آپ آف لائن ہیں
جمعرات5؍ذوالقعدہ 1439ھ19؍جولائی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قصور میں ہونے والے دلخراش واقعہ نے قوم کو بری طرح سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ننھی زینب پر گزرنے والی قیامت نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا ہے ۔پچھلے کئی روز سے میڈیا لگاتار اس اندوہناک واقعہ کی کوریج کر رہا ہے،" جسٹس فار زینب " کے نام سے سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی جا رہی ہے ۔معاشرے کے ہر حصہ سے صرف یہی صدا بلند کی جارہی ہے کہ اس گھنائونے فعل کو سرانجام دینے والے شیطان کو اس کے کئے کی سزا دی جائے۔ غم و غصے کی شدت اس قدر زیادہ ہے کہ مجرم کی سر عام پھانسی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ یقیناََ اس کیس کو ملنے والی کوریج سے معصوم زینب کے لواحقین کو کم از کم یہ حوصلہ تو ضرور ہوا ہے کہ ا ن کی معصوم بیٹی کا قاتل شاید اپنے انجام کو پہنچ ہی جائے لیکن دوسری طرف جو بات ایک بار پھر سے کھل کر سامنے آئی ہے وہ پاکستان کے ریاستی نظام کا بوسیدہ پن ہے۔ زینب کا اغوا قصور میں ہونے والا اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے، اخباری رپورٹوں کے مطابق دو کلومیٹر کے دائرہ میں صرف چند ماہ کے عرصے میں گیارہ سے زائد بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا نے کے بعد قتل کر دیاگیا لیکن کسی ایک بھی کیس میں مجرم گرفتار نہیں ہو ا۔ ایسے حالات میں مقامی لوگوں کا غم و غصہ با لکل بجا ہے۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ گزشتہ واقعات کے پس منظر میں زینب کے لواحقین کی

جانب سے اس کی گمشدگی کے بارے میں اطلاع ملنے پر پولیس تفتیش میں سستی نہ دکھاتی۔ لیکن پولیس نے ان کی کوئی خاطر خواہ مدد نہیں کی اور تھانہ کلچر تبدیل کرنے کا خادم اعلیٰ کا نعرہ محض نعرہ ہی ثابت ہوا۔ چار روز تک پولیس روایتی انداز سے معاملے کی تفتیش کرتی رہی پھر جب بچی کی لاش ایک کچرے کے ڈھیر پر پڑی ملی تو علاقہ مکینوں کا رد عمل فطری تھا،ان میں غم وغصے اور نفرت کی لہر دوڑ گئی۔عوام باہر نکلے تو ایک اور نہایت افسوسناک واقعہ ہوگیا، پولیس کے چند جوانوں نے مظاہرین کو منتشرکرنے کی کوشش میں عوام پر سیدھی گولیاں چلا دیں۔ یہ مظاہرین آتشی اسلحہ سے مسلح نہ تھے، ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے اور وہ اپنے بازوئوں کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں گز دور ایک برآمدے کے باہر کھڑے ہوئے پولیس والوں پر پتھرائو کر رہے تھے۔ پولیس کی فائرنگ سے دو افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان دونوں واقعات نے پولیس کے نظام کی قلعی کھول کر رکھ دی ۔ سوال یہ ہے کہ زینب کی گمشدگی کی رپورٹ ملنے سے لے کر اس کی لاش ملنے تک کے عرصے میں پولیس نے کیا تفتیش کی ؟
پرانے زمانے میں پولیس کے نظام کا اہم جز مخبری کا نظام ہوتا تھا، ہر علاقے میں تھانے کی سطح پر مخبروں کا ایک ایسا نیٹ ورک ہوتا تھا جن کی مدد سے علاقے کا ایس ایچ او اپنے علاقے میں ہونے والی سرگرمیوں سے بخوبی واقف رہتا تھا۔ ہر مخبر اپنے علاقے میں ہونے والے کسی بھی جرم کے حوالے سے تفصیلات اکٹھی کرتا اور اس کی مدد سے پولیس مجرمان تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی تھی۔ لیکن موجودہ زمانے میں پولیس کا مخبری نظام بری طرح سے ناکام ہو گیا ہے۔ اس خرابی کے پیچھے بہت سے عوامل ہیں لیکن غالباََ ہمارے شہری علاقوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پرانے زمانے میں جن علاقوں میں دو چار گائوں ہوا کرتے تھے اب کئی ہزار گھرانوں پر مشتمل رہائشی کالونیاں بن چکی ہیں۔
ماڈرن پولیسنگ میں جہاں مجاہد فورس، ڈولفن فورس اور پولیس رسپانس یونٹ اور سیف سٹی جیسے اربوں روپے کے منصوبے بنائے گئے ہیں، وہیں تفتیشی نظام کی بنیادی کمزوریوں کو بہت حد تک نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ جرائم کی روک تھام کی کوشش میں کرائم انوسٹی گیشن پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ آج سے کئی سال قبل جب انویسٹی گیشن کو ایک علیحدہ شعبہ بنایا گیا تو یہی خیال تھا کہ اس سے جرائم کی تفتیش بہتر کرنے میں مدد ملے گی لیکن نتائج کچھ زیادہ اچھے نہیں دکھائی دیتے۔ اگر ایک ہی علاقے میں گیارہ ایک جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں لیکن کسی ایک بھی مقدمے میں کوئی مجرم نہیں پکڑا جاتا تو کیا ان حالات میں کوئی بھی پولیس پر اعتماد کرے گا؟ اور پھر اگر اشتعال میں آکر عوام مظاہرے کرنے لگیں تو پولیس کے جوان انہیں منتشر کرنے کی کوشش میں سیدھی گولیاں چلا دیں؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ماڈل ٹائون واقعہ سے سبق سیکھتے ہوئے کم از کم پولیس کے جوانوں کی اتنی ٹریننگ ہی کر دی جاتی کہ کسی بھی صورت میں ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لئے لائیو ایمونیشن کا استعمال نہ کیا جاتا۔ ہجوم کو کنٹرول کرنے والے خصوصی یونٹس میں موجود افراد اتنے تربیت یافتہ اوراتنی تعداد میں ہیں جو بڑے ہجوموں کو کنٹرول کرسکیں؟
قصور میں پچھلے چند دنوں میں ہونے والے واقعات میں علاقے کی سیاسی قیادت کا رویہ بھی کچھ سمجھ سے باہر ہے۔کسی بھی سانحہ کے بعد عوام کی داد رسی کی سب سے پہلی ذمہ داری مقامی قیادت اور منتخب نمائندوں پر عائد ہوتی ہے۔ علاقے میں ہونے والے گیارہ واقعات کے بارے میں اگر پولیس کچھ نہیں کر پائی تو ان سیاستدانوں نے کتنی مرتبہ اس سلسلے میں اعلیٰ حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی؟ حکمران جماعت کے کتنے سیاستدانوں نے مظلوم خا ندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا؟ اگر ان کی جانب سے ایسا نہیں کیا گیا توپھر اپوزیشن جماعتوں نے اس مسئلے کو اٹھانے میں کوئی کردار ادا کر کے سیاسی فائدہ حاصل کر لیا، تو اس پر واویلا کیوں؟ پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں کہ جہاں بھی کوئی خلا پیدا ہو گا اسے بھرنے کے لئے کوئی نہ کوئی ضرور آگے آ ئے گا۔ جب سیاسی جماعتیں، حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اپنےعوام کے ساتھ ہونے والے ظلم کے لئے آواز نہیں اٹھاتیں تو پھر انہیں اس بات کا گلہ کرنے کا کوئی حق نہیں کہ کوئی اور ادارہ یا جماعت ان کے اختیارات میں بے جا مداخلت کر رہے ہیں۔اگر گیارہ معصوم جانوں کے جانے کے بعد بھی ایک سات سالہ بچی کے لواحقین کو انصاف کے حصول کے لئے مظاہرے کرنے پڑیں ،تو نظام کی خرابی کو دور کرنے کے لئے دیگر قوتوں کو آگے بڑھنا ہی ہو گا۔ بہتر ہے سیاستدان اختیارات کے حصول کے لئے جتنی جدوجہد کرتے ہیں ،اتنی ہی جدوجہد عوام کی حفاظت اور انہیں انصاف کی فراہمی کے لئے بھی کریں۔ ایس ایچ او کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ نے اپنے ذمہ لے کر نظام کو مکمل طور پر اپاہج کر دیا ہے ۔ مقتولین کو لاکھوں روپے کا معاوضہ دے کر مسائل کو بھول جانا خرابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے کہ جس مقتول کا قاتل نا معلوم ہو، اس کا قاتل حاکم وقت ہوتا ہے۔ میرا مطالبہ ہے کہ حاکموں، بچیوں کے قاتلوں کو پکڑ کر قانون کے مطابق سزا دلوائو۔ روز قیامت تم سے ان قتلوں کا بھی حساب لیا جا سکتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں