آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ سال، پچھلے ہزاروں برسوں کی طرح، ختم ہوگیا اور نیا سال بھی ہمیشہ کی طرح اُمیدوں سے وابستہ شروع ہوگیا ہے۔ پچھلے 65 سال بُرے ہی گزرے ہیں جہاں کچھ خوشگوار بات تھی اس کو حکمرانوں نے اپنے عمل سے ناخو شگوار بنا دیا۔
ہر نیا سال مجھے مرحوم دوست خالد حسن (پریس انفارمیشن سیکرٹری جناب ذوالفقار علی بھٹو) کی یاد دلاتا ہے۔ فوجی انقلاب کے بعد وہ لندن چلے گئے تھے اور جب سول حکومت واپس آئی تو پاکستان آتے جاتے رہے مگر پھر مستقلاً امریکہ میں رہائش اختیار کرلی۔ میری ان سے ملاقات ایک محفل میں ہوئی جو ہماری مشہور دانشور، اعلیٰ شاعرہ محترمہ کشور ناہید نے منعقد کی تھی اور پھر یہ دوستی ان کی وفات تک قائم رہی۔ انھوں نے 2011 کے اواخر میں، نئے سال کی آمد پر، مجھے مرزا غالبؔ کا یہ پیارا شعر لکھ کر نئے سال کی مُبارک دی تھی۔
دیکھئے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
مجھے بھی اسی موقع کا یہ شعر یاد تھا میں نے جواب میں لکھ دیا۔
لوگو دُعا کرو کہ گزر جائے خیر سے
آثار کہہ رہے ہیں بُرا یہ بھی سال ہے
آج بھی میرا یہ ہی نظریہ ہے کہ دُعا کی اَشد ضرورت ہے۔ قبولیت اللہ کے پاس ہے لیکن اپنے اعمال و کردار کی وجہ سے قبولیت کے آثار کم ہی دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ بڑا غفور الرحیم ہے شاید وہ معاف

فرما دے۔ اس پر ایک پٹھان بھائی کا واقعہ یاد آیا کہ ایک شخص نے ان سے کہا کہ اگر میں کوئی بُری بات آپ کے خلاف کہوں تو معاف کردینگے۔ پٹھان بھائی نے سادگی سے جواب دیا کہ معاف تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کرسکتا ہے، ہاں! ہم آپ کو اس کی خدمت میں پہنچا دینگے۔
ہمارے نہایت اعلیٰ (سابق کمشنر بہاولپور) شاعر جناب مرتضیٰ برلاس صاحب نے بھی سال گزشتہ اپنے تاثرات کا یوں اظہار کیا تھا۔
سال یہ بیت گیا رنج کا آلام کا سال
امن عالم کی جو تھی خواہش ناکام کا سال
جس میں کھیلی گئی بس خون کی ہولی ہر سو
آج گزرا ہے وہی کرب کا کہرام کا سال
ہمارے دوسرے اعلیٰ ذہین شاعر جناب فیض احمد فیضؔ صاحب نے نئے سال کی آمد پر یہ سوال اُٹھایا تھا۔
اے نئے سال بتا تجھ میں نیاپن کیا ہے
ہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے
روشنی دن کی وہی تاروں بھری رات وہی
آج ہم کو نظر آتی ہے ہر ایک بات وہی
آسمان بدلا ہے افسوس، نا بدلی ہے زمیں
ایک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہیں
اگلے برسوں کی طرح ہوں گے قرینے تیرے
کسے معلوم نہیں بارہ مہینے تیرے
تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی، شام نئی
ورنہ اِن آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی
دیکھئے اگر ہم پچھلے سال کے واقعات یا یادداشتوں پر نظر ڈالیں وہ تو بہت ہی غمزدہ اور تکلیف دہ نظر آتا ہے۔ نہ ہی ہم ماڈل ٹائون کے شہیدوں کو، نہ ہی آرمی پبلک اسکول پشاور کے پھولوں کو،نہ ہی فیض آباد چوک کے دھرنوں کو بھول سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جو عام شہری اور ہمارے بہادر فوجی جوان شہید ہوئے ہیں ان کو کس طرح بھلا سکتے ہیں اور دسمبر کی 16 تاریخ کو APS کے المناک واقعہ کے ساتھ ہی جو ذلّت و رسوائی ہمارے حکمرانوں نے دی وہ بھی بھلائی نہیں جاسکتی اور جن لوگوں نے خون پسینہ ایک کرکے اور خاندانی قربانی دے کر جو صلاحیت اس ذلّت و رسوائی سے محفوظ کرنے کی دی ان کی ذلت و خواری بھی آپ کے سامنے ہے۔ ان اعمال و کردار کو دیکھ کر اکثر خیال آتا ہے کہ خدانخواستہ اس ملک کا مستقبل تاریک نہ ہوجائے۔
ماڈل ٹائون اور فیض آباد دھرنے نے ملک کی جڑیں ہلا دی ہیں۔ حکمراں اپنی عیاشی میں لگے رہے اور یہ المناک واقعات لوگ ٹی وی پر دیکھتے رہے۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے عدلیہ پر الزام لگایا کہ ان کے کہنے پر عمل کیا (ورنہ یہ شاید سال بھر صبر و تحمل کا مظاہر کرتے رہتے)۔ جب فوج نے کام سنبھالا تو معاملہ حل ہوا۔ بدقسمتی سے نواز شریف کا ہر مہرہ عقل کل بننے کی کوشش کررہا ہے۔ انہیںاپنے کام سے دلچسپی نہیںہے۔ پریس کانفرنسیں زوروں پر ہیں۔ ایک خاموش ہوتا ہے تو دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔ اب سب سے آگے سب سے اوّل مریم نواز ہیں اور عقلمندی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ پچھلے دنوں سیدھے سادے لوگوں کو بیوقوف بنانے کا مظاہرہ کیا کہ اقامہ صرف ویزےکی تکلیف دور کرنے کے لئے ہے۔ عوام کو اتنا بیوقوف نہ سمجھیں ، اقامہ جائداد خریدنے اور بنک اکائونٹس آپریٹ کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ اگر میاں صاحب کو ویزے کی ضرورت ہوتی تو کوئی بھی ان کے پاسپورٹ پر مہر لگوادیتا کہ ویزے سے مستثنیٰ ہیں یا پانچ سال کا بلا حجّت آنے جانے کا ویزہ لگا دیتے۔
28 دسمبر 2017ء کے روزنامہ جنگ میں ہمارے مشہور،صحافی جناب سہیل وڑائچ نے ہمّت کرکے میاں صاحب سے کئی سوالات (اور بالکل صحیح سوالات) کئے اور آپ کے طرز عمل میں خامیوں پر تبصرہ کیا اور اشارہ کیا۔ مشرف کے بارے میں عدلیہ پر بہتان طرازی کو بھی چھیڑا۔ دیکھئے یہ کھیل تین چار ہفتوں میں ختم ہوسکتا تھا اور ہوجانا چاہئے تھا مگر آپ شاید یہ بھول گئے کہ آپ کا وزیر قانون ہی مشرف کا وزیر قانون تھا اگر وہ چاہتا تو کیس دو ہفتوں میں ختم ہوجاتا۔ اٹارنی جنرل یا بیرسٹر اکرم شیخ تین چار دن دلائل دے کر بات ختم کرتے اور عدلیہ ایک ہفتہ میں مشرف کے وکلاء کی بھی چھٹی کرکے فیصلہ سنا دیتی مگر آپ نے مک مکا کرلیا تھا اور اسکی مثال سہیل وڑائچ نے دی ہے۔ مشرف اپنے فارم ہائوس میں بند تھا اس کا نمائندہ وکیل موجود تھا اس کو سزا سنائی جاسکتی تھی۔
دیکھئے میاں صاحب کے ہمدردوں کو اس بات سے سخت دُکھ پہنچا ہے کہ انھوں نے اور ان کے ’’وفادار‘‘ ساتھیوں نے صبر و تحمل و برداشت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ وہ دنیا میں پہلے حکمراں نہیں ہیں جن کے خلاف عدلیہ نے ایکشن لیا ہے۔ کئی دوسرے حکمراں جیل جا چکے ہیں۔ آپ نے (جیسا کہ سہیل بھائی نے بتلایا ہے) نہایت غلط طریقے سے اس مسئلے کا مقابلہ کیا۔ آپ استثنیٰ حاصل کرسکتے تھے، آپ بچوں کو یہاں نہ آنے دیتے، آپ چند ماہ گزار کے پھر جب وزیر اعظم نہ ہوتے تو عدالت میں پیش ہوجاتے لیکن آپ نے ایسے مشیروں کی ہدایات پر عمل کیا جو قانون و دستور سے بے بہرہ ہیں وہ کھلے عام غلط باتیں کرتے ہیں اور معزز جج صاحبان کے بارے میں بیان بازی کرتے ہیں ۔ عدلیہ نے واقعی بہت ہلکا ہاتھ رکھا ہے ورنہ آپ اور آپ کے کئی ساتھی جیل میں ہوتے۔ آپ مردم شناسی میںصفر ہیں۔ تین مرتبہ اعلیٰ عہدے پر براجمان ہو کر بھی آپ نے کچھ نہیں سیکھا۔ آپ کے سامنے زرداری صاحب کی مثال ہے ان کے کردار اور اعمال قوم پر پوری طرح عیاں ہیں مگر جس نرم مزاجی، صبر اور ہنرمندی سے انھوں نے آگ کے دریا کو ڈوب کر پار کیا ہے وہ نہایت قابل تحسین ہے، انھوں نے کبھی عدلیہ سے جھگڑا نہیں کیا، نیب سے جھگڑا نہیں کیا۔ مال بھی قبضہ میں رہا اور باعزّت تمام مقدمات سے بری بھی ہوگئے۔
میاں صاحب غالباً آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کو ابھی ماضی قریب کا واقعہ شاید نامعلوم ہو کہ آسٹریلیا کے نائب وزیر اعظم کے والدین نیوزی لینڈ میں تھے یہ وہاں پیدا ہوئے تو آٹو میٹک طور پر نیوزی لینڈکی شہریت مل گئی۔ آسٹریلیا آگئے، پلے بڑھے، سیاست میں آگئے اور ترقی حاصل کرکے نائب وزیر اعظم بن گئے۔ چند ہفتے پیشتر یہ بات کھل گئی کہ وہ نیوزی لینڈ کی شہریت سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں۔ عدلیہ نے ان کی چھٹی کردی۔ (کہیں وہ عدلیہ عمران خان کی تو نہ تھی؟)ملک کے حالات بہت سنگین ہیں آہستہ آہستہ ہم دلدل دھنستے جارہے ہیں۔ زیادہ قرضہ لینے کا مقصد اور نتیجہ یہی نکلے گا کہ نہ صرف ہم اپنی خودمختاری (اگر بچی ہے تو!) بلکہ اپنی ایٹمی اور دفاعی صلاحیت بھی کھو دینگے۔ حالات کچھ بھی ہوںیہ ہمارا ملک ہے اس کے حصول میں لاکھوں انسانوں نے قربانی دی ہے آئیے دُعا کریں کہ اللہ پاک اس کو حفظ و امان میں رکھے اور تمام اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے۔ آمین، ثم آمین۔ پاکستان زندہ باد۔ محبان وطن پائندہ باد۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں