آپ آف لائن ہیں
منگل6؍رمضان المبارک 1439ھ 22؍ مئی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Todays Print

اسلام آباد(تبصرہ:طارق بٹ)سابقہ تمام سینیٹ انتخابات کے برعکس ایم کیو ایم(پاکستان)کو سخت مشکلات کا سامنا ہےاوراندیشہ ہے کہ وہ ایوان بالا میں اپنے حصے کی کچھ سیٹیں کھو بیٹھیں ، جس کا اندازہ ان کی سندھ اسمبلی میں عددی تعداد سے لگایا گیا تھا۔فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ ایم کیو ایم (پاکستان)کو کتنی سیٹوں کا نقصان پہنچ سکتا ہے، تاہم اس کے دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کے باعث ووٹ بھی تقسیم ہوں گے، جس سے ان کی جماعت کو نقصان جب کہ دیگر انتخابی جماعتیں فائدہ اٹھاسکتی ہیں۔فی الحال 8امیدوار ڈاکٹر فاروق ستار کے حق میں ہیں جب کہ 7کا تعلق دوسرے گروپ سے ہے۔البتہ ان میں سے آدھی تعداد ہی انتخابی عمل کا حصہ ہوگی۔ایم کیو ایم پاکستان کے ایک رکن نے اس نمائندے سے بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ 3مارچ سے قبل لائحہ عمل تشکیل دے دیا جائے گا کیوں کہ دونوں دھڑوں کو معلوم ہے کہ اختلاف کے باعث ایم کیو ایم پاکستان کو کچھ سیٹوں کا خسارہ پہنچ سکتا ہے۔بظاہر ایم کیو ایم پاکستان کے آپسی اختلافات کے سبب پیپلز پارٹی زیادہ امیدوار میدان میں اتارسکتی ہے۔سندھ سے 12سینیٹرز کا انتخاب ہونا ہے اور ارکان اسمبلی کی تعداد کی بنیاد پر پیپلز پارٹی 7یا 8سیٹیں جیت سکتی ہے ، جب کہ ایم کیو ایم پاکستان اور دیگر جماعتیں 4یا5سیٹیں جیت سکتی ہے۔پیر کے روز ایم

x
Advertisement

کیو ایم نے پیپلز پارٹی پر الزام عائد کیا کہ ان کے ارکان کو سینیٹ انتخابات کے حوالےسے خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے۔جب کہ پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے متنفر ارکان کو اپنے جماعت میں شمولیت کی دعوت دیں۔168ارکان پر مشتمل سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے 90سے زائد ارکان ہیں۔جب کہ ایم کیو ایم کے ارکان کی تعداد 50ہے۔پیر پگاڑا کی فنکشنل لیگ کے 9ارکان ، ن لیگ کے 7ارکان، تحریک انصاف کے 4ارکان اور نیشنل پیپلز پارٹی کا ایک رکن ہے۔اس کے علاوہ ایک آزاد رکن بھی ہے۔این پی پی اور آزاد رکن ، ن لیگ کی حمایت کرتے ہیں۔حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے کل ارکان کی تعداد 74بنتی ہے۔تاہم ، سینیٹ انتخابات میں متفق نہیں ہیں۔سابقہ تمام انتخابات میں ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی ارکان کی تعداد کے مطابق ہی سینیٹ سیٹیں جیتی تھیں اور کبھی ان کا آپسی اتحاد ڈاما ڈول نہیں ہوا۔تاہم اب صورتحال متزلزل ہے۔ایم کیو ایم کے دونوں دھڑے ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔اب اسے اتفاق کہیں یا طے شدہ منصوبہ کہ سینیٹ انتخابات کے موقع پر بلوچستان کے وزیراعلیٰ کو بغیر کسی وجہ کے عہدے سے ہٹادیا گیا اور ایم کیو ایم میں آپسی اختلا فا ت شدت اختیار کرگئے۔نواب ثنااللہ زہری کووزیر اعلیٰ بلوچستان کے عہدے سے ہٹا کر عبدالقدوس بزنجو کو وزیر اعلی بنوادیا گیا، جس کا مقصد ن لیگ کی سینیٹ کی کم از کم 5سیٹیں کم کرنا تھا ، کیوں کہ وہ یقینی طور پر بلوچستان اسمبلی کی سب سے بڑی پارلیمانی جماعت تھی ، جس کے ارکان کی تعداد 21ہے۔تاہم اس جھٹکے کے باوجود ن لیگ کو امید ہے کہ وہ سینیٹ کی دو سیٹیں یہاں سے جیت سکتی ہے۔اسی طرح سندھ میں ایم کیو ایم کے ووٹ بینک کو بھی متاثر کیا گیا ہے۔ایم کیو ایم کے آپسی اختلافات میں ، مصطفیٰ کمال کی پی ایس پی ، اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے میں کہیں نظر نہیں آرہی، بلکہ الٹا ان کے اپنے ایک رہنما سلمان بلوچ نے پی ایس پی کو خیر باد کہہ کر فاوق ستار گروپ میں شمولیت اختیار کرلی۔خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے، وہاں بھی بڑے پیمانے پر پیسوں کے استعمال کی باتیں کی جارہی ہیں۔یہاں تک کے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ 3مارچ کو انتخابات والے دن پشاور میں کیمپ لگائیں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان کی جماعت کا کوئی بھی رکن اسمبلی ان کے نامزد امیدوار کے خلاف نا جائے اور ہر کوئی ان کی ہدایت پر عمل کرے۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں