آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارا انٹرویو ابھی جاری تھا کہ چائے آگئی۔ چائے خاصی پرتکلف تھی۔ اس وقت تک شاید اے سی گرمی کم کر چکا تھا اور بے نظیر بھٹو کا غصہ بھی کم ہوگیا تھا۔ وہ اب خاصے اچھے موڈ میں تھیں۔ کہنے لگیں کہ میں رات کی مصروفیات کینسل کردیتی ہوں اب آپ لوگ میرے ساتھ کھانا بھی کھائیں گے۔ ملازم نے چائے بنا دی اور بے نظیر اصرار کرنے لگیں کہ ہم چائے کے ساتھ کچھ کھائیں بھی۔ چائے کے ساتھ چاکلیٹ کا ایک بڑا ڈبہ بھی تھا۔ انہوں نے ہماری ٹیم کو آفر کی کہ چاکلیٹ کھائیں لیکن کسی نے ہاتھ نہ بڑھایا۔ بے نظیر خود چاکلیٹ کھانے لگیں۔ مجھ سے کہنے لگیں کہ آپ تو خاصے دبلے ہیں، آپ ضرور کھا سکتے ہیں۔میرا وزن بڑھ گیا ہے لیکن مجھے چاکلیٹ بہت پسند ہے۔ میں وزن کم کرنا چاہتی ہوں لیکن ہوتا ہی نہیں۔ اس دوران انہوں نے چاکلیٹ کا سارا ڈبہ ختم کردیا۔ چائے پی کر ہم نے انٹرویو کے سلسلے کو پھر شروع کیا۔
میرے اس سوال کے جواب میں کہ ’’بھٹو صاحب نے پولینڈ کی قرارداد پھاڑ کر یو این او سے بائیکاٹ کر دیا، اگر دوسرے ملک کچھ کر بھی سکتے تھے تو اس کا راستہ ہی رک گیا، بی بی سی اور دوسرے ممالک کے میڈیا نے یہ منظر بار بار دکھایا‘‘۔ محترمہ کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا وہ وہاں بھٹو صاحب کے ساتھ موجود تھیں۔ جب بھٹو صاحب وہاں پہنچے تو اس وقت تک جنرل نیازی نے سرنڈر

کردیا تھا۔ اس زمانے میں ٹرنک کال ہوا کرتی تھی۔ بھٹو صاحب یہ پیغام دے رہے تھے کہ جنرل نیازی کو کہیں کہ لڑیں، ابھی سرنڈر نہ کریں۔ جنرل یحییٰ نے بھی جنرل نیازی کو کہا کہ اتنی جلدی سرنڈر نہیں کریں۔ ’’ہم نے اقوام متحدہ میں بہت کوشش کی کہ سیز فائر ہو جائے لیکن چونکہ جنرل نیازی نے سرنڈر کردیا تھا اس لئے سیکورٹی کونسل کو یہ معلوم تھا کہ اب پاکستان زیادہ دیر کھڑا نہیں رہے گا۔ وہ وقت گزاری کررہے تھے‘‘۔ سوویت یونین انڈیا کی بھرپور حمایت کررہا تھا۔ بھٹو صاحب نے جب یہ دیکھا کہ سیکورٹی کونسل کا مدد کا کوئی ارادہ نہیں ہے تو انہوں نے اپنی تقریر کی۔ ان سے پہلے جو لوگ وہاں تقریر کررہے تھے بھٹو صاحب اس کے نوٹس لے رہے تھے۔ انہوں نے پولیش قرارداد نہیں بلکہ اپنے نوٹس پھاڑے۔ ’’میں خود اس وقت وہاں ٹیبل پر تھی۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ میرے لوگ مر رہے ہیں، اسلحے کے زور پر انہیں دو حصوں میں تقسیم کیا جارہا ہے لیکن آپ لوگ یہاں وقت گزاری کررہے ہیں‘‘۔ وہ بطور احتجاج وہاں سے اٹھے، انہوں نے ان لوگوں کو غیرت دلانے کے لئے واک آئوٹ کیا۔ پھر بھٹو صاحب نے مغربی پاکستان کے لوگوں کو حوصلہ دیا، خیال تو یہ تھا کہ پہلے مشرقی پاکستان اور پھر مغربی پاکستان کو توڑا جائے گا۔ بھٹو صاحب نے صدر نکسن کو آمادہ کیا کہ وہ ساتواں بیڑہ روانہ کریں۔ اس کے بعد لوگوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کے حق میں موقف تبدیل کیا اور مغربی پاکستان بچ گیا ورنہ اس وقت پورے پاکستان کو خطرہ تھا۔ یہ بھٹو صاحب تھے جنہوں نے اس مشکل وقت میں دلیری دکھائی۔ ملک ٹوٹا لیکن اس کی سب سے بڑی ذمہ داری جنرل یحییٰ پر آتی ہے حالانکہ 50ء کی دہائی سے اسٹیبلشمنٹ اور ڈکٹیٹرز کی پالیسی تھی کہ جس نے ملک میں جمہوریت کو جڑ نہیں پکڑنے دی۔ مشرقی پاکستان کے لوگوں کو نظرانداز کرنا اور ناانصافی اور پھر جنرل یحییٰ کے اقدامات نے ملک کے دو ٹکڑے کردیئے۔
جب بھٹو صاحب صدر بن گئے تھے اور انہوں نے شیخ مجیب کو رہا کردیا تھا۔ وہ کہنے لگیں کہ بھٹو صاحب نے شیخ مجیب سے درخواست کی کہ وہ کوئی طریقہ ڈھونڈیں کہ ہم دونوں حصے ساتھ رہ سکیں۔
بھٹو صاحب نے شیخ مجیب کی منت کی اور مجیب الرحمٰن نے وعدہ کیا کہ وہ ڈھاکہ جا کر اپنے رفقاء سے مشورہ کریں گے اور پھر اکٹھے رہنے کا کوئی راستہ سوچیں گے، پھر وہ لندن چلے گئے اور جیسے ہی مجیب الرحمٰن نے ڈھاکہ کی سرزمین پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا کہ ان کی پوری جدوجہد ایک آزاد ملک کے لئے تھی سو ان کی آرزو پوری ہوگئی۔ محترمہ نے کہا کہ مجیب الرحمٰن کی آرزو کبھی پوری نہ ہوتی اگر اسٹیبلشمنٹ نے ناانصافیاں نہ کی ہوتیں۔
وہ کہنے لگیں کہ بنگال کی آبادی زیادہ تھی لیکن ان کو 55فیصد حصہ دینے کو کوئی تیار نہ تھا اور کہا جاتا تھا کہ برابری ہو گی کیونکہ یہاں کا رقبہ زیادہ ہے۔ جب وہ الگ ہوئے تو کسی نے نہیں کہا کہ بلوچستان کی آبادی کم لیکن رقبہ زیادہ ہے اس لئے اس کو بھی زیادہ حصہ دیا جائے۔ ہم نے اپنی قومیتوں کو پاکستانی نہیں سمجھا۔ جب ہم سب سندھی، مہاجر، بلوچ، پٹھان اور پنجابی کو برابر کا پاکستانی سمجھیں گے تب ہی بہتری آئے گی۔
وہ کہنے لگیں کہ جب وہ ہارورڈ کی طالبہ تھیں تو بھٹو صاحب نے انہیں ایک خط لکھا جو بعد میں کتاب بنا ’’دی گریٹ ٹریجڈی‘‘ مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے جو واقعات ہیں ایک لیڈر کی نظر سے وہ سب اس میں شامل ہیں ’’میں سمجھتی ہوں کہ تاریخ جاننے کے لئے وہ پڑھنا بہت ضروری ہیں‘‘۔
میرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ خود آکسفورڈ کی تعلیم کے دوران پلے کارڈ اٹھا کر فوج کے حق میں نعرے لگاتی رہی ہیں، وہ کہنے لگیں کہ اس وقت فوج ایک جنگ لڑ رہی تھی اور انہیں اس وقت تک پاکستان کے نازک مسائل کا زیادہ ادراک بھی نہیں تھا۔ جب میں وزیراعظم بن گئی تو مجھے فوج کے سیاست میں دخل دینے کا پتہ چلا۔ یہ اچھا عمل نہیں ہے۔
انٹرویو ختم ہوتے وقت تک رات خاصی ہو چکی تھی۔ بے نظیر کچھ لمحے کے لئے اٹھ کر گئیں اور پھر واپس آگئیں،ان کے ساتھ بچے بھی تھے، جوتے اتارے اور صوفے پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئیں، کہنے لگیں اب میں خاصی ریلیکسڈ ہوں توگپیںمارتے ہیں۔ بلاول سے کہنے لگیں ہم جو باتیں کررہے ہیں انہیں غور سے سنو۔
اسی دوران ان کے لئے ایک فون آگیا۔ وہ فون سننے کے لئے ساتھ والے کمرے میں چلی گئیں۔ کافی دیر تک ان کے فون کرنے کی آوازیں آتی رہی۔ وہ واپس آئیں تو ان کا چہرہ تمتما رہا تھا۔ میں نے جرات کرتے ہوئے سوال کیا کہ جیسا کہ میں آواز سے سمجھ پایا ہوں یہ امریکہ سے کسی سینیٹر کا فون تھا، کہنے لگیں جی بالکل۔ یہ لوگ زور دے رہے ہیں کہ میں پاکستان جائوں اور کہتے ہیں کہ مشرف کے ساتھی کمانڈرز گارنٹی دینے پر تیار ہیں کہ آپ کو کچھ نہیں ہوگا لیکن میں مشرف پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں، زرداری جیل میں ہیں، میں بچوں کے ساتھ ادھر ہوں۔ اگر مجھے بھی گرفتار کر لیا گیا تو بچوں کو کون دیکھے گا۔
اس ملاقات کے بعد بے نظیر سے دو تین بار دبئی میں ملاقات ہوئی۔ ایک ملاقات کے دوران پیپلز پارٹی کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک سیاستدان بھی موجود تھے ان کی بیگم بھی ساتھ تھیں۔ انہوں نے بے نظیر کو گولڈ کا ایک سیٹ پیش کیا۔ بے نظیر نے مسکراکر اسے لے لیا۔ سیٹ انہیں پسند آیا۔کہنے لگیں کہ جناب تحفے دینے تو کوئی آپ سے سیکھے۔ میں ان سے ان کی زندگی کے نشیب و فراز کے حوالے سے گفتگو کرتا رہا۔ انہوں نے مجھے اپنی نظم جو انہوں نے چھپوا لی تھی۔ تحفتاً پیش کی۔بے نظیر اس وقت تک خاصی سمجھدار سیاستدان بن چکی تھیں اور مجھے امید ہے کہ اگر انہیں شہید نہ کردیا جاتا تو وہ ملک کے لئے بہت کچھ کرتیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں