آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دھان یعنی چاول پاکستان کادوسرا بڑا ایکسپورٹ آئٹم ہے اور اس وقت چاول برآمد کے کاروبار سے بے شمار افراد منسلک ہیں اور ہر سال کروڑوں روپے کا چاول دنیا کے کئی ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے۔ بعض ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ کسی زمانے میں دنیا کے کئی ممالک میں 85فیصد چاول ہمارا جاتا تھا۔ مثلاً سعودی عرب، ایران اور کئی دیگر عرب ممالک میں ہمارا چاول بہت زیادہ خریدا اور پسند کیا جاتا تھا۔ اب یہ شیئر 85فیصد سے کم ہو کر 15فیصد رہ گیا ہے جوبھارت کے پاس چلا گیا ہے۔ بھارت تو ویسے بھی جن جن ممالک میں ہم کوئی بھی غذائی اجناس برآمد کرتے ہیں، وہاں قدم جمانےکی شروع کرتا ہے اور ہماری برآمدات کے خلاف بھرپور پروپیگنڈہ بھی کرتا ہے۔
پاکستان میں 90فیصد سے زیادہ کاشتکار دھان کو Sun Dryingکے ذریعے سکھا کر چاول تیار کرتے ہیں۔ عزیز قارئین آپ بھی یہ سمجھتے ہوں گے کہ ادھر مونجی کو لگایا ادھر چاول تیار ہو گیا۔ ایسا ہرگز نہیں۔ دھان کو چاول کی صورت میں لانے کا ایک طریقہ کار ہے۔ دنیا میں جدید ترین طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔ اپنے ملک کا کاشتکار آج بھی چند پیسے بچانے اور اپنے نفع کی خاطر Sun Dryingکے ذریعے دھان کو سکھا رہا ہےجس کی وجہ سے سیلہ چاول میں ایک عجیب قسم کی بُو پیدا ہو جاتی ہے۔ ہمارے گھروں میں کچی کا اور ہوٹلوں میں زیادہ سیلہ استعمال

ہوتا ہے۔ گھروں میں لوگ باسمتی اور دیگر اعلیٰ اقسام کے چاول استعمال کرتے ہیں۔ چاول زمانہ قدیم سے انسان کی غذا کا ایک اہم ترین حصہ رہا ہے۔ جب مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان اکٹھے تھے تو مشرقی پاکستان کے باشندوں کی پسندیدہ غذا چاول اور مچھلی تھی اور اب بھی ہے جبکہ مغربی پاکستان کے باشندوں کی پسندیدہ غذا گندم رہی ہے۔ پچھلے تیس برسوں میں پاکستان میں چاول کا استعمال بڑھا ہے۔ چاول ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ زرمبادلہ کمانے کا بھی ذریعہ ہے۔ ہمارے ہاں کاشتکار زمین پر جانوروں کے فضلہ (گوبر) کا لیپ کرتے ہیں اور پھر اس فضلے والی زمین پر دھان کو سکھایا جاتا ہے۔ اب ذرا دیر کو سوچیں کہ جب دھان اس فضلے والی زمین پر سکھایا جائے گا تو کیا اس چاول کے اندر مضر صحت جراثیم اور بُو داخل نہیں ہو گی؟ دھان یعنی چاول کی باقیات مثلاً اس کا چھلکا کاغذ اور گتہ سازی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ چاول کا آٹا بیکری کی چیزوں اور مٹھائیوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے پائوڈر Rice Branسے اعلیٰ کوالٹی کا تیل حاصل کیا جاتا ہے۔ دھان کو ابال کر گیلے دھان کو اس فضلے والی زمین پر ڈالا جاتا ہے اس کی وجہ سے جراثیم چاول کے اندر داخل ہو جاتے ہیں اور مختلف بیماریاں پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں جو کہ صحت کے بنیادی اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔ کسان زمین پر چاول اس لئے سکھاتے ہیں کیونکہ اس سے ان کے اخراجات میں کمی ہو جاتی ہے۔ بجلی کی بچت ہوتی ہے۔ بھارت میں کسانوں کو بجلی پر حکومت سبسڈی دیتی ہے اور بے شمار سہولتیں دیتی ہے مگر ہمارے کسانوں کے لئے وہ سہولتیں نہیں۔ ہمارے کسان اس طرح دھان سکھانے کے عمل سے چاول کا چھلکا (Husk)بھی فروخت کر کے پیسے کما لیتے ہیں۔ اس سارے عمل سے چاول کی کوالٹی متاثر ہو رہی ہے جبکہ ہماری ایکسپورٹ بھی گر رہی ہے۔
بھارت نے 1986ء سے Sun Dryingپر پابندی لگا رکھی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت چاول کی صنعت پر پوری توجہ دے۔ ایک طرف حکومت خود دعوے کرتی ہے کہ وہ زراعت کے شعبے میں جدید طریقے اپنا رہی ہے دوسری طرف دھان کو آج بھی Sun Dryingکے ذریعے چاول بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کچھ ڈاکٹرز صاحبان سے اس حوالے سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ اس فرسودہ طریقہ کار سے چاول میں جراثیم اور بُو دونوں پیدا ہو سکتی ہے اور ایسا چاول یقیناً صحت کے لئے مفید نہیں ہے۔اس ہفتے لاہور پولیس اور چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو محکمہ داخلہ حکومت پنجاب نے بچوں کو جسمانی تشدد سے بچانے، ان کے حقوق کے آگاہی دینے کے لئے ایک بہت بڑی تقریب منعقد کی۔ اس تقریب کی رواح رواں لاہور کی پہلی خاتون ایس پی سیکورٹی عمارہ اطہر اور ڈی آئی جی ڈاکٹر حیدر اشرف تھے۔ اس سیمینار میں بچوں سے جسمانی تشدد یا بدفعلی کے بارے میں اور مجرموں کوسزا دلانے کے حوالے سے خصوصی لیکچرز بھی دیئے گئے۔ بچوں کے حقوق کے عالمی معاہدے پر 194ممالک نے دستخط کئے ہیں اور 192ممالک نے اس کی توثیق کی ہے۔ یہ معاہدہ 1989ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاس ہوا۔ اس کی 54دفعات ہیں پاکستان نے بھی اس معاہدے پر دستخط کئے ہوئے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ پاکستان میں بچوں کے ساتھ تشدد اور زیادتی کے واقعات آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔
سی آر سی کے آرٹیکل 1کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر کے تمام بچوں اور بچیوں کو بچہ تسلیم کیا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں چائلڈ لیبر آج بھی جاری ہے۔ بچے بڑوں کے برابر مزدوری کرتے نظر آتے ہیں۔ سی آر سی 9کے تحت ہر بچے کا حق ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ رہے مگر یہاں تو بے شمار ماں باپ جب علیحدہ ہوتے ہیں تو بچے بے چارے دربدر ہو جاتے ہیں۔ پھر سی آر سی آرٹیکل 19-Aہر بچے کو ہر طرح کی زیادتی سے بچاتا ہے۔ مگر پورے ملک میں آج بھی بچوں کے ساتھ ہر قسم کی زیادتی ہو رہی ہے۔ چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کی شادیاں بھی ہو رہی ہیں۔ پورے ملک میں حالیہ جنسی جرائم اور ہراسمنٹ کے پیش نظر لاہور پولیس نے عوام کی آگاہی کے لئے بڑا بروقت قدم اٹھایا اور آگہی سیمینار منعقد کیا۔ جس میں پولیس کی پہلی خاتون ایس پی سیکورٹی عمارہ اطہر نے والدین کی رہنمائی کے لئے 19، اساتذہ کی رہنمائی کے لئے 21اور عام افراد کے لئے 16اصول بیان کئے۔ یہ اصول واقعی بہت شاندار ہیں اگر ہمارے معاشرے کے تمام افراد مل کر ان اصولوں پر عملدرآمد کریں تو یقین کریں کہ بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات تقریباً ختم ہو جائیں گے۔ والدین، اساتذہ اور عوام کے ساتھ ساتھ اگر بچوں اور بچیوں کی رہنمائی کے لئے بھی چند اصول اگر بنا لئے جاتے تو زیادہ مناسب ہوتا۔ سی آر سی آرٹیکل 34اور 35کے مطابق ہر بچے کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے ہر قسم کی بدسلوکی اور بےحرمتی سے بچایا جائے۔ اغوا اور ان کی خرید و فروخت سے بچایا جائے مگر یہاں تو سب کچھ ہو رہا ہے۔ سی آر سی آرٹیکل 23کے مطابق معذور بچوں کی خصوصی دیکھ بھال کی جائے مگر ہمارے خصوصی بچوں کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔سی آر سی آرٹیکل 24کے تحت ہر بچے کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے صاف پانی اور اچھی خوراک دی جائے گی۔ سرکار کے کسی بھی اسکول میں نہ تو صاف پانی ہے اور نہ اچھی غذا ۔ ہم نے کئی سرکاری تعلیمی اداروں میں خود جا کر دیکھا بچے مجبوراً اسکولوں کے باہر فٹ پاتھوں پر بیٹھے ہوئے بیمار خوانچہ فروشوں سے گندی اور ناقص کھانے پینے کی اشیاء خرید کر کھا رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ کبھی اسکولوں میں بچوں کو بریک ٹائم میں پینے کے لئے دودھ کا گلاس دیا جاتا تھا اور کئی سرکاری اسکولوں میں بچوں کا سالانہ میڈیکل چیک اپ ہوا کرتا تھا۔ آج یہ تمام اچھی روایات اور طریقے قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ ہمارا لاہور پولیس کو یہ مشورہ ہے کہ ہر اسکول میں جسمانی تشدد اور ہراسمنٹ کے بارے میں خصوصی لیکچرز دیں اور نصاب میں اس حوالےسے مواد شامل کیا جائے۔ جو چھوٹے بچے ہوسٹلوں میں رہتے ہیں ان پر خصوصی توجہ دی جائے بلکہ ہر اس بچے کو مانیٹر کیا جائے جس کے معمولات میں کوئی تبدیلی محسوس کی جائے۔ ہر اسکول میں کونسلنگ کی سہولت بھی ہونی چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں