آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عاصمہ کی یاد میں کیسے کیسے نذرانے، نوحے اور نغمے فضاؤں میں بکھر رہے ہیں۔ ایسا کسی کے انتقال پر اک مدت کے بعد سننے اور دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کشور ناہید رقم طراز ہیں: اذیت پرستی کے سارے ناخدا نابود ہو جائیں گے، تمہاری بے چین اور پاک روح عاصمہ، تمام خاک پسند لوگوں کے چہروں کی خراشیں، سُبک نرم رو تازہ شگوفوں میں بدل دے گی، سب اُجاڑ بستیوں میں ہر روز تمہارے قدموں کی چاپ سُن کے، آزردہ اور بے نور آنکھیں بھی جگمگا اُٹھیں گی، اذیت پرستی کے سارے ناخدا نابود ہو جائیں گے، مگر تمہاری روح کبھی کیا اکثر، چڑیا کی آواز کے ساتھ اور سارے عالم میں بادلوں کی گرج کے ساتھ، ہمارے ساتھ کھڑی ہوگی، عاصمہ تم جاوداں ہو! ایسی ہی بہت آزردہ، پُریقیں اور خوش فہم تحریریں عاصمہ کے لئے محبت کے پھول بکھیر رہی ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں:
میرے مرنے پہ بھی وہ راضی نہیں
کیا ابھی کچھ بدگمانی اور ہے
اذیت پسند کیوں چپ ہوں گے؟ اُسے چتا میں جلانے سے، مخلوط جنازے پہ اُنگلیاں اُٹھانے اور جانے کیا کیا اور یہ دُعا بھی کہ آپ بھی اُس کے ساتھ راہِ عدم سدھاریں۔ اور ایسے ناداں دوست بھی جو اس بحث میں مگن ہیں کہ فرد اہم ہے کہ اجتماع۔ ساری عمر اُس نے طاغوتی قوتوں کو بیچ میدان کھڑے ہو کر للکارا تھا اور جاتے جاتے اس کے جنازے کا منظر بھی کذب و ریا کی

پیروی کرنے والوں کو، ہمتِ کفر، جرأتِ تحقیق کی دعوت دے گیا۔ بھئی فرضِ کفایہ ہی تو ہے اور بس اللہ کے حضور مغفرت کی دُعا۔ خانہ کعبہ میں مخلوط عبادات ہو سکتی ہیں، تو جنازے میں عورتوں کی شرکت میں کیا قباحت؟ جانے کیوں عبادت گاہوں میں عورتوں کا داخلہ ممنوع ہے؟ مگر عاصمہ کے جنازے نے یہ روایت بھی توڑ دی کہ وہ تو تھی ہی بُت شکن۔ کون کون سے بُت تھے جو اُس نے ببانگِ دہل نہیں ڈھائے اور کون جابر تھا جو اس کی للکار کے سامنے ٹھہر سکا۔ آمریت کے بُت، انسانی حقوق سے انکار کے بُت، بچوں سے زیادتی کے بت، عورتوں کو آدھا انسان بنانے کے بُت، اقلیتوں کی تحقیر کے بت، طبقاتی تفریق کے بت، فرقہ واریت کے بت، جنگ و جدل کے بت، انسان دشمنی کے بت۔ کسی نے ان بتوں کی درگت ہوتے دیکھنی ہو تو وہ عاصمہ کے رزمیے کا ایک آدھ صفحہ ہی دیکھ لے۔ اُس کے بُت شکنی کے کلام کی تو نہ ختم ہونے والی جلدیں ہیں۔
ایسے میں یہ مشکل آن پڑتی ہے کہ ایسی نابر خاتون رہنما کو پکارا کیسے جائے۔ وہ ایک منحنی سی خاتون تھی بغیر کسی کر و فر کے لیکن اُس میں جو بجلیاں موجزن تھیں وہ دیدنی تھیں۔ اتنی بے باکی، دلیری، بے خوفی کو کوئی کیسے بیان کرے۔ کسی نے کہا کہ وہ آئرن لیڈی ہے، ارے بھئی آئرن لیڈی تو مارگریٹ تھیچر بھی تھی جو عاصمہ کی بالکل ضد۔ یہ کیوں نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ایک آہنی ارادے کی مالک خاتون تھی جس کے سامنے آہنی ادارے اور ناقابلِ تسخیر دیواریں بھی دہل دہل جاتی تھیں۔ کسی نے کہا کہ وہ ’’مردانہ وار لڑی‘‘ کہ کسی عورت کے یوں لڑنے کے لئے کوئی صنفی طور پر حساس محاورہ نہیں ہے۔ یہ کیوں نہیں کہا جا سکتا کہ وہ زنانہ وار لڑی کہ پدر شاہی معاشرے میں اس کی مثال نہیں۔ اور جو اس پر غداری کے الزام لگاتے ہیں وہ کشمیر میں ہونے والے بہیمانہ تشدد پر اقوامِ متحدہ کے لئے اس کی رپورٹ ہی پڑھ لیں۔ یا پھر دلّی میں ہونے والے اُس تعزیتی اجلاس کی کارروائی دیکھ لیں جہاں اس کی ہمنوا ساتھی کملا بھاسین آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے ذرا ہچکچا نہیں رہی تھیں۔ مشکل یہ ہے کہ عاصمہ جیسی ہمہ نو حریت پسند کے لئے پہلے سے کوئی سانچہ نہیں جس میں وہ سما جائے۔ آخر اُسے کسی ایک سانچے میں کیوں بند کیا جائے جبکہ وہ کسی سانچے میں ڈھلنے والی نہیں تھی۔
عاصمہ کیا تھی؟ بس ایک نعرۂ مستانہ، مزاحمت کی علامت اور چلتا پھرتا احتجاجی جلوس۔ انسانی حقوق ہوں یا شہری آزادیاں، آئین کی بالادستی ہو یا عوام کا اقتدارِ اعلیٰ، عورتوں سے تفریق ہو یا بچوں کے ساتھ ناروا سلوک، اُجرتی غلامی ہو یا کسانوں کی بدحالی، خطے میں امن ہو یا جنگجوئیت کی مخالفت، مذہبی عصبیت پسندی ہو یا نسلیاتی نابرابری، پارلیمنٹ کی بالادستی ہو یا پھر صحافت کی آزادی اور عدلیہ کی خودمختاری، بنگالیوں سے ناانصافی ہو یا بلوچوں سے زیادتی، دُنیا میں ظلم ہو یا خطے میں بربریت، وہ ناانصافیوں کے خلاف انصاف کی آواز تھی۔ اُسے کسی کی پروا تھی، نہ اپنی جان کی فکر۔ بس خالی ہتھیلی پہ وہ اپنا سر رکھ کر ہر کسی ظالم سے ٹکرانے کو ہر وقت تیار تھی۔ وہ ایک سچی عوامی رہنما تھی اور سیاسی کارکن جو کسی پارٹی کی رُکن نہ ہوتے ہوئے بھی اپنی ذات میں ایک پارٹی تھی۔ اس جدوجہد میں وہ اکیلی نہیں تھی اور نہ وہ نظم و ضبط سے آزاد تھی۔ اُس کا ایک واضح عوامی، جمہوری، انسانی اور سماجی نظریہ تھا۔ وہ ترقی پسند تھی، انسانیت پسند تھی، جمہوریت پسند تھی، سماج وادی تھی اور سیکولر مسلمان بھی۔ اس تاریخی جہد میں اُس نے کئی تنظیموں کی بنیاد رکھی جن کی قوتِ محرکہ میں پاکستان کے چوٹی کے دماغ اور نہایت مخلص رہنما کارکن شامل تھے۔ وہ تنِ تنہا بھی لڑتی تھی اور سب کو ساتھ ملا کر میدانِ کارزار میں اُترتی تھی۔ اگر ہیومن رائٹس کمیشن میں آئی اے رحمان، عزیز صدیقی، حسین نقی جیسے سینئر ایڈیٹرز اور جسٹس دراب پٹیل اور ایئرمارشل ظفر چوہدری جیسی مایہ ناز شخصیات تھیں تو ویمن ایکشن فورم میں پاکستانی خواتین کی نہایت زوردار آوازیں شامل تھیں۔ قانونی داد رسی کے لئے جو سیل (AGHS) بنا اُس کی روحِ رواں اُن کی بہن حنا جیلانی اور بہت سے وکیل تھے۔ عورتوں کی پناہ گاہ دستک مہہ ناز جیسی فنا فل خواتین کے پاس تھی۔ بھٹہ مزدور تنظیموں، ٹریڈ یونینز، وکلا کی تنظیموں اور طرح طرح کی ترقی پسند اور عوامی جتھہ بندیوں کو عاصمہ کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ پاکستان میں عوامی جمہوری جدوجہد کی تاریخ میں تاریک راہوں میں مارے جانے والے سینکڑوں ہیروز میں عاصمہ بھی ایک تھی اور سب سے منفرد بھی۔ دو لفظوں میں یوں کہیے کہ وہ عوامی مزاحمت کی علامت تھی اور ہے۔ بقول فیض
شہر جاناں میں اب باصفا کون ہے؟
دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے؟
رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو
پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو
عاصمہ کی بے وقت اور اچانک موت نے یقیناًایک خلا پیدا کیا ہے اور اُسے پُر ہونے میں وقت لگے گا۔ لیکن اس کی روایت ہزاروں نوجوانوں کو مزاحمتی راہ پہ لائی ہے اور آج اس ملک میں انسانی حقوق کے لئے آواز اُٹھانے والوں کی کمی نہیں۔ رجعتی بالادستی، فکری حبس اور تحریکی ناطاقتی کے ماحول میں عاصمہ بڑی غنیمت تھی۔ اُس نے سارے جہاں کا غم اپنے سر لے رکھا تھا اور یار لوگ بے فکر رہتے کہ عاصمہ تو ہے، دیکھ لے گی۔ اب وہ نہیں رہی، اُس کی یاد تو ہے اور اس کی روایت کی درخشاں مثال بھی۔ معاشرتی بدلاؤ، انسانی حقوق و آزادیوں کا تحفظ، جمہوری شجر کی آبیاری اور انسان دوستی کا چلن آسان کام نہیں۔ نہ ہی یہ ایک آدھ نسل یا چند اشخاص کے بس کا کام ہے۔
جو سماجی و تحریکی بوجھ اُس نے اُٹھا رکھے تھے، اُنہیں آج بانٹنے کی ضرورت ہے۔ جمہوری تحریک کے انہدام اور انقلابی تحریک کے اسقاط کے زمانے میں یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ غلطیوں سے سیکھا جائے اور نئی راہیں استوار کی جائیں۔ اب ایک ایسے کم از کم سماجی جمہوری ایجنڈے کی ضرورت ہے جو سب ترقی پسند اور عوامی قوتوں کو متحد کر دے۔ بکھری ہوئی کاوشوں کو ایک لڑی میں پرو دے اور سیاست کی موجودہ بے ثباتی میں اُمید کی کرن بن کر سامنے آئے۔ عاصمہ سے ہماری محبت تقاضا کرتی ہے کہ
جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں
علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں