آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غالب نے کہا تھا ’’حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں‘‘۔ آج کل یہی حال ہر ذی شعور کا ہے۔ وہ جنہیں ہماری رہنمائی کرنی ہے ان کا اندازِ گفتگو، طرزِ فکر اور ترجیحات دیکھ کر شرمندگی اور پچھتاوے کی گہری دُھند زندگی کا روشن چہرہ نظروں سے اوجھل کر دیتی ہے۔ ایک فقرے ’’غلط سوال مت پوچھیں‘‘ نے میرے سامنے کئی سوالات کھڑے کر دیئے۔ میرا دِل بین کرنے لگا، ، میری روح مضمحل ہو کر مجھ سے پوچھتی ہے کہ کیا انسانوں کی زندگی سے جڑے سوالات کو غلط کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بات نہیں اگر کچھ حلقوں کے مفادات کو تحفظ دینے کے لئے مشال خان کو مذہب کے نام پر دن دہاڑے اذیت ناک موت سے دوچار کردیا گیا۔ کوئی بات نہیں اگر ایک نوجوان لڑکی کو بھرے مجمع کے سامنے برہنہ کر کے پھرایا گیا، کوئی بات نہیں اگر شبقدر میں طالب علم نے پرنسپل کو بازپرس پر توہینِ رسالت کا الزام لگا کر بے دردی سے قتل کر دیا کیوں کہ فیض آباد دھرنے میں شرکت سے منع کرنا اصولوں کے خلاف تھا اس لئے طالب علم اپنے کئے پر بالکل شرمندہ نہیں بلکہ اس نے کھلے عام یہ اقرار کیا کہ ’’ہمیں بار بار بتایا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں کسی کو قتل کرنے سے ہچکچائو نہ ڈرو‘‘۔ اس نے ایم اے اسلامیات اور حافظ قرآن پرنسپل پر چھ گولیاں فائر کیں اور ذمہ داری قبول بھی کر لی۔ کیا ہوا کہ

مردان کی ننھی کلی عاصمہ کو درندگی کا سامنا کرنا پڑا، اسے چیر پھاڑ کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا۔ وہ بھی غریب بچی تھی۔ اس طرح کے واقعات تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ ان کچی بستیوں میں جانا کوئی آسان کام نہیں، وہاں کوئی ہیلی پیڈ ہی نہیں۔ ہاں آپ شہباز شریف کو دیکھیں سب سے چھپ کر زینب کے گھر چلا گیا، یہ کوئی بات ہے۔ اتنے دنوں بعد قاتل پکڑنا کوئی کامیابی نہیں۔ آپ نیب کی بات کریں۔ ہمارے ہاتھ کچھ اہم ثبوت آئے ہیں۔ ان شاء اللہ ہم نیب اور ختم نبوت کے معاملے کو سرد خانے میں پھینکنے نہیں دیں گے۔
کراچی میں زندگی سے بھرا خوبصورت نقیب اللہ محسود، جو اپنے بچوں کے ساتھ اپنے جہان میں خوش و خرم زندگی بسر کر رہا تھا، کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ ہر روز وہاں کتنے بیگناہ لوگ قبضہ مافیا کے ہاتھوں جان سے جاتے ہیں۔ کتنی بے نظیریں اور مرتضیٰ صفحۂ ہستی سے مٹا دیئے جاتے ہیں۔ تھر میں لوگ زندگی کے بنیادی حقوق کو ترس رہے ہیں اور زرداری صاحب پنجاب کو کرپشن سے پاک کرنے اور ماڈل ٹائون کا احتساب کرنے ہفتوں لاہور میں ڈیرے لگا کے بیٹھ جاتے ہیں۔ شاید ہر شہر میں بلاول ہائوس کی دیواریں اتنی بلند اور موٹی ہیں کہ بے بسوں کی کمزور آوازیں ان تلک پہنچتی ہی نہیں اس لئے انہیں سب اچھا دکھائی اور سنائی دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ رہنما کا مقصد معاشرے میں مثبت نظریات کے ذریعے عوام کی فلاح ہوتا ہے یا صرف اقتدار کی کرسی کا حصول اور اس کے لئے محبت اور جنگ کے اصولوں سے بھی تجاوز کرنا عام بات ہو گئی ہے۔ زینب ایک ٹیس کی طرح ہمارے دلوں میں موجود رہے گی مگر اس معصوم پری نے بے حس معاشرے کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ تو ہمیں کبھی نہیں ملے گی مگر شاید بہت سی دیگر کلیوں کا تحفظ ممکن ہو جائے۔ قتل ایک ہو یا 14 ان کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے مگر اسے 14 نکات بنا کر سیاسی ایجنڈا بنانے والوں نے متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک ہی چھڑکا ہے۔ وہ جنہیں انصاف کے ترازو پر نظر رکھنی ہے وہ بازاروں کا دورہ کر کے خبروں کی زینت بن رہے ہیں۔ سیاست دانوں کے عمل اور تقاریر پر تبصرے کر رہے ہیں اور جنہیں قانون سازی کرنی ہے ملک کی تقدیر بدلنے کے لئے تدبیر کرنی ہے، منصوبے بنانے ہیں، وہ میڈیا پر دھینگا مشتی میں مصروف ہیں۔ اصل مسئلہ میڈیا پر لگائی جانے والی عدالت کا ہے جہاں سے ہر وقت منفی پروپیگنڈا، الزامات اور فتوے جاری ہوتے ہیں، جس نے ہر فرد کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اب میڈیا کے ساتھ ساتھ اداروں کے سربراہ بھی ریٹنگ کا شکار ہو کر بیانات کو روزمرہ ایجنڈے میں شامل کرنے لگے ہیں۔
بھلا ہو ان تمام اداروں اور افراد کا جن کی دن رات کاوشوں سےزینب کا قاتل پکڑا گیا ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس درندے کو تختۂ دار تک پہنچانے کے لئے، ڈاکٹر طاہر القادری پھانسی کی سزا بحال کرنے کے لئے کوئی دھرنا دیں گے؟ سراج الحق صاحب کوئی جلسہ کریں گے؟ معاشرے کی تمام خرابیوں کی وجہ مذہب سے دوری کو قرار دینے والے کیا جواز پیش کریں گے؟ آخر ایک بیان کہ شیطان کے بہکاوے میں آ گیا تھا، معاف کر دیا جائے والا معاملہ ہو گا، لیکن قوم اس معافی کو قبول نہیں کرے گی۔ آخر ایک انسان دو روپ لے کر کیسے زندہ رہتا ہے۔ ان سب کے پیچھے بھی یہی حقیقت پوشیدہ ہے جس کے بارے میں صوفی ہمیشہ دہائی دیتا رہا ہے۔ قصور کے بُلّھے شاہ نے ’’راتیں جاگیں کریں عبادت راتیں جاگن کتے‘‘۔ حضرت سلطان باہوؒ نے ان کی صحیح ترجمانی کی تھی:
پڑھ پڑھ حافظ کرن تکبر ملاں کرن وڈیائی ہو
گلیاں دے وچ پھرن نمانے بغل کتاباں چائی ہو
جتھے ویکھن چنگا چوکھا اوتھے پڑھن کلام سوائی ہو
صوفی نے مذہب کو معیشت بنانے کے خلاف آواز بلند کی اور اس کا سہارا لے کر لوگوں کا استحصال کرنے والوں کو برا بھلا کہا۔ وہ ظاہر پرستوں کے مکر و فریب سے آگاہ کرتے رہے۔ اقبال نے بھی درویشی اور عیاری کی بات کر کے ان کی حقیقت نمایاں کی تھی۔ آج ہمارے معاشرے میں اخلاقی قدروں کے زوال کی ذمہ داری ان ظاہر پرست رہنمائوں کے دہرے رویے اور قول و فعل میں تضاد کے سبب ہے۔ ایک سوال مجھے بھی پوچھنا ہے، ایک شہری اور ایک ماں کے طور پر کہ میرے معاشرے کو آپ نے اس حد تک برباد کیوں کیا ہے؟ آپ کی اس زمین اور لوگوں کے ساتھ کیا دشمنی ہے کہ سادہ لوح پیروکاروں کو توڑ پھوڑ اور قانون ہاتھ میں لینے کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ آپ کی تقریروں سے متاثر ہو کر لوگ خود منصف بن بیٹھے ہیں۔ آپ نے پورا نظام برباد کر دیا۔ وہ نظام جس میں میرے بچوں نے زندگی بسر کرنی ہے، آپ کے بچے ایک ترقی یافتہ ملک میں چین کی بانسری بجاتے ہیں مگر میرے بچوں کی نیند ڈرائونے خوابوں سے بھر گئی ہے، میں کیا کروں؟ عمران علی نقشبندی نے سات سالہ آٹھ، بچیوں سے زیادتی کی۔ عمران خان نے پوری قوم کے بچوں کا مستقبل دائو پر لگا دیا ہے۔ خدارا سوچئے، زندگی ختم ہونے والی چیز ہے، قدروں کا قتل نہ کیجئے۔ اپنے سیاسی حریفوں پر تنقید کریں، سیاست کریں مگر نسلوں کو برباد نہ کریں۔ استاد کا قتل معاشرتی اور اخلاقی قدروں کا قتل ہے، نظم و ضبط کا قتل ہے، نظام کا قتل ہے، انسانیت کا قتل ہے، کہیں یہ بھی غلط سوال تو نہیں؟ بقول منیر نیازی:
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے
لیکن سیاسی رہنما کو اپنے عمل کا حساب دینا پڑتا ہے اور سوالوں کا جواب بھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں