آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگلے روز ہماری بات لاہور کے دوسرے میئر اور اپنے وقت کے معروف ایڈووکیٹ ملک شوکت علی مرحوم کے بیٹے پروفیسر ڈاکٹر محمود شوکت سے سی ایس آر (Corporate Social Responsibility)یعنی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری پر بات ہو رہی تھی۔ جو ادارے کاروباری طور پر بڑے مستحکم اور وسیع کاروبار رکھتے ہیں وہ سی ایس آر کی ذمہ داریاں بھی پوری کرتے ہیں خصوصاً تعلیم، صحت، ماحول اور دیگر سماجی کاموں میں وہ حصہ لیتے ہیں۔ بات چیت کچھ یوں شروع ہوئی کہ 10 اگست 1999ء کو نیوی کے ایوی ایشن کے کو پائلٹ لیفٹیننٹ ضرار احمد بن منصور، ان کے پائلٹ، پانچ دیگر آفیسرز اور 11سیلرز کو بدین میں انڈین ایئر کرافٹ نے ان کے ایئر کرافٹ کو مار گرایا اور یہ سب آفیسر اور عملہ شہید ہوگیا تھا۔
ضرار احمد کی والدہ مسز کلثوم منصور مرحومہ اپنے بیٹے کی شہادت سے صرف دو روز قبل ڈائریکٹر جنرل نرسنگ اور پرنسپل نرسنگ اسکول سے ریٹائر ہوئی تھیں۔ بہت ارمان تھے کہ بیٹے کے ساتھ گپ شپ ہوگی۔ اس کی شادی، اس کے مستقبل کے بارے میں باتیں ہوں گی، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس کا مقام اور مرتبہ تو دنیاوی عہدوں اور آرام و آسائش سے بہت بلند ہوگیا تھا۔ ماں نے اب سوچا میرا بیٹا جب اتنے عظیم مشن کے لئے شہید چکا ہے اب اس کے مشن کو کس طرح آگے جاری رکھوں بلکہ اس چراغ کی لُو کو مزید کیسے تیز

کروں تاکہ اس کی روشنی مزید دور تک جائے۔ یقیناً بوڑھے ماں باپ بہنوں اور بھائی کے لئے یہ ایک بہت بڑا صدمہ تھا مگر دوسری طرف شہادت کا رتبہ ان کے غم کو کم کرگیاتھا۔
مسز کلثوم منصور اور ان کے میاں منصور احمد نے فیصلہ کیا کہ وہ غریب اور نادار مریضوں کے لئے ایک اسپتال ضرار احمد شہید کے نام سے بنائیں گے۔ جب انہوں نے فیصلہ کیا اس وقت ان کے پاس نہ زمین اور نہ ہی کوئی ٹھوس اور قابل عمل منصوبہ تھا۔ دونوں میاں بیوی نے اپنی ریٹائرمنٹ پر ملنے والی گریجویٹی، پنشن، دیگر تمام جمع پونجی اور ضرار کی پنشن وغیرہ سب کچھ اکٹھا کرکے برکی روڈ پر سات کنال قطعہ اراضی خریدا اور اسپتال کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ باقی بہنوں اور ایک بھائی نے بھی اس میں حصہ ڈالنا شروع کر دیا اور اسپتال کی تعمیر شروع ہوگئی۔ 2002ء میں ضرار شہید ٹرسٹ اسپتال کی بنیاد رکھی گئی اور بیس کروڑ روپے کی لاگت سے یہ اسپتال تعمیر ہوگیا۔ گو ابھی بہت سارے کام کرنے ہیں، بلڈنگ میں توسیع بھی جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے لاہور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے اس اسپتال کا افتتاح کرتے ہوئے بڑے دردمند لہجے میں کہا کہ وہ اب اس اسپتال کی مزید تعمیر اور منصوبوں کو سی ایس آر کے تحت مکمل کرائیں گے اور ان کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے اسپتال کے لئے ایک چیک بھی دیا اور کہا کہ مجھے بالکل اچھانہیں لگا کہ خودنمائی کروں اور یہ چیک یوں آپ کے سامنے دوں مگر یہ ایک بہت نیک کام اور بلند مقصد ہے اور اس کام کو انشاءاللہ ہم مکمل کریں گے۔ سی ایس آر کے حوالے سے ڈاکٹر محمود شوکت کئی مرتبہ کافی عرصہ سے محکمہ صحت کو لکھ رہے ہیں کہ اس طرح ہم بہت سارے ویلفیئر کے کام کرسکتے ہیں مگر محکمہ صحت کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی۔
حالانکہ سی ایس آر کے تحت شعبہ صحت اور شعبہ تعلیم میں بہت کام ہو سکتا ہے ایک طرف ضرار احمد شہید کے والدین ہیں جنہوں نے اپنی جمع پونجی لگا کر ایک اسپتال بنایا تو دوسری طرف ہمارے حکمراں جو لوگوں کی جمع پونجی کو لوٹ لیتے ہیں ۔ اس ملک میں فنانس کمپنیوں کا اسکینڈل، قرض اتارو اور ملک سنوارو اور پتہ نہیں کون کون سے منصوبے شروع کئے گئے اور ہر منصوبے میں کوئی نہ کوئی گھپلا ہوگیا۔ اب آپ دیکھ لیں کہ آپ کے سامنے آشیانہ ہائوسنگ اسکیم کے سکینڈل سامنے آ رہے ہیں۔ حکومت بعض سرکاری اسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں سی ایس آر کے تحت ڈائیلسز سینٹرز اور واٹر فلٹریشن پلانٹ بھی لگا رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مثلاً ڈی ایچ اے، ایل ڈی اے اور دیگر اداروں کو اس کا دائرہ کار مزید بڑھانا چاہئے اگرچہ ڈی ایچ اے سی ایس آر کے تحت فلاحی کام کر رہا ہے مگر ان میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے ہم ڈاکٹر محمود شوکت کی اس تجویز سے پوری طرح اتفاق کرتے ہیں کہ ملک کے تمام ڈی ایچ اے اور ہائوسنگ سوسائٹیوں میں کوٹھیوں میں کام کرنے والے ملازمین کے لئے ڈسپنسریاں ہونی چاہئیں بلکہ ہر بلاک میں ایک ڈسپنسری ہونی چاہئے تاکہ غریب ملازمین کو علاج کی سہو لتیں مل سکیں۔ کوٹھیوں والے تو ڈی ایچ اے میں بڑے پرائیویٹ اسپتال میں علاج کرا لیتے ہیں۔ ان کے ملازمین کہاں جائیں اس بارے میں حکومت کو چاہئے کہ وہ ہر ہائوسنگ سوسائٹی کو پابند کرے کہ وہ ایک نہیں کئی ڈسپنسریاں بنائے۔ اس ہفتے پنجاب پولیس نے اپنے شہداء کی یاد میں ایک خصوصی سوگوار تقریب منعقد کرائی ۔ یہ تقریب کیپٹن احمد معین ڈی آئی جی ، زاہد گوندل ایس ایس پی اور گزشتہ برسوں میں شہید ہونے والے پولیس آفیسرز اور سپاہیوں کی یاد میں منعقد کی گئی تھی۔ اب تک دہشت گردی میں 1400پولیس ملازمین شہید ہو چکے ہیں جبکہ 1100سے زائد زخمی ہو چکے ہیں اور سینکڑوں اب تک معذور ہیں۔ اس تقریب کا ماحول اس وقت سخت سوگوار ہوگیا جب احمد مبین شہید کی نوجوان اہلیہ نے روتے ہوئے بات کی اور ان کی والدہ کے آنسو تو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے مگر ہم سب بے بس ہیں، ہم صرف الفاظ کا سہارا دے سکتے ہیں، عملی طور پر ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ سال بھر میں ایک سوگوار تقریب اور پھر خاموشی پورا سال اس تقریب کو منعقد کرانے کا کریڈٹ رانا ایاز سلیم ایس ایس پی اور کیپٹن امین انیس سی سی پی او کوجاتا ہے۔ انہوں نے شہیدوں کو یاد رکھنے کا یہ اہتمام کیا تھا۔ اس سوگوار تقریب میں ایک ہیڈکانسٹیبل شہید کے بھائی نے جس دکھی انداز میں بات کی وہ اس سوئے ہوئے معاشرے کو جھنجھوڑنے کے لئے بہت ضروری تھی جس طرح کی تلخ باتیں انہوں نے کیں وہ ہماری سوسائٹی اور حاکمان وقت ہضم نہیں کر سکتے۔ بے شک ایسی سوگوار تقریبات منعقد کریں مگر کوئی یہ تو بتائے کہ آج سے چند برس بعد بھی کیا پولیس ڈیپارٹمنٹ اس طرح اپنے شہیدوں کو یاد کرے گا؟ پھر نئے شہید آ جائیں گے؟ کیا اسی طرح دہشت گردی جاری رہے گی؟کیا اسی طرح احمد مبین زاہد گوندل جیسے نڈر افسر شہید ہوتے رہیں گے؟۔ کیا اسی طرح ان کی نوجوان بیوہ اور بوڑھی مائیں روتی رہیں گی؟۔ کاش ! اس تقریب میں ان شہید سپاہیوں کی بیگمات / بوڑھی مائوں سے بھی بات کرائی جاتی تو زیادہ مناسب ہوتا۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دیگر لوگوں سے بات کرانے کی بجائے اس تقریب میں صرف شہید پولیس ملازمین کے اہل و عیال آتے تو زیادہ اچھا تھا۔ اس تقریب میں روایتی تقریریں نہیں ہونی چاہئیں تھیں کاش کسی شہید کے چھوٹے بیٹے سے بات کرائی جاتی۔ بہرحال پولیس والوں نے اپنے شہیدوں کو یاد رکھا اچھا لگا اور اگر تقریب میں سارے پولیس حاضرین کی بجائے عام شہری آتے تو زیادہ مناسب ہوتا کیونکہ یہ تقریب شہیدوں کے لئے تھی۔ اس میں عام شہریوں کو بطور حاضرین زیادہ سے زیادہ تعداد میں بلانا چاہئے تھا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہمیں سلیبس میں فوج اور پولیس کے ان شہدا کی جرات کی داستانیں شائع کرنے کی ضرورت ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پھر تعلیمی اداروں میں وقتاً فوقتاً ایسی تقریبات منعقد کرانی چاہئیں۔ نوجوان نسل کو ان شہدا کے بارے میں پتہ ہونا چاہئے۔
پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ نظام کو نہ بدلا گیا تو خونیں انقلاب نہیں رک سکے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خونیں انقلاب کیوں آئے گا۔؟ خونیں انقلاب اس لئے آئے گا کہ لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا۔ لوگوں کوپینے کا صاف پانی خالص غذا اور ادویات نہیں مل رہیں۔ لوگ آج بھی سرکاری اسپتالوں میں علاج کو ترس رہے ہیں۔ ماہرین کی شدید کمی ہے۔ پورے ملک میں GYNECOLOGY ONCOLOGY SURGEON کوئی نہیں ہے۔ اس موضوع پر ہم اگلے ہفتے بات کریں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں