آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لیجئے ایک اور کلاس کا ذکر ہو گیا جسے میں پڑھارہا تھا۔ جب میں نے سعید اختر مرزا کی فلم کے حوالے سے بات شروع کی تو تقریباً تمام ہی طلبہ نےجواب یہ دیا کہ انہیں نہیں معلوم کہ ’’البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے‘‘۔ اس لئے کہ فلم انہوں نے دیکھی ہی نہ تھی۔ شاید یہ فلم میرے اکثر قارئین نے بھی نہ دیکھی ہو تو بھائیو! اسے ضرور دیکھیں۔ سعید اختر مرزا اپنی تمام فلموں کی طرح اس فلم میں بھی ایسے سماجی مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں جنہیں جاننا ازحد ضروری ہے۔ ’’موہن جوشی حاضر ہو‘‘ ، ’’جانے بھی دو یارو‘‘ اور ’’سلیم لنگڑے پہ مت رو‘‘ اپنے اچھوتے ٹائٹلز اور منفردانداز کی وجہ سے ناقدین کی پسندیدہ فلمیں رہی ہیں۔ ’’’’البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے‘‘کو بھی 1981میں فلم فیئر کا Critics Award For Best Film مل چکا ہے۔
اب آیئے اس طرف کہ میں نے آج خاص طور پر اس فلم سے اپنے کالم کا آغاز کیوں کیا ہے؟ آپ نے سنسر بورڈ کے ہاتھوں ’’ورنہ‘‘ پر اعتراض تو سن ہی لئے ہوں گے اور جانتے ہوں گے کہ فوزیہ سعید کو غصہ کیوں آتا ہے؟لیکن ہم شاید اب تک یہ نہیں جان پائے کہ حسن نثار، یاسر پیرزادہ، منو بھائی، غازی صلاح الدین اور حمزہ کو غصہ کیوں آتا ہے۔ غازی صاحب تو نرم مزاج کے آدمی ہیں ان کا غصہ رنج کی شکل اختیار کر جاتا ہے جس کا اظہار گاہےگاہے وہ اپنے

کالم میں کرتے رہتے ہیں۔ حمزہ کے غصے کے ذکر سے کہیں آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ میں خدانخواستہ حمزہ شہباز شریف کے غصے کا ذکر کر رہا ہوں۔ ان جیسے سرمایہ دارحضرات جن کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں، انہیں غصہ آنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ دراصل ان ہی لوگوں کی کارستانی ہے جس کی وجہ سے حمزہ عبدالرئوف اور مجھ ایسے کروڑوں لوگ غصے کا شکار رہتے ہیں اور شاید جب تک ان سرمایہ داروں کا سر کڑاہی میں نہیں دیا جائے گا، ہمارا غصہ کم نہیں ہوگا۔ ایسے بڑے سرمایہ داروں کے ظلم کے خلاف ایک اظہار تو شعیب منصور نے کردیا ہے۔
اب رہا ذکر حمزہ اورمیرے غصے کا، آپ ذرا فلم ’’ورنہ‘‘ کے بارے میں جانیں کہ ایک ایسی فلم جو ایک بڑے آدمی کے ہاتھوں ایک عام لڑکی کے ریپ کے موضوع پر بنائی گئی ہے اور جس پر ملک بھر میں پھیلی خواتین کی کئی تنظیمیں یہ کہہ رہی ہیں کہ اس طرح سے اس مسئلہ کو اجاگر کرنا ایک بڑا کام ہے۔ اس پر جب ہمارے سنسر بورڈ نے اعتراضات اٹھائے اور اسے بین کرنے کا پروگرام بنایا تو سبھی ناراض ہوئے۔ خواتین کے ساتھ زبردستی اور زیادتی ہمارے وڈیرہ کلچر میں عام ہے۔ انہیں اس پر انصاف نہیں ملتا۔ ہمارے قوانین اس بارے میں بے بس ہیں۔ عام آدمی ہی اس پر آواز نہیں اٹھاتا۔ رہی سہی کسر ہمارامیڈیاپوری کردیتا ہے۔
ایک زمانہ تھا لوگ کہتے تھے کہ انسان کی بقا اورتربیت کے لئے ضروری ہے کہ میڈیا سوشل ایشوز کو ایک مشن کی طرح اٹھائے۔ کیمپین کی صورت میں ان پیغامات کو تسلسل سے نشرکرے۔ حکومتوں کو مجبور کردے کہ وہ اپنی توجہ ان مسائل کی طرف کریں جو اصل مسائل ہیں۔ اس حوالے سے میں مشتاق احمدیوسفی صاحب کی ایک تحریر کےکچھ حصے یہاں نقل کرتاہوں۔
’’میں نے لندن کے اخباروں میں پڑھا کہ برطانیہ کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک غریب اور بیروزگار آدمی کا بچہ لاپتہ ہو گیا ہے۔ دو دن تک اس قصبے کے تمام چھوٹے بڑے سارا کام چھوڑ کر صبح سے شام تک بچے کی تلاش میں سرکرداں رہے۔مقامی پولیس کے علاوہ دوسرے ضلعوں کی پولیس بھی سینکڑوں کی تعدادمیں تفتیش اور تلاش میں شریک ہوگئی۔ دو دن تک قومی اخبارات میں ریڈیو اورٹی وی پر ایک غریب آدمی کے بچے کی گمشدگی کو پرائم ٹائم میں مفصل کوریج دی گئی۔ اسی طرح پچھلے دنوں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں نرسوں کی کمی کے باعث ایک عام شہری کی تین چار ماہ کی بچی کے دل کا آپریشن کئی ہفتوں تک ملتوی ہوتارہا۔ اس پر اخبارات اور بی بی سی، جو حکومت کااپنا ادارہ ہے، نے اس مسئلہ کو خوب اجاگر کیا۔ عدالت میں مقدمہ درج کرنا پڑا۔ پارلیمنٹ میں بحث ہوئی۔ پبلک دبائو اتنا بڑھا کہ دو دن بعد بچی کاآپریشن کرنا پڑا۔ مذکورہ بالا دونوں سانحوں میں پوری قوم غریب آدمی کے دکھ دردمیں شریک اور مضطرب رہی۔ کسی نے یہ نہیں پوچھاکہ وہ بچہ انگلش بولتاہے یا اسکاٹش، رومن کیتھولک ہے یا پروٹیسٹنٹ۔ لیبر پارٹی سےہے یا نہیں۔ کہیں آئرش تو نہیں۔ ایک لمحے کےلئے بھی اس کی سماجی یا معاشی حیثیت اس کے بنیادی استحقاق میں حارج نہیںہوئی۔ اب اس کا موازنہ ایک ہی لمحےمیںوطن عزیز کے حالات سے کیجئے۔ یہاں ہم روزانہ لسانی،گروہی اور صوبائی چپقلش اور تصادم کی خبریں، حادثات، واقعات اور قابل علاج بیماریوں میں انسانی جانوں کے اتلاف کی رپورٹیں پڑھتے ہیں اور پھر دوبارہ اپنے روز کے مشغولات میں مصروف ہوجاتے ہیں۔‘‘
اس سب کو اگر دیکھیں توہمارا معاشرہ بھی بے حس ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ جس میڈیا کی ذمہ داری پبلک کو جگانے کی ہونی چاہئے وہ اس سے بھی زیادہ بے حس ہے۔اس کی ایک وجہ جیسا کہ میں نے اوپر لکھا بعض لوگ ہیں جنہیںصرف اور صرف ریٹنگ اور کمائی کی فکر ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں۔ ان عوام کے ساتھ وہ عوامی نمائندے جو میڈیا میں اسوقت نامعلوم کس طرح کی جگالی کررہے ہیں ان کی اکثریت اب ایسے اداروں سےآتی ہے جہاںوہ تعلیم کے نام پر جہالت سیکھ کر آرہےہیں۔اس کی ایک مثال ایک یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق ہے جس کے مطابق وہاں پی ایچ ڈی اور ایم فل کے داخلے اس بنیاد پر منسوخ کئے گئے کہ ان میں داخلے کے لئے آنے والے تمام طالب علم فیل ہو گئےتھے ۔ ان شعبوں میں سے خاص طور پر شعبہ ابلاغیات کا نام آتا ہے جہاںبے ایمانی کے ذریعے پی ایچ ڈی کے تمام امیدواروں کوفیل ہونے پراضافی نمبر دیئےگئے۔ اس کااعتراف ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ میں بھی کیاگیاہے۔ اسی طرح سے ایم فل کے داخلوں میںبھی امیدوار فیل ہوگئے اور انہیں داخلے کے لئے اضافی نمبر دیئےگئے۔ جب میڈیا پر نمائندگی کرنے والے اس طرح کے اداروں سے نکلیں گےتو آپ خود ہی سوچ لیں کہ پھر حال کیاہوگا اور حال ایسا ہی ہے۔،ہمارے میڈیا پر نمائندگی کرنے والےحضرات و خواتین خود بھی اصل انسانی المیوںسےبے خبرہیں۔ انہیں بھی صرف اپنی ریٹنگ بڑھانے کی فکرہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں