سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی نیب ترمیمی بل 2026 کثرت رائے سے منظور کرلیا، بل رکن قومی اسمبلی مہ جبین نے پیش کیا، اپوزیشن نے نیب ترمیمی بل کی مخالفت کی۔
سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد نیب ترمیمی بل 2026 صدر مملکت کو اب دستخطوں کیلئے بھیجا جائے گا، نیب چیئرمین کی مدت ملازمت 3 سال سے بڑھانے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔
وفاقی حکومت کو چیئرمین نیب کی مدت میں مزید 3 سال توسیع کا اختیار دینے کی تجویز بھی شامل ہے، احتساب عدالتوں کے دائرہ اختیار میں اپیلوں کو شامل کرنے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔
احتساب عدالت اور ہائی کورٹ کو ملزم کی ضمانت کا واضح اختیار دینے کی تجویز موجود ہے، فوجداری ضابطہ کی متعلقہ دفعات کے تحت ضمانت یا رہائی کا اختیار دیا جائے گا، نیب کیسز میں ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف دوسری اپیل کی اجازت دینے کی تجویز بھی دی گئی، جس کے مطابق ہائی کورٹ فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں دوسری اپیل دائر ہو سکے گی، دوسری اپیل دائر کرنے کیلئے 30 دن کی مدت مقرر کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔
بل کے متن میں نیب مقدمات میں مالی حد ہر سال مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کی تجویز دی گئی، پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے انفلیشن انڈیکس کے مطابق مالی حد مقرر ہوگی۔
خیال رہے کہ مہ جبین عباسی نے نیب ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ترمیم ہے کہ نیب اگر کسی سربراہ کے ماتحت اچھا کام کرتی ہے تو مدت ملازمت بڑھائی جائے، پارلیمان میں قانون سازی کے ذریعےآئینی عدالت کو دو اپیلوں کا اختیار دیا گیا ہے۔
جمعیت علماء اسلام ف کی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے کہا کہ چیئرمین نیب تعیناتی سے متعلق شق میثاق جمہوریت کے خلاف ہے، یہ لوگ تو نیب ختم کرنے جا رہے تھے اب نظریات بدل گئے ہیں؟ یہاں پر سپریم کورٹ کو مائنس کرکے اپیل کا حق آئینی عدالت کے حوالے کیا جا رہا ہے۔