آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی کی سڑکوں کا دھواںپھا نکتا اور راتوں کو بری طرح کھانستا میں خیر سے واپس لندن پہنچ گیا۔ لندن پہنچ کر یہ اطمینان نہیں ہوا کہ اب صاف ہوا میں سانس لوں گا بلکہ یہ فکر ہوئی کہ شہر کراچی کا کیا بنے گا۔ ٹریفک کا یہ حال ہے کہ سڑکوں میں مزید موٹر گاڑیاں سمانے کی سکت نہیں رہی۔ وہ دن دور نہیں جب سیلاب کی طرح امڈ کر آنے والی گاڑیو ں کے تلے آکر سڑکوں کے بخئے ادھڑ جائیں گے اور وہ پہلے چورا چورا ہوکر بعد میں سرمہ بن جائیں گی۔ پھر جو خاک اڑے گی وہ آنکھوں میں بھی سمائے گی اور سانسوں میں بھی۔نہیں معلوم آنے والا وقت ہمارے وجود میں کیا کیا جھونکے گا۔بڑی سڑکوں پر سفر کے دوران میں نے دیکھا کہ شو روم میں نمائش کے لئے سینکڑوں کاریں مخصوص ٹرکوں پر لاد کر شمال کی طرف لے جائی جارہی ہیں۔کوئی دن جاتا ہے کہ یہی کاریں سڑکوں پر دوڑ رہی ہوں گی۔ پھر جو کثافت ہوا میں گھلے گی وہ کہاں سمائے گی؟ ہمارے سینوں میں۔ تشویش یہ نہیں کہ ہمارے کرہّ ارض کا ماحول زہریلے دھوئیں میں اَٹ جائے گا۔ فکر یہ ہے کہ کسی کو اس بات کی نہ پریشانی ہے اور نہ پروا۔کوئی اس گمبھیر موضوع پر گفتگو نہیں کرتا اور نہ کوئی اس کی تفصیل میں جانا چاہتا ہے۔نہ پوچھئے کہ مجھے اس کا احساس کہاں ہوا؟ ایک کانفرنس میںجو سندھ کے شہر خیرپور میرس کی شاہ عبداللطیف یونیورسٹی میں

بلائی گئی تھی ۔ کانفرنس کا عنوان بظاہر سیدھا سادا تھا:ادب اور ماحولیاتی مسائل، پاکستانی اور عالمی تناظر میں۔ شرکت کے لئے قریب اور دور کے علاقوں سے کتنے ہی اکابرین بلائے گئے تھے۔ کانفرنس دو دن جاری رہی۔پینسٹھ سے کچھ کم یا شاید کچھ زیادہ مندوبوں نے اپنے مقالے پڑھے۔ کانفرنس کا اہتمام کرنے والے پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک او ران کی اہلیہ ڈاکٹر صوفیہ یوسف نے ایک بہت عمدہ کام کیا۔ انہوں نے مندوبین کو جو دعوت نامہ بھیجا اس میں جہاں کانفرنس کا عنوان لکھا (ادب اور ماحولیاتی مسائل) وہیں عنوان کی تشریح بھی کردی۔ انہوں نے وضاحت سے لکھا کہ اس موضوع کے کون کون سے پہلوؤں پر روشنی ڈالی جاسکتی ہے۔جو بات انہوں نے نہیں لکھی اور جس کا لکھا جانا ضروری تھا وہ یہ تھی کہ دنیا کے موسم تغیّر کا شکار ہیں اور زمین کی فضاتلپٹ ہو رہی ہے۔ اس کا مجرم خود انسان ہے اور اس کو مزید نقصان سے انسان ہی بچا سکتا ہے، ایسے میں ادب تخلیق کرنے والوں کا فرض بنتا ہے کہ انسان کا شعور بیدار کریں۔دوسری بات یہ کہ اگرچہ یہ کام سائنس دانوں کا ہے لیکن ان کی زبان سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں، یہ کام ادیب اور اہل قلم ہی اس خوبی سے انجام دے سکتے ہیں کہ بات پُر اثر بھی ہو اور دل میں اتر بھی جائے۔ مگر پھر ہوا کیا؟ چار پانچ درجن مقالے سننے کے بعد ہم پر کھلا کہ چند ایک کے سواباقی مندوبین معاملے کی نزاکت کو سمجھ ہی نہ پائے۔ ہم نے نئے پرانے ادب کے بیسیوں اقتباس سنے۔ اکثر میں مناظر فطرت کی بہتات تھی۔ ایک دور آیا تھا جب نیچرل شاعری نے زور باندھا تھا۔ اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ جن پہاڑوں کو جنگلوں نے ڈھانپ کر قدرت کو حسن عطا کیا ہے وہ ایک روز لکڑہاروں کے ہاتھوں برہنہ ہو جائیں گے او ر جو جھرنے چٹانوں کی تھاپ پر راگ الاپ کر راتوں کے سنّاٹے میں سُر بکھیرتے ہیں وہ سوکھ کر چپ سادھ لیں گے۔بہت کم مقالہ نگاروں نے قدرت کی عطا کی ہوئی اس اوڑھنی کا ذکر کیا جو ہماری زمین پر سایہ کئے ہوئے تھی لیکن ہماری لاپروائی نے اس میں چھید کردئیے اورآئے دن آنے والے چکر کھاتے طوفان، ریگستانوں پر ٹوٹ کر برسنے والی بارش اور تپتے صحراؤں پر گرنے والی برف دو چار سے زیادہ مقالوں میں جگہ نہ پا سکی۔ ایک بہت ہی معزز اور دانش ور استاد نے ماحولیاتی مسائل کی نیت باندھ کر صوبہ خیبر پختون خواکے اسکولوں میں پڑھائی جانے والی درسی کتابوں کا دکھڑا رویا اور کئی مقالہ نگاروں نے فطری ماحول کے نام پر سب کچھ کہا مگر ماحولیاتی مسائل کا کسی بھی تناظر میں ذکر تک نہ کیا، نہ پاکستانی اور نہ عالمی۔ کرہّ ارض کے گرد آلودگی کے بادل منڈلانے کی گفتگو میں کام آنے والی اصطلاحوں اور لغت پر دلچسپ باتیں ہوئیں اور اس سلسلے میں جو کام ہو چکا ہے اسے سراہا گیا۔دنیا میں موسم کی برہمی پر جو اجتماع اور مذاکرے ہوئے ہیں ان کا حوالہ برائے نام سننے میں آیا۔ اس موضوع پر ڈنمارک میں سنہ دو ہزار نو میں بڑی کانفرنس ہوئی تھی جس کا احوال سنا ۔ لیکن جو بات حیران کرگئی وہ یہ کہ خود پاکستان میں اس عنوان سے بڑا اجتماع برپا ہو چکا ہے جس میں چوٹی کے شاعروں اور مصنفوں نے اپنی نگارشات پیش کی تھیں(یہاں محسن نقوی بہت یاد آئے)، ان کو اگر کسی نے اقتباس کی زینت بنایا تو ہو سکتا ہے میں کسی وجہ سے سننے سے قاصر رہاورنہ مجھے دکھ ہے کہ اس کا ذکر ہوا کا جھونکا بن کر بھی کسی کے کان کے قریب سے نہ گزرا۔ کہتے ہیں کہ سنّاٹے کا بھی ایک شور ہوتا ہے۔سنا ہے کہ اگر ہوا بھی خاموش ہوجائے تو کانوں میں درد ہونے لگتا ہے۔تو آخری بات یہ کہ میرے کانوں میں دردہورہا ہے۔.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں