آپ آف لائن ہیں
اتوریکم ذیقعدہ1439ھ 15؍ جولائی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Justice For Zainab Safety For Other Zainabs

تجزیہ:مظہرعباس...جو کچھ زینب کے ساتھ ہوا اس کا حل یا جواب آسان نہیں ہے، لیکن نوعیت کایہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس واقعےنےپوری ’قوم‘ کوہلاکررکھ دیاہے۔ کیا اس طرح کے ناقص کریمنل جسٹس سسٹم میں اُسےاور دیگربچوں کوانصاف مل سکتاہے؟ حتیٰ کہ اگراِسے مل بھی جائے تو کیا ہم دیگر افراد کوبچا سکتے ہیں؟

زینب کی نوٹ بک میں لکھے یہ الفاظ یاد کریں، ’میں ایک لڑکی ہوں۔‘ ایک سات سالہ لڑکی کی جانب سے ان الفاظ کےمعنی بہت گہرے ہیں۔ اگرچہ ہم بطورِ قوم کوئی بھی واقعہ رونما ہونے کے بعد ہی ردعملِ ظاہرکرتےہیں۔ زینب کے کیس نے احتیاط اور سزا سے متعلق دو سب سے اہم سوال اٹھائےہیں۔

زینب کوانصاف دلانے اور دوسروں کی زینب کوبچانے کیلئے کیا کرناچاہیے۔ پاکستان کے مستقبل کو بچانےکیلئے جذبات کی بجائے دانشمندانہ غوروفکرکی ضرورت ہے۔ اس کے لیے حکو متوں اور سول سوسائٹی دونوں کو شہری اوردیہی علاقوں میں مستقل جدوجہد کرنی ہوگی ہم تاحال کریمنل جسٹس سسٹم اور درست سیاسی نظام سےکافی دورہیں اورہمارا معاشرتی اورثقافتی نظام بھی تباہ ہوچکاہے۔

مجھے ابھی تک ایک پرائیوٹ اسکول کی خاتون پرنسپل کےوہ پانچ اقدام یاد ہیں جوانھوں نےسکول داخلے کے وقت والدین کو بتائے تھے۔ اس حقیقت کا سب سے حیران کن حصہ وہ تھا جب انھوں نے اپنی کہانی بیان کی کہ کیسے ان کےاپنےہی ڈرائیورنےانھیں ہراساں کرنے کی کوشش کی، انھوں نے کہا،’’ میں نہیں چاہتی کہ جو کچھ میرے ساتھ ہوا وہ کسی اور کےبچے کے ساتھ بھی ہو۔ بطور والد اوروالدہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ دوسروں پرانحصار کرنے کی بجائے اپنے بچے کو خود چھوڑیں اور لے کر جائیں۔‘‘

ان کی دوسری نصیحت یہ تھی کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا بچہ لفظ ’اجنبی‘ کےمعنی جانتاہو۔ والدین کےعلاوہ بھائی بہن، دادا، دادی اور دیگر تمام رشتہ داروں کےساتھ ایک حد تک ’اجنبیوں‘ کی طرح رویہ رکھاجائے۔ انھوں نے کہا’’ آپ کےبچےکوپتہ ہوناچاہئےکہ آپ کی اجازت کےبغیرکسی کےقریب یا باہر نہیں جاناچاہئے۔

میں نے بہت سے والدین کودیکھا ہےکہ وہ اپنےبچوں کو اپنے گھریلو نوکروں یا ڈرائیوروں کےحوالےکردیتےہیں۔ اس طرح وہ غیرمحفوظ ہوجاتے ہیں، یہ کافی خطرناک ہوسکتاہے۔‘ حتیٰ کہ انھوں نے خبردار کیاکہ والدین کو ہمیشہ گھرلوٹنےکےبعد بچوں کےساتھ اساتذہ اوردیگرغیرمعمولی حرکات سے متعلق بات چیت کرنی چاہئے۔

ان کاکہناتھا کہ اگر بچےکا رویہ غیر معمولی لگے تو والدین کو اس پر بھی غور کرناچاہیے۔ دیہی علاقے اور دیہات کے اپنےطورطریقےہوتےہیں اوروہاں مضبوط اقدار اور مشترکہ خاندانی نظام ہونےکےباوجودگزشتہ چندبر سوں میں بچوں کےاغوا، جنسی ہراساں اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہواہے۔ شہروں میں محلہ سسٹم ختم ہوچکاہے، لیکن دیہی علاقوں میں تاحال یہ سسٹم مضبوط ہے۔

یہ محض ’تعلیم‘ کا سوال نہیں ہے بلکہ یہ آپ کے بچے کی تربیت کا سوال ہے کہ آپ کس طرح بچے کی تریبت کرتے ہیں کہ وہ مختلف واقعات کے بارے میں آپ کو کس طرح بتاتاہے۔ قصور کے لوگوں کا ردعمل قدرتی تھا لیکن انھیں مزیدمحتاط اورباخبر ہونے کی بھی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کےمزیدواقعات سےبچا جاسکے۔

یہ حیران کن تھا کہ قصور کےزیادہ ترمنتخب ایم این ایزاورایم پی ایز کا تعلق حکمران پی ایم ایل (ن) سےہے، ان کے حلقوں میں اس طرح واقعات پہلی بار اچانک سے نہیں ہوئے اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام میں پولیس اورانتظامیہ کی مسقتل ناکامی کے خلاف ایک بار بھی آواز نہیں اٹھائی گئی۔ لیکن واقعےکو ’جسٹس فار زینب‘ کی حد تک سیاسی رنگ دینااور واقعے کو حکومت کے خلاف استعمال کرنابھی غلط ہوگا۔

کم ازکم پی پی پی اور پی ٹی آئی کی جانب سے دانشمندانہ ردِ عمل کی امید تھی کیونکہ وہ حقائق سے اچھی طرح باخبر ہیں کہ اس طرح کے واقعات پاکستان بھر میں ہوتے ہیں۔ یہ محض حکومت یا ریاست کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ بطور ایک معاشرہ ہم سب کو مل کر ایک کردار ادا کرنا ہوگا۔

دوئم، وہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں جو ’جسٹس فارزینب‘ کا مسئلہ اٹھارہی ہیں، اگر وہ ماضی میں اس طرح کی مہم چلاتی توکم از کم قصور میں چند زندگیاں بچ جاتیں۔ معاشرے میں ’برائیوں‘ سےبچوں کے تحفظ کے تین درجے ہیں۔ اول، یہ ریاست کی ذمہ داری ہے، جو نہ صرف ایک مضبوط کریمنل جسٹس سسٹم بنانے کی ذمہ دار ہے بلکہ ایک ایسا ماحول بنانا بھی اس کی ذمہ داری ہے جس میں خاندان بلا خوف وخطر اپنےبچوں کوباہر کھیلنے کیلئے یاسکول بھیج سکیں۔

ایک وسیع تناظر میں قانون کی حکمرانی کے کافی مطلب ہیں اس میں سیاسی مفادات سے بالا تر مضبوط اور پیشہ ورانہ پولیس، تیزرفتار ٹرائل اورکڑی سزا بھی شامل ہے۔ لیکن جرم ہونے کے بعد ٹرائل اور سزا کی باری آتی ہے۔

والدین کے لیےسب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان کےبچوں کےساتھ اس طرح کا گھنائوناجرم نہیں ہوا۔ اگر ریاست یا حکومت ایک چھوٹے سے شہر قصور میں ایک سال کے دوران 13زینب اور بوبی کو نہیں بچا سکی تو پنجاب حکومت کس طرح بہترین گورننس کا دعویٰ کرسکتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں