آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات5؍ ربیع الثانی 1440ھ 13؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Should Be Worried About Bad Relations With World Eddie Bernice Johnson

امریکی کانگریس میں گزشتہ 25سالوں سے منتخب ہونے والی رکن کانگریس اور کانگریس میں پاکستان کاکس کی رکن ایڈی برنیس جانس نے کہا ہے کہ امریکا کے دنیا کے ساتھ خراب ہوتے تعلقات پر سب کو تشویش لاحق ہے۔

ڈیلس میں جنگ اور جیو نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں انکا کہنا تھا کہ 2010 کے انتخابات میں منفی رحجان رکھنے والی شخصیات انتخاب کے ذریعہ سامنے آئیں تاہم امریکی کانگریس میں ایسے اراکین کی کافی تعداد موجود ہے جو پاکستان سے بہتر تعلقات چاہتی ہے۔

ایڈی برنیس جانس کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں خود بھی کافی کوششیں کی ہیں کہ دونوں ملکوں کے قانون ساز اداروں میں موجود اراکین کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو فروغ دیا جائے اور کانگریس میں موجود پاکستانی کاکس بھی متحرک ہو لیکن ابھی تک اس کے خاطر خواہ مثبت اثرات سامنے نہیں آ سکے ہیں، اس ضمن میں اگر پاکستانی کاکس مزید متحرک ہو گا تو یقیناً اس کے بہتر نتائج بھی سامنے آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عام طور پر ایسے اراکین کی اچھی تعداد ہے جن سے میری بات ہوتی ہے وہ تمام پاکستان سے مثبت تعلقات کے خواہاں ہیں کیونکہ کافی پاکستانی امریکامیں بزنس لیڈر بھی ہیں جو کہ اس امریکی معاشرےکا حصہ ہیں اور وہ پاکستان چھوڑ کر امریکا میں آباد ہوئے اور یہاں کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں کافی مسائل کا سامنا ہے اس لیے اس ضمن میں مزید پیش رفت نہیں ہو سکی ہے تاہم میں یہاں رہنے والی کمیونٹی کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتی۔انہوں نے کہا کہ میں نے حال ہی میں کانگریس کے اکثریتی ہائوس لیڈر سے بات بھی کی ہے کہ دونوں ممالک کے قانون سازوں کے درمیان دو طرفہ مذاکرات اور بات چیت ہو سکے تاکہ اس کے مثبت نتائج سامنے آ سکیں اور کانگریس کے ذریعہ ہم بہتری لا سکیں۔

ایڈی برنیس جانس کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ کانگریس میں انتہائی تجربہ کار اراکین موجود ہیں جو کہ کئی سالوں سے کانگریس کے رکن ہیں وہ مثبت تبدیلی کے خواہاں ہیں جبکہ 2010کے انتخابات کے بعد کافی منفی رجحان رکھنے والے افراد انتخابات کے ذریعہ منتخب ہوئے اور ان میں کئی تو ایسے ہیں جنہوں نے باہر کی دنیا کا سفر ہی نہیں کیا اور انہیں دیکھنا بھی نہیں چاہتے کہ بقیہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے، دوسری اقوام کا کلچر کیا ہے اور دیگر دنیا کے لوگ کس طرح کلچر کے ذریعہ مثبت تبدیلیاں لاتے ہیں اور اس بارے میں زیادہ معلومات بھی نہیں رکھتے،تاہم ان تمام معاملات کے باوجود میں امید رکھتی ہوں کہ ہم ڈائیلاگ کے ذریعہ مثبت تبدیلیاں لے کر آئیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ پاکستان کو امریکا کی جانب سے بار بار ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہم امداد دیتے ہیں اس لیے جو کہا جائے اس پر عمل کریں اس پر کانگریس وومین ایڈی برنیس جانس کا کہنا تھا کہ پچھلے عام انتخابات کے بعدرویوں میں بڑی تبدیلی واقع ہوئی ہے جبکہ صدر ٹرمپ کے منتخب ہو جانے کے بعد انہوں نے اپنی کابینہ کا انتخاب بھی ایسے لوگوں پر مشتمل افراد میں سے کیا ہے جو کہ ان کی ہی طرح کا منفی رویہ رکھتے ہیں۔

اس طرح تمام اداروں جس میں دفاع،خارجہ سمیت دیگر اہم ادارے شامل ہیں سب میں ایسے لوگوں کو بھرتی کیا گیا جو کہ ان کے رویہ کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے یہی دیکھا کہ موجودہ صدر ٹرمپ اور ان کی کابینہ کا رویہ زیادہ تر باہر کی دنیا کے خلاف ہے جبکہ وہ کہتے ہیں کہ امریکا کو ایک بار پھر عظیم بنانا ہے۔

امریکا پہلے نمبر پر ہو گا لیکن وہ اس بات کو شاید بھول گئے ہیں کہ تاریخ میں امریکا کس طرح عظیم بنا ،انہوں نے کہا کہ امریکاکو عظیم بنانے کیلئے اس نے پوری دنیا میں امن کیلئے کام کیا جبکہ جو بھی جنگیں ماضی میں امریکا نے لڑیں وہ کبھی بھی براہ راست امریکا سے نہیں تھیں، بلکہ امریکانے امن کے قیام کیلئے ان جنگوں میں حصہ لیا تا کہ دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکے ۔

ایڈی برنیس نے کہا کہ جو رویہ اس وقت ٹرمپ انتظامیہ کا ہے وہ میری سمجھ سے بالا تر ہے، تاہم ان کو امید ہے کہ یہ رویہ مختصر مدت کیلئے ہے اور کچھ عرصہ بعد ہم شاید ممکنہ طور پر واپس ٹریک پر آجائیں اور یہی امریکی وے بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کے اندر اور باہر اراکین کانگریس کو امریکا کے دنیا کے ساتھ خراب تعلقات پر تشویش ہے، امریکی کانگریس میں پاکستانی کاکس کی تعداد میں اراکین کا اضافہ ضروری ہے تا کہ دیگر اراکین کانگریس ہماری بات کو سمجھ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ہم پاکستانی قانون ساز اداروں کے ساتھ ملکر کام کے خواہش مند ہیں تاکہ ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانی ہو اور خیالات کے تبادلہ سے ہی دونوں جانب کسی پالیسی سے متعلق کام ہو تو اعدادو شمار کے ذریعہ وہ پالیسی جس پر بحث کی جائے اور اس کے لیے ووٹ دئیے جائیں تو ہم ان اراکین پر اثر انداز ہو کر مثبت سمت میں ایک ساتھ مل کر کام کر سکیں۔

اس موقع پر پاکستان امریکن بزنس فورم کے چیئرمین حفیظ خان فورم کے صدر وقار خان جنرل سیکرٹری انور اعظم اور ڈاکٹروں کی تنظیم اپنا کے سابق صدر ڈاکٹر داؤد ناصر بھی موجود تھے۔

 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں