آپ آف لائن ہیں
اتوریکم ذیقعدہ1439ھ 15؍ جولائی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Todays Print

کوئٹہ (نمائندہ جنگ؍جنگ نیوز) مسلم لیگ ن کے وزیراعلی نواب ثناء اللہ زہری کے مستعفی ہونے کے بعد بلوچستان حکومت کی باگ دوڑ مسلم لیگ ن کی جگہ مسلم لیگ ق نے سنبھال لی اور مسلم لیگ ق کے میر عبدالقدوس بزنجو 41ووٹ حاصل کرکے صوبے کے نئے وزیراعلی منتخب ہوئے اور بعدازاں نومنتخب وزیراعلی سمیت 14رکنی کابینہ نے حلف اٹھالیا ہے۔ ہفتہ کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی سربراہی میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کیلئے منعقد ہوا جس میں ق لیگ کے امیدوار میر عبدالقدوس بزنجو اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے امید وار آغا لیاقت کے درمیان مقابلہ ہوا۔ گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے 65 میں سے 54 ارکان نے ووٹ کا استعمال کیا جن میں سے 41 ووٹ میر عبدالقدوس بزنجو اور 13 پشتونخوا میپ کے آغا لیاقت کو ملے۔ سابق وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ خان زہری نے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور نیشنل پارٹی کے ارکان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ، سردار محمد اسلم بزنجو ، نواب محمد خان شاہوانی ، رحمت بلوچ، حاجی اسلام بلوچ ، ڈاکٹر شمع اسحٰق بلوچ ، یاسمین لہڑی اور گھنشام داس نے پارٹی کے فیصلے کے تحت اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے بعد 14 رکنی نئی کابینہ کا بھی انتخاب عمل لایا گیا جن میں سابق وزیرداخلہ سرفراز بگٹی بھی شامل ہیں۔

گورنر ہاؤس بلوچستان میں حلف برداری کی تقریب ہوئی۔ گورنر محمود خان اچکزئی نے نو منتخب وزیرِ اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو سے حلف لیا ۔حلف اٹھانے والی کابینہ میں میر سرفراز احمد بگٹی، طاہر محمود خان، سردار سرفراز خان ڈومکی، نواب چنگیز خان مری، راحت جمالی، عبالمجید ابڑو، میر عاصم کرد گیلو، عامر رند، غلام دستگیر بادینی، محمد اکبر عسکانی، شیخ جعفر خان مندوخیل، سید محمد رضا، منظور احمد کاکڑ اور پرنس احمد علی شامل تھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں