آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قدرت نے پاکستان کو صاف ستھرا ماحول، کھلی فضا اور پینے کے لئے صاف پانی مہیا کیا تھا۔ مغل حکمراں تو لاہور کی فضا کو صحتمند قرار دیتے تھے بلکہ کئی مغل شہزادے اور شہزادیاں لاہور صرف اس لئے آتے / آتی تھیں کہ ان کو اس دور کے بعض حکماء یہ کہتے تھے کہ صحت کی بحالی کے لئے لاہور چلے جائو۔ شہزادہ کامران نے تو راوی دریا کے نزدیک بارہ دری بھی بنوائی تھی جہاں وہ ہوا خوری کے لئے آتا تھا۔ اب یہ بارہ دری تو دریائے راوی کے عین وسط میں آگئی ہے، کبھی یہ دریا سے دور ہوتی تھی۔
راوی دریا کا پانی اس قدر صاف اور پینے کے لائق تھا کہ یہاںانگریزوں کی ایک رپورٹ کے مطابق دس مختلف اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی تھیں، کچھوے عام ہوتے تھے اور کبھی کبھار مگر مچھ بھی اس دریا میں دیکھے جاتے تھے۔ آ بی حیات یہاں پر بہت تھی۔ آج یہ دریائے راوی بدبو سے بھرا گندا نالہ بن گیا ہے، یہاں مچھلی اور آبی حیات کا نام و نشان نہیں رہا۔ بڈھا راوی پہلے ہی خشک ہو چکا ہے جو کبھی راوی روڈ اور مینار پاکستان کے نزدیک بہتا تھا، اب اس کا بھی نام و نشان نہیں رہا۔ کسی دن اس دریائے راوی کا بھی نام و نشان نہیں رہے گا۔ ہم پتہ نہیں کیسی قوم ہیں، ہر چیز کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہر اچھی روایت ختم، ہر سسٹم تباہ، صحت و صفائی کا نظام بدحال، 70 برس میں قومیں اور ملک

آگے جاتے ہیں اور ہم ترقی معکوس کی راہ پر چل رہے ہیں۔
انسانی صحت کے لئے پانی بنیادی ضرورت ہے مگر ہمارے ہاں پینے کے لئے صاف پانی نہیں مل رہا۔ آپ شہر قائد کے حالات دیکھیں، ہر طرف ٹینکر مافیا ہے۔ ڈیفنس جیسے مہنگے علاقے میں رہنے والے ہر ماہ ہزاروں روپے کا پانی ڈلواتے ہیں، غریب بستیوں میں پانی ملتا نہیں اور جو مل رہا ہے وہ انتہائی آلودہ ہے۔ شہر میں آلودہ پانی کی وجہ سے اور صفائی کی ناقص صورتحال کے باعث ٹائیفائیڈ کا مرض بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ بقول بعض ماہرین کے اس مرتبہ کراچی میں جو ٹائفائیڈ آیا ہے وہ بڑا سخت جان ہے اور جن لوگوں نے ٹائفائیڈ کی ویکسین لگوائی ہوئی ہے ان کو بھی یہ ٹائیفائیڈ ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان ا سٹینڈرڈز کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) لاہور زون نے پانی کے 41غیر قانونی پلانٹس اور مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے والی کمپنیوں کو سیل کر دیا ہے جبکہ ان کے گوداموں میں موجود بھاری ا سٹاک ضائع کر دیا ہے۔ لوگ مجبوراً غیر معیاری کمپنیوں کا بیماریوں سے بھرا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ اس وقت پورے ملک میں صورتحال یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے پانی کی زیر زمین سطح بہت نیچے چلی گئی ہے۔ لاہور جہاں کبھی ستر سے سو فٹ کے درمیان پینے کا معیاری پانی آجاتا تھا آج ایک ہزار سے 1500فٹ تک گہرائی میں پانی کا لیول جا پہنچا ہے اور اس پانی کے بارے میں بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ وہ آرسینک سے پاک ہے یا نہیں۔ ایک زمانہ تھا جب لاہور شہر کے اندر بے شمار کنویں ہوتے تھے جن سے صاف ستھرا پانی مل جاتا تھا۔ ماہرین کے نزدیک 70 لاکھ شہریوں کو 72 گیلن فی کس تناسب سے ہر روز 460 ملین گیلن پانی درکار ہوتا ہے۔ اب آپ خود سوچیں کہ کراچی شہر جو 4کروڑ کی آبادی تک پہنچنے والا ہے، لاہور جس کی آبادی دو کروڑ سے اوپر ہو چکی ہے وہاں فی کس کتنا پانی درکار ہوگا۔ کراچی اور لاہور کی پسماندہ بستیوں میں پینے کے لئے جو پانی مہیا کیا جا رہا ہے وہ بالکل پینے کے لائق نہیں۔ ہماری حکومتی ترجیحات میں شاید پینے والا پانی نہیں۔ آلودہ پانی سے جو سبزیاں کاشت کی جا رہی ہیں وہ بھی صحت کے لئے انتہائی مضر ہیں۔ پی ایف اے اب تک 700 ایکڑ سے زیادہ رقبے پر ایسی ناقص اور غیر معیاری سبزیوں کو تلف کر چکی ہے۔ دوسری جانب حکومت کے بیشتر فلٹریشن پلانٹس خراب پڑے ہیں۔ حکومت پلانٹ لگانے کے بعد ان کی مینٹی نینس بھول جاتی ہے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بڑی سختی سے کہا ہے کہ لوگوں کو صاف پانی مہیا کیا جائے اور گندے پانی کی نکاسی کا انتظام کیا جائے۔ ا جبکہ چیف جسٹس ثاقب بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ لوگوں کو صاف پانی مہیا نہیں کیا جا رہا اور صاف پانی کی فراہمی پر صرف زبانی جمع خرچ ہو رہا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ اسپتالوں میں نصف پانی کی ٹینکوں کی کبھی صفائی نہیں کی گئی۔ مریضوں کے ساتھ ساتھ ان کے لواحقین بھی یہ پانی پی کر بیمار ہو رہے ہیں۔ 2015ء میں محکمہ صحت نے لاہور شہر کے 23 ٹیچنگ و دیگر سرکاری اسپتالوں میں نصب ٹیوب ویلز، پانی کے ٹینکوں اور نلکوں سے پانی کے نمونے حاصل کئے تھے۔ اس وقت یہ انکشاف ہوا تھا کہ تمام اسپتالوں کا پانی مضر صحت ہے اور اس میں مہلک بیکٹیریا ہے۔ تین سال گزرنے کے باوجود تاحال یہ ویسے کے ویسے ہی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ الیکشن سے پہلے پہلے سندھ اور پنجاب میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ حل کرواکر رہیں گے۔
’’آئین کے تحت بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ ملک بھر میں انسانی زندگیوں کااور بنیادی انسانی حقوق کا جس قدر تحفظ اور احترا م کیا جاتا ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں پینے کا پانی فروخت کیا جا رہا ہے اور ٹینکر مافیا کو مضبوط کیا جا رہا ہے‘‘۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چیف جسٹس نے پانی کے حوالے سے جن مسائل کی نشاندہی کی ہے کیا حکومت اس پر کوئی ایکشن لے گی یا لوگ گندا پانی پینے پر مجبور رہیں گے۔ کتنے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں ہر سال 47 ہزار بچے آلودہ پانی پینے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ دنیا کے کسی ملک میں آلودہ پانی سے اتنی بڑی تعداد میں بچے فوت نہیں ہوتے۔ اسی طرح ایک اور رپورٹ کے مطابق ملک کی دوتہائی آبادی آلودہ پانی پینے کی وجہ سے پیٹ کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو چکی ہے۔ لاہور میں 540 ملین گیلن سیوریج اور فیکٹریوں کا زہریلا پانی راوی میں بہا یا جا رہا ہے جو زیر زمین پانی سے مل کر پینے والے پانی کو آلودہ کر رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پینے والے پانی کے استعمال سے لوگ پیٹ کی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اگر ہم نے پانی کے حوالے سے ٹھوس بنیادوں پر منصوبہ بندی نہ کی تو آنے والے وقتوں میں اس آلودہ پانی کے استعمال سے نہ صرف شرح اموات میں اضافہ ہو گا بلکہ لوگ مستقل طور پر بیماریوں کا شکار ہونے لگیں گے اور اس طرح جسمانی اور معاشی طور پر تباہ ہو جائیں گے۔ آلودہ پانی پینے سے جو لوگ بیمار ہوتے ہیں اس سے قومی خزانے کو 4.3ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ ٹائیفائیڈ اور ہیپا ٹائٹس اے اور پیٹ کی دیگر بیماریاں صرف آلودہ پانی کے استعمال سے ہوتی ہیں۔
جنوبی پنجاب میں پینے کے پانی کا بہت مسئلہ ہے۔ آج بھی وہاں پر ندی نالے اور جوہڑوں میں انسان اور حیوانات ایک ہی جگہ پانی پی رہے ہوتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے لوگوں کے لئے صاف پانی پینے کے لئے کمپنی بنائی۔ اس کمپنی میں اتنے گھپلے ہوئے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کو اس کے خلاف ایکشن لینا پڑا۔ اگر حکومت فراہمی آب کے منصوبوں پر نیک نیتی سے توجہ دے اور لوگوں کو صاف پانی فراہم کرنے کے پروگرام کو ترجیح دے تو لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر آسکتا ہے۔ آج ہماری زراعت کو بھی نیشنل واٹر ریسورسز میں کمی کی وجہ سے پانی نہ ملنے کی شکایات ہیں۔ روز بروز نئی ہائوسنگ ا سکیمیں بن رہی ہیں اور پانی کا زیر زمین لیول بھی نیچے سے نیچے جا رہا ہے۔ نئی بننے والی ہائوسنگ سوسائٹیاں چونکہ ایگریکلچرل لینڈ پر بنائی جارہی ہیں اور اس طرح اس زمین کے نیچے پانی میں پیسٹی سائیڈ (زرعی ادویات) کے اثرات بھی پائے جاتے ہیں، جو پانی کے غیر معیاری ہونے کا بھی ایک سبب ہیں، لہٰذا حکومت کو اس جانب بھی توجہ دیتےہوئے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں