہمیت کے بارے میں ہماری آنکھیں کھول دیں ۔ وہ نہ صرف کراچی کو پاکستان بلکہ اس خطے کا ’’ اکنامک پاور ہاؤس ‘‘ بنانا چاہتے تھے ۔ دبئی اور ہانگ کانگ بعد میں جو کچھ بنے ، وہ کراچی کے بارے میں بھٹو کے وژن سے ماخوذ تصورات کا نتیجہ ہیں ۔ بھٹو کراچی کو وہ بنانا چاہتے تھے ، جو آج سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے ذہن میں ایک نیا شہر آیا ہے ۔ کراچی میں ایسا شہر بننے کی صلاحیت پہلے سے موجود تھی ۔ بھٹو کا اگرچہ پورے پاکستان کو ایک بڑی اقتصادی طاقت بنانے کا وژن تھا لیکن بھٹو کے ذہن میں پاکستان کی گاڑی کو چلانے والا انجن کراچی تھا ۔ بحرانوں اور محدود وسائل کے باوجود بھٹو نے کراچی کے انفرا سٹرکچر کی تعمیر کے نئے آئیڈیاز پر کام شروع کیا اور یہاں صنعتوں کو جنم دینے والی صنعت ’’ اسٹیل مل ‘‘ لگائی ۔ 70 ء کی دہائی میں اس شہر کی فی کس آمدنی اس خطے کے تمام بڑے شہروں بشمول ٹوکیو ، بیجنگ اور ممبئی وغیرہ سے زیادہ تھی۔
آئیے بیٹھ کر ذراحساب لگائیں ۔ 70 ء کی دہائی کے بعد اس شہر کو کہاں پہنچا دیا گیا ۔ خطے کا امیر ترین اور غریب پرور شہر کراچی آج غریبوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔ کراچی کی کچی اور گنجان آبادیوں میں رہنے والوں کی اکثریت پاکستان کے دور افتادہ اور پسماندہ دیہی علاقوں میں رہنے والی اکثریت سے بھی زیادہ غریب ہو گئی ہے ۔ یہاں کے قبرستان بے گناہ مقتولین سے بھرے ہوئے ہیں ۔ یہاں اس قدر انسانی خون بہایا گیا ہے کہ فضاء میں درد ناک نغمے سنائی دیتے ہیں اور لوگ ہنستے بھی ہیں تو چہروں پر ہنسی جچتی نہیں ہے ۔ 70 ء کی دہائی کے بعد یہاں لاکھوں انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا ۔ لاکھوں بچے یتیم ہوئے اور خواتین بیوہ ہوئیں ۔ ماتم اور بین کے ماحول میں پروان چڑھنے والے بچے اب جوان ہو چکے ہیں ۔ کراچی میں مایوس اور مغموم نوجوانوں کی ایک نسل کی آنکھوں میں جو سوالات ہیں ، ان کے جوابات کسی کے پاس نہیں ہیں ۔ غربت اور مایوسی کے ساتھ ساتھ شہر کی تباہ حالی نے بھی لوگوں کے مصائب میں اضافہ کر دیا ہے ۔ کراچی کا ایک بین الاقوامی شہر کی حیثیت سے ایک خوش چہرہ ختم ہو گیا ہے بلکہ یہ شہر قابل انتظام بھی نہیں رہا ہے ۔ سندھ کے حکمراں لاتعلق ہیں۔ کراچی کا کوئی اونر نہیں ہے۔ شہر کے تمام ادارے سفارشی اور سیاسی بھرتیوں کی وجہ سے برباد ہو گئے ہیں ۔ سندھ حکومت بھی اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی کیونکہ 1970 ء کی دہائی کے بعد سندھ کو دیہی اور شہری ( لائن ) پر تقسیم کر دیا گیا ۔ یہ سندھ کی سیاست کی ’’ فالٹ لائن ‘‘ ہے ۔ شہری سندھ کے حقوق کے تحفظ کے دعوے داروں نے شہری علاقوں کو اور دیہی سندھ کے حقوق کے دعویداروں نے دیہی سندھ کو لوٹا ۔ لوٹ مار کی اس دولت سے نئے دیہی اور شہری سیاسی وڈیرے یا یوں کہنا بہتر ہو گا کہ سیاسی بادشاہ پیدا ہو گئے ۔
کراچی کو تباہ کرنے اور سیاسی طور پر بے سمت کرنے کے اسباب پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ۔ اس حوالے سے پاکستان کی غیر جمہوری قوتوں اور بین الاقوامی طاقتوں کے منصوبوں کو ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کر دیا گیا ہے ۔ یہ بھی اب راز نہیں رہا کہ کراچی میں بہنے والے خون سے اس خطے میں بڑے شہر اور اقتصادی مراکز تعمیر ہوئے ۔ آج ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کہتے ہیں کہ ’’ انجینئرڈ ‘‘ یعنی خفیہ طاقتوں کی تدبیر والی سیاست اب نہیں چلے گی لیکن ڈاکٹر فاروق ستار کو یہ بھی کہنا چاہئے کہ 1970ء کی دہائی کے بعد خصوصاً پاکستان قومی اتحاد ( پی این اے ) کی تحریک سے کراچی میں شروع ہونیوالی رجعتی اور انجینئرڈ سیاست کو تو پہلے دفن ہونا چاہئے ، جس نے کراچی پر نسل پرستی کا لیبل لگا دیا ہے اگرچہ اس عرصے میں بھی کراچی میں تحریک بحالی جمہوریت ( ایم آر ڈی ) کے تحت لوگوں نے پورے ملک سے زیادہ گرفتاریاں دیں اور کراچی کی اصل شناخت بحال کرنے کی کوشش کی لیکن ایم آرڈ ی کے بعد کراچی میں جو خونریزی میں زیادہ شدت آ گئی اور کراچی صرف انجینئرڈ سیاست کے ہاتھوں یرغمال بن گیا ۔
اس وقت کراچی میں پیدا ہونے والے سیاسی خلاء کو پر کرنے کیلئے مختلف سیاسی ، مذہبی ، لسانی اور قوم پرست جماعتیں جو کوششیں بھی کر رہی ہیں ، ان کوششوں کا کوئی وژن نہیں ہے ۔ ان کوششوں سے نہ کراچی کے عذاب ختم ہوں گے ، نہ ہی کراچی کے خلاف ملکی اور غیر ملکی طاقتوں کے منصوبے ختم ہوں گے اور نہ ہی کراچی میں انجینئرڈ سیاست ختم ہو گی کیونکہ کراچی کے خلاف سازشیں کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ تباہی و بربادی کی راکھ میں بھی وہ بیج موجود ہیں ، جن میں کراچی کو اس خطے کا اکنامک پاور ہاؤس بنانے کا جوہر یا جین موجود ہے ۔ بدامنی کی آگ بجھتے ہی یہ بیج فوراً نمو ہو سکتا ہے ۔ ڈھائی کروڑ سے زیادہ آبادی کا شہر ہے ۔ یہاں کی سیاست پر مستقبل میں قبضہ کرنے کی خواہش رکھنے والوں کو یہ اندازہ ہی نہیں ہے کہ دنیا بہت بڑی تبدیلیوں کی زد میں ہے ۔ تبدیلیوں کے یہ طوفان کراچی میں بدامنی کی آگ کو دوبارہ بھڑکا سکتے ہیں ، جسے بجھانے والوں نے جان بوجھ کر پورا نہیں بجھایا ہے ۔ دنیا بھر کے ملکوں میں ان کے منصوبہ ساز ماہرین اقتصادیات اور پولیٹیکل اسٹرٹیجیسٹ یعنی سیاسی حکمت عملی کے ماہرین رات دن اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ان تبدیلیوں سے کیسے نبرد آزما ہوا جائے ۔ جس طرح ایم کیو ایم کے مختلف دھڑے جنرل پرویز مشرف اور دیگر مختلف سیاسی و مذہبی جماعتیں کراچی میں سیاسی اتحاد بنانے اور توڑنے کی مشق کر رہی ہیں ۔ یہ مشق کارگر ثابت نہیں ہو گی ۔ سیاسی اتحاد افراد کے درمیان نہیں بلکہ سیاسی نظریات کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔ کراچی میں 1970ء کی دہائی کے بعد کی سیاست اب نہیں چلے گی ۔ چاہے وہ انجینئرڈ ہو یا نان انجینئرڈ ۔ کراچی والوں کو اب سرجوڑ کر بیٹھنا ہو گا ۔ کراچی کو اس خطے کی اقتصادی طاقت بنانے اور اس کے ذریعے نئے پاکستان کی تعمیر کیلئے کراچی کے سیاست دانوں کو اپنا واضح پروگرام مرتب کرنا ہو گا ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کراچی کے عوام کو سوچنا ہو گا اور چار عشروں سے جاری عذاب سے نکلنے کیلئے اپنی فکر بدلنا ہو گی ۔ اب پانی گردن تک آ گیا ہے ۔ اب کراچی والوں کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں