آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کتاب کا نام چونکا دینے والا ہے۔ ٹائٹل پر ایک ویران عمارت کی تصویر ہے اور اس عمارت کے تباہ شدہ ڈھانچے پر کتاب کا نام سجا دیا گیا ہے۔’’مٹتا ہوا لاہور‘‘ ، کتاب کا ٹائٹل دیکھ کر نظر آتا ہے کہ لاہور واقعی مٹ رہا ہے۔ کتاب کے مصنف منیر احمد منیر نے اس کتاب میں لاہور کے تین بزرگوں کرنل(ر) محمد سلیم ملک، حافظ معراج دین اور مستری محمدشریف کے انٹرویوز شامل کئے ہیں اور پرانے لاہور کی تاریخ کو محفوظ کردیا ہے۔ کتاب کے ٹائٹل پر باغ گل بیگم کے دروازے کی تصویر ہے جو مزنگ کے علاقے میں تھا اور اب تباہ ہوچکا ہے۔ مزنگ کسی زمانے میں لاہور کی نواحی بستی تھی جسے ایک بزرگ پیر عزیز مزنگ نے کابل سے آکر آباد کیا تھا۔ مزنگ کے قریب ہی محلہ میانی تھا جو شہنشاہ جہانگیر کے زمانے میں ایک بزرگ شیخ محمد طاہر قادری نقشبندی نے سرہند سے آکر آباد کیا تھا۔ اس زمانے میں عالم فاضل لوگوں کو میانا کہا جاتا تھا لہٰذا یہ علاقہ میانی صاحب کے نام سے مشہور ہوا اور اب یہاں ایک بڑا قبرستان ہے اور باغ گل بیگم بھی اس قبرستان میں گم ہوچکا ہے۔ منیر احمد منیر کی یہ کتاب مجھے منگل کو مسلم لیگ(ن) کے نئے صدر شہباز شریف کی تقریر سن کر یاد آئی جس میں انہوں نے پنجاب اور خاص طور پر لاہور میں اپنے ترقیاتی کاموں کو ایک بیانیے کی صورت میں پیش کیا۔ اس حقیقت میں

کوئی شک نہیں کہ شہباز شریف نے لاہور کی شکل بدل دی ہے لیکن اسی لاہور میں منیر احمد منیر جیسے لوگ بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ شہباز شریف نے اربوں روپے خرچ کرکے اصل لاہور کو ختم کردیا۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ لاہوریوں کو زندہ دلان لاہور کا خطاب سرسید احمد خان نے 1884ءمیں اپنے قیام لاہور کے دوران دیا تھا۔ وہ مہاراجہ کپورتھلہ کے مہمان بن کر لاہور آئے اور کپورتھلہ کوارٹرز میں ٹھہرے اب اس جگہ انکم ٹیکس ہائوس بن چکا ہے۔ اس کتاب میں لاہور کی تہذیب و تمدن کی تباہی پر احتجاج محسوس کیا جاسکتا ہے اور کہیں کہیں اس احتجاج میں میرے دل کی دھڑکنیں بھی شامل ہوجاتی ہیں۔ مجھے منٹو پارک اور یونیورسٹی گرائونڈ کے خاتمے کا شدید افسوس ہے۔ منٹو پارک میں 23مارچ 1940ء کو قرارداد لاہور منظور ہوئی تھی۔ جب میں سینٹرل ماڈل اسکول لوئر مال میں پڑھتا تھا تو ہم منٹو پارک میں انٹر اسکول کرکٹ ٹورنامنٹ کے میچ کھیلا کرتے تھے۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں پہنچا تو اسلامیہ کالج سول لائنز کے ساتھ اکثر میچ یونیورسٹی گرائونڈ میں ہوا کرتے تھے۔ یہاں پاکستان یونیورسٹیز کی ٹیم کے بھارت، انگلینڈ ا ور نیوزی لینڈ کے ساتھ بھی کرکٹ میچ ہوئے۔ اس گرائونڈ میں قائد اعظمؒ نے کئی جلسوں سے بھی خطاب کیا لیکن شہباز شریف کے میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین کے منصوبوں نے منٹوپارک اور یونیورسٹی گرائونڈ کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی کرکٹ گرائونڈ بھی ختم کردی۔’’مٹتا ہوا لاہور‘‘ میں ان لوگوں کا بھی ذکر ہے جو لاہور کو مٹانے کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں۔ یہ لوگ لاہور بچائو تحریک کے پلیٹ فارم سے یہ آواز بلند کررہے ہیں کہ لاہور والوں کو صاف ستھری سڑکیں ضرور دیں لیکن لاہور کی تاریخی عمارتوں اور ثقافت کو ختم نہ کیا جائے۔ لاہور بچائو تحریک سے وابستہ عمرانہ ٹوانہ، اعجاز انور، فریال گوہر، شائستہ سراج الدین، فریال زمان اور ان کے ساتھیوں کا خیال ہے کہ دنیا بھر کے تاریخی شہروں میں ترقیاتی منصوبے بناتے وقت شہر کی تاریخ اور ثقافت کے تحفظ کا بھی خیال رکھا جاتا ہے لیکن لاہور کو ترقی کے نام پر مٹایا جارہا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ شہباز شریف کے پاس لاہور بچائو تحریک والوں کے اعتراضات کا تفصیلی جواب موجود ہے لیکن گزارش یہ ہے کہ منیر احمد منیر کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں۔ وہ اپنی کتاب میں لاہور کی میٹرو اور اورنج لائن کو ہمارے تاریخی اثاثوں کا قاتل قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک دن ان منصوبوں کو انڈر گرائونڈ جانا پڑے گا۔’’مٹتا ہوا لاہور‘‘ سے ملتی جلتی ایک اور کتاب منیر احمد منیر نے کچھ سال پہلے بھی شائع کی تھی۔ ’’اب وہ لاہور کہاں؟‘‘ کے نام سے یہ کتاب بزرگ فوٹو گرافر چاچا ایف ای چودھری کے طویل انٹرویو پر مشتمل تھی جو چاچا جی کی 100ویں سالگرہ پر 2009ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں چاچا ایف ای چودھری کی وہ نادر تصاویر شامل ہیں جن کی حقیقت آج کے لاہور کی ترقی میں گم ہوچکی ہے۔
یہ کتابیں پڑھ کر مجھے حکیم احمد شجاع کی کتاب’’لاہور کا چیلسی‘‘ بھی یاد آگئی۔ حکیم صاحب نے لندن کے جنوب مشرق میں واقع دلکش علاقے چیلسی کو بھاٹی گیٹ سے تشبیہ دی تھی۔ یہ کتاب انہوں نے ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی کے ایک مقالے سے متاثر ہو کر لکھی جو 1964ء میں بی بی سی پر نشر ہوا۔ حکیم احمد شجاع کا خیال تھا کہ جس طرح ایک زمانے میں چیلسی کا علاقہ تھامس کارلائل، جارج ایلیٹ، آسکروائلڈ اور دیگر بڑے بڑے ادیبوں کا مسکن تھا اسی طرح بھاٹی گیٹ میں علامہ اقبال ، آغا حشر کاشمیری، سرعبدالقادر،چودھری شہاب الدین، فقیر سید عزیزالدین اور فقیر سید نورالدین سمیت بڑے بڑے شاعر ادیب قیام پذیر رہے۔ حکیم صاحب کے بقول بھاٹی دروازہ دراصل بھٹی دروازہ تھا جہاں بھٹی قوم کے جنگجوئوں نے مغلیہ دور میں ڈیرہ ڈالا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ بھٹی دروازہ بگڑ کر بھاٹی دروازہ بن گیا۔ یہاں کی ادبی بیٹھکوں میں علامہ اقبال اپنی شاعری سنایا کرتے تھے۔ وہ بھاٹی دروازے کے اندر محلہ جلوٹیاں کے سامنے گھیشو حلوائی کی دوکان کے بالاخانے پر قیام پذیرتھے۔ انہی دنوں کچھ عرصہ کے لئے مولانا ابوالکلام آزاد سینٹرل ماڈل اسکول لوئر مال میں عربی، فارسی اور اردو پڑھاتے رہے اور حکیم احمد شجاع ان کے شاگردوں میں شامل تھے۔ جس بھاٹی دروازے کو لاہور کا چیلسی کہا جاتا تھا اب وہاں صرف ٹریفک کا رش ہوتا ہے۔ یہیں قریب ہی داتا دربار میں ہر جمعرات کو عظیم گلوکار محمد رفیع نعتیں پڑھا کرتا تھا۔ پانچ ہزار سال قبل والمکی نے مشہور ہندو رزمیہ نظم ’’رامائن‘‘ لاہور ہی میں لکھی تھی۔ رامائن کے کردار سیتا کے بیٹے’’لوہ‘‘ نے اسی شہر میں پرورش پائی اور پھر اس کی نسبت سے یہ شہر لاہور کہلایا۔ لاہور میں اسلام کی روشنی حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ نے پھیلائی لیکن مسلمانوں کے قدم یہاں پہلے سے آچکے تھے جس کا ثبوت گڑھی شاہو میں چھ پاک دامن بیبیوں کا مقبرہ ہے۔ اس علاقے میں ایک بزرگ ابوالخیر کی رہائش ہوا کرتی تھی لیکن شاہو نامی بدمعاش نے ان کے ڈیرے پر قبضہ کرلیا اور یہ گڑھی شاہو بن گیا۔ لاہور کا ماضی کنہیا لال کی کتاب’’تاریخ لاہور‘‘ اور عبدالمجید شیخ کی کتاب ’’قصے لاہور کے‘‘میں بھی موجود ہے لیکن ’’مٹتا ہوا لاہور‘‘ دراصل پرانے اور نئے لاہور کے ٹکرائو کی تاریخ ہے جس میں جگہ جگہ نواز شریف اور شہباز شریف کے ان ترقیاتی منصوبوں کا ذکر آتا ہے جنہوں نے منیر احمد منیر کے لاہور کو مٹا دیا۔
ایک زمانہ تھا جب سرائیکی بولنے والے اپنی پسماندگی اور محرومیوں کا ذمہ دار تخت لاہور کو قرار دیا کرتے تھے جبکہ لاہور والے اپنی زندہ دلی پر فخر کیا کرتے تھے۔ اب لاہور میں پیدا ہونے والا عمران خان لاہور کے بیٹوں نواز شریف اور شہباز شریف کو للکار رہا ہے، اگر لاہور پاکستان کا دل ہے تو اس دل میں بڑی گڑ بڑ ہے۔ شہباز شریف صاحب اپنی پارٹی کے صدر بن چکے ہیں انہیں نیا عہدہ بہت مبارک ہو لیکن’’مٹتا ہوا لاہور‘‘ عمران خان نے نہیں منیر احمد منیر نے تحریر کی ہے۔ اس کتاب میں بلند ہونے والی صدائے احتجاج کو آپ نظر انداز نہیں کرسکتے کیونکہ لاہور کو مٹانے کا کارنامہ شہباز شریف کے کھاتے میں ڈالا گیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں