آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں نیا سال شروع ہونے کے بعد یکم جنوری 2018ء کو صبح اپنا پہلا ٹوئٹ پاکستان کے بارے میں جاری کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پاکستان کو 15سال میں 33؍ارب ڈالرز کی امداد دی گئی لیکن پاکستان نے اس امریکی امداد کے جواب میں امریکہ کو جھوٹ اور دھوکہ دیا۔ دہشت گردوں کے خلاف افغانستان میں امریکی جنگ کے ان 15سالوں کے دوران پاکستان نے امریکہ سے بہت کم تعاون کیا بلکہ جن دہشت گردوں کو امریکہ افغانستان میں تلاش کرتا رہا انہیں پاکستان نے اپنے ہاں پناہ گاہیں فراہم کیں اور پاکستان کو 33؍ارب ڈالرز کی امریکی امداد کی فراہمی کا فیصلہ کرنے والے امریکی قائدین کے اس فیصلے کو بے وقوفی اور حماقت قرار دیا۔ پاکستان سے ’’ڈومور‘‘ کے مطالبہ کی بجائے ٹرمپ نے امریکہ کی جانب سے آئندہ کے لئے ’’نومور‘‘ کا اعلان کردیا۔ صدر ٹرمپ کے اس توہین آمیز اور حقائق سے متضاد ٹوئٹ نے پاکستان تک پہنچتے ہی ایک تازیانے کا کام کیا۔ باہم دست و گریبان سیاستداں اپنا موضوع اور لب و لہجہ تبدیل کرکے امریکی صدرکے اس ٹوئٹ کی مذمت کرنے پر مشترکہ موقف اختیار کرتے نظر آئے گوکہ صدرٹرمپ کا یہ ٹوئٹ زمینی حقائق، امریکی ریکارڈ اور امریکی لیڈر شپ کے موقف سے متضاد ہے اور غلط بیانی پر مبنی ہے لیکن اس ٹوئٹ نے یہ حقیقت واضح کردی کہ 2018ء کے نئے سال میں پاک۔ امریکہ تعلقات میں میں کشیدگی ہوگی اور جنوبی ایشیا میں بھی بھارت۔ امریکی اشتراک سے ایٹمی پاکستان کے لئے چیلنجز درپیش ہوں گے۔ اس ٹوئٹ نے پاکستان میں باہم دست و گریبان اور سیاسی انتشار میں الجھے ہوئے پاکستانی سیاست دانوں کو بھی بیرونی خطرات سے الرٹ کرکے اس طرف متوجہ کردیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے اس ٹوئٹ میں 33؍ارب ڈالرز کی امریکی امداد کا ذکرکیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 14؍ارب 50؍کروڑ ڈالرز کی رقم تو وہ ہے جو امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاکستان نے اسلحہ اور دیگر ضروریات پر اپنے وسائل سے خرچ کی۔ اس کے حسابات امریکی حکام کو پیش کئے گئے تفصیلی آڈٹ اور کٹوتیوں کے بعد یہ رقم امریکی کانگریس نے منظور کی تو امریکی انتظامیہ نے ریلیز کر کے وہ تمام پاکستانی اخراجات ریفنڈ کئے۔ ایک سمجھوتہ کے تحت یہ ادائیگی کولیشن سپورٹ فنڈ سے دراصل ان اخراجات کی واپسی تھی جو پاکستان پہلے ہی امریکی جنگ میں خرچ کرچکا تھا باقی 19؍ارب ڈالرز کی امریکی امداد کانگریس کی منظوری اور دیگر مراحل سے گزر کر جن شرائط اور مطالبات کے ساتھ قسطوں میں ملی ہے وہ ایک تفصیلی تجزیہ کی طالب ہے اور ہاں! انہی 15؍سالوں میں افغانستان میں 900؍ارب ڈالرز سے لے کر 1.2؍ٹرلین ڈالرز کے خرچ اور ایک لاکھ سے زائد امریکی فوجیوں کے قیام افغانستان کے باوجود امریکہ کی ناکامی کا تکلیف دہ ذکر علیحدہ ہے۔ امریکی تاریخ کی سب سے طویل جدید اور مہنگی جنگ کے باوجود افغانستان میں امریکی مقاصد کے حصول میں ناکامی کا الزام پاکستان پر ڈالنا اور پھرپاکستان سے ان مقاصد کے حصول کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔ صدر ٹرمپ یہ بھی بھول رہے ہیں کہ یورپ کے ممالک میں امریکی خفیہ جیلوں اور گوانتاموبے کی جیل میں کتنے ہی انتہائی اہم دہشت گرد پاکستان کی مدد اور تعاون سے گرفتار ہوکر پہنچے۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور متعدد امریکی جنرلوں اور اعلٰیٰ حکام کے وہ تمام بیانات ریکارڈ پر ہیں جو انہوں نے امریکی سینیٹ کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے حلف اٹھا کر دئیے اور پاکستان کی قربانیوں، نقصانات اور امریکہ سے مثالی تعاون کا اعتراف بھی کیا۔ ٹرمپ کا یہ ٹوئٹ پاکستان کے ان ارباب اختیار اور فیصلہ ساز حکمرانوں کی عقل، بصیرت اور دانش کی پول بھی کھول دیتا ہے جنہوں نے صرف آٹھ منٹ کی فون کال پر پاکستان کی سرزمین، فضا اور تمام وسائل امریکی فوج کے قدموں میں لا کر ڈال دئیے تھے۔ اور صرف اپنے اقتدار کو طویل اور محفوظ بنانے کے لئے پاکستان کی ہر چیز کو دائو پر لگادیا اور اس کا صلہ صدر ٹرمپ کی ٹوئٹ کی صورت میں ملا ہے۔ 15؍سال میں 19؍ارب کی امداد کے لئے پاکستان کی سلامتی جغرافیہ، امن، معیشت اور معاشرت کی تباہی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لئے 120؍ارب ڈالرز کا نقصان بھی برداشت کیا۔ پاکستانی آمروں کے شخصی فیصلے حماقت تھے جن کی وجہ سے پاکستان کو سیٹو، سینٹو کے فوجی معاہدوں کے جال میں پھنسا لیا گیا۔ بڈھبیر کے خفیہ ائیر بیس کو روس کی جاسوسی کے لئے استعمال کیا گیا۔ مگر جب پاکستان کو اپنی سلامتی کے لئے ان معاہدوں پر عمل کی ضرورت پڑی تو پاکستان کو مختلف تشریحات و تاویلات دے کر تنہا چھوڑ دیا گیا۔
صدر ٹرمپ کی صدارتی امیدواری کے دوران ہی واضح ہوگیا تھا کہ جنوبی ایشیا میں ان کی حکمت عملی کے خدوخال کیا ہوں گے ان کے صدر بننے کے بعد کے بیانات بھی پاکستانی فیصلہ سازی اورسفارت کاری کرنے والوں کو بتا رہے تھے کہ ٹرمپ کا جھکائو پاکستان کے لئے نہیں بلکہ بھارت کے لئے ہوگا۔ لیکن ہمارے پالیسی سازوں نے اس جانب دھیان دینے اور حکمت عملی وضع کرنے پر توجہ نہیں دی ٹرمپ کے فوجی اور سویلین مشیروں اور وزیروں نے جب جنوبی ایشیا کے بارے میں پالیسی کا فریم ورک تیار کرلیا۔ تو پھر ہم نے توجہ دی 70؍سال تک امریکہ پر مکمل انحصار کی حکمت عملی کے باوجود پاکستان پر امریکی پابندیوں کانفاذ ہوا تو ہم نے پہلو بدل کر چین پر مکمل انحصار کی پالیسی اپنالی۔ بہرحال بھارت۔ امریکہ الائنس اور پاکستان پر افغانستان میں امریکی ناکامی کی ذمہ داری ڈالنے کے امریکی رجحان نے پاکستانی قیادت کو سوچنے پر مجبورکردیا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر بھارت سمیت پاکستان مخالفین کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ ادھر پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت بھی صلاح مشوروں میں مصروف ہے۔ اپوزیشن کے رہنمائوں کو بھی مشورہ اور موقف کی گنجائش فراہم کرنا لازمی ہے۔ردعمل اور جوابی موقف اگر قومی اتفاق اور سوچ کا مظہر ہوتو بہتر ہے۔ چین، روس اور دیگر ملکوں کے ساتھ ڈائیلاگ سفارت کاری اور مشوروں کی ضرورت ہے تاکہ صورت حال کے بارے میں ایک دوسرے کے مفادات کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ پڑوسی ایران میں بھی صورت حال مخدوش ہے۔ بلوچستان میں غیرملکی مداخلت کاروں کی موجودگی کی باتیں ہورہی ہیں۔ پاکستان سمیت اس پورے خطے میں تصادم اور انتشار کے ماحول کوہوا دی جارہی ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس ٹوئٹ پر نہ تو کسی منہ توڑ جواب کی ضرورت ہے اور نہ ہی شمالی کوریا کا انداز اپنانے کی ضرورت ہے نہ ہی کوئی معذرت خواہی کا رویہ اپنانا چاہئے۔ بلکہ ایک ذمہ دار اور متوازن انداز اختیار کرکے مدلل انداز میں حقائق پر مبنی ردعمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ داعش اور دہشت گردوں کے افغانستان میں اجتماعات اور سرگرمیوں کے بارے میں دنیا کو پہلے سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اپنے تمام تر سیکورٹی وسائل کی مربوط پلاننگ اور سیکورٹی انتظامات کی ضرورت یوں ہے کہ مخالف قوتیں ایٹمی اثاثوںپر نظریں مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ پاکستانی سیاستداں ذاتی سیاست اور مقاصد کو فی الوقت نظرانداز کرکے قومی وحدت کے ساتھ اس چیلنج کو نمٹائیں تمام فوجی اور سویلین قیادت مل کر قومی بقا و سلامتی کیلئے رول ادا کریں۔ امریکہ عالمی سپرپاور ہے اور اس کا خطے میں نیا اتحادی بھارت بھی ایک بڑی طاقت اور پاکستان کا ازلی دشمن ہے جو ماضی میں برصغیر کی تقسیم کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ نئے سال میں پاکستان کو مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن پاکستان ایک متحد قوم اور متحد ایکشن کے ذریعے اپنے مسائل و مشکلات کا بہادری سے سامنا کرسکتا ہے۔

 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں