آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
امریکا اور چین میں تجارتی جنگ کا خطرہ

ماضی میں عربوں اور چینیوں نے بحری اوربری را ستوں سے بین البراعظمی تجارت کا سلسلہ شروع کیاتھا ۔ چینی معیشت کا ایک بڑا حصہ تجارت رہی ہے ۔سلک رو ٹ چین سے وسطی ایشیا تک پھیلا ہوا تھا اور چینی جہاز راں مال لے کر جنوبی افریقاکے ساحلوں تک جاتے تھے ۔ پہلا عمانی تجارتی جہاز ایک ہزار قبل میسح میں چین کی بندرگاہ تک پہنچا تھا۔ یعنی چین کے لوگ تجارت کا طویل تجربہ رکھتے ہیں جس کی نشاۃ ثانیہ 1980کی دہائی میں منظر عام پر آئی اور چین ملی جلی معیشت کا نظریہ لے کر آگے بڑھا تو بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔

آج دنیاکے ساٹھ فی صد حصےمیں اس کا سرمایہ اور صنعتیں کام کررہی ہیں اور وہ مزید سرمایہ کاری کرتا جارہا ہے۔

ایسے میں دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور عسکری طاقت رکھنے والا ملک امریکا، چین کی تجارت اور سرمایہ کاری کی وجہ سے سکتے کے عالم میں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کی بڑھتی ہوئی تجارت ،سرمایہ کاری اور سیاسی اثرورسوخ میں اضافے سے شدید بوکھلاہٹ کا شکا ر نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں ٹرمپ نے اسٹیل اور ا یلو مینیم کی درآمدات پر ساٹھ ارب ڈالر کے محصولات عاید کیے ہیں۔ 

چین کی حکومت نے صدر ٹرمپ کے اس قدام کی شدید مذمت کی ہے۔ چین کے وزیر تجارت نے صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہا کہ چین بھی جوابی اقدام سے گریزنہیں کرے گا۔ امریکی محصولات کی پالیسی سے خدشہ ہے کہ عالمی معیشت پربھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ 

بعض امریکی ماہرین معیشت امریکا کی اسی پالیسی کوامریکا اور چین کے مابین نئی تجارتی جنگ قر ا ر دے رہے ہیں۔ مگر چینی ماہر معاشیات شین چی کا خیال ہے کہ امریکا اور چین کے مابین تجارتی جنگ کے امکانات کم ہیں کیوں کہ امریکی محصولات کی رقم چینی تجارت اور سرمایہ کاری کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ چین اس مسئلے سے نمٹنے کا راستہ نکال لے گا۔ البتہ اس میں کچھ وقت لگے گا۔

صدر ٹرمپ کو یہ شکوہ بھی ہے کہ سابق صدر براک اوباما کی نرم پالیسیوں کی وجہ سے امریکا اور چین کے ما بین تجارت کا خسارہ بڑھتارہا۔ان کا کہنا ہے کہ اب ہم منافعےکے یک طرف بہاو اور بجٹ میں خسارے کو تو ا ز ن میں بدلنا چاہتے ہیں۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان کے مطابق چین نے ڈبلیوٹی اوکے قوانین کا ناجائز فائدہ ا ٹھا تےہوئےاپنی تجارتی پالیسی کویک طرفہ رکھا اوراپنی مصنوعات تمام ملکوں میں بھردیں ۔

صدر ٹرمپ چین کی اس پالیسی میں موجودسقم دور کرنا چاہتے ہیں، مگر چین صدر ٹرمپ کی باتیں سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش نہیں کررہا،لہذا امریکا کو چین سے تجارت کرنے کےلیے اپنی پالیسی پر ازسرنو غور کرنا پڑرہا ہے۔

صدر ٹرمپ نےمحصولات عاید کرنےکے فیصلےکا د فا ع کرتے ہوئے بیان دیا کہ چین مسلسل غیر منصفانہ اندازِ تجارت اپنائے ہوئےہے جس میں جدید ٹیکنالوجی کی چو ر ی،آزاد تجارت کے نام پر اپنا غیر معیاری مال بھی دو سر ے ممالک کی منڈیوںمیں بھر دینا اور اپنی کرنسی کی قد ر میں اس طرح کی سازباز سے اضافہ کرنا شامل ہے۔ کہا جاتاہے صدر ٹرمپ کے ان بیانات کی وجہ سے حصص کی عالمی مارکیٹ مندی کا شکار رہی ۔ 

ادہر امریکا بار بار چین پرالزام لگارہاہے کہ اس نے امریکی کمپنیز سے اشتراک کر کے جدیدٹیکنالوجی حاصل کرلی ہے لہذا امریکا ان کمپنیز کی جانچ پڑتال کرےگا جو چین کو ٹیکنالوجی فراہم کرتی رہی ہیں۔

ایک جانب امریکا تجارتی خسارے کی وجہ سےپر یشان ہے تو دوسری جانب اسے اس امر پربھی شدید تشو یش ہے کہ چین امریکاسمیت دیگر ممالک کی کمپنیز اور اد ا ر وں سے جدید اور حساس نوعیت کی ٹیکنالوجی حاصل کرتا رہا ہے۔ یہ مسئلہ بھی بہت حساس ہے اور ایک نئی سردجنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔یاد رہے کہ ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی، ایپل نے حال ہی میں اپنا نیا سینٹر چین میں قائم کیا ہے اوروہاںڈیٹا سینٹر بھی قائم کرناچاہتی ہے تاکہ وہ سائبر قوانین کے تحت کام کرسکے۔ 

اس سے قبل آئی بی ایم ،مائیکروسافٹ اورامیزون بھی کام کررہی تھیں۔تاہم چینی حکو مت نے ان اداروں پر یہ پابندی عاید کردی ہے کہ چینی افراد کا ڈیٹا چین تک محدود رہے گا۔ چین نے گوگل کو بھی چینی زبان اور معلومات تک محدودکر رکھا ہے اور وہاں سوشل میڈیا پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے کا نظام قائم ہے۔

امریکا تجارت اور ٹیکنالوجی کے مسئلے پر یورپی یونین کے ممالک سمیت جاپان ، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا سے بھی بات چیت کررہا ہے۔دوسری جانب چین الیکڑک کا رز ا و ر روبوٹس کی تیاری میں گہری دل چسپی رکھتا ہے۔ 

اس نو عیت کی جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے کوشاں چین کی سرگرمیوں کو امریکی خفیہ ادارے نظر میں رکھے ہوئے ہیں ۔ مگر جدید ٹیکنالوجی کے حصول میں روس ہرطرح سے چین کی مدد کرتارہا ہے،خاص طور پر جدید مہلک ہتھیاروں کی تیاری میں روس نے چین کی ہر ممکن مدد کی۔ان دونوں ممالک کا تعاون امریکا اور یورپی قوتوں کے خلاف ہے۔

امید کی جارہی ہے کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ اقدام کو یورپی ممالک سے حمایت حاصل ہوسکتی ہے۔ یاد رہے کہ یورپ کے چوبیس ممالک نے ایک مشترکہ خط میں ا مر یکا کے سابق صدر براک اوباما سے اپیل کی تھی کہ وہ چین سے مذاکرات کے ذریعے یک طرفہ تجارت کو متوازن بنا ئیں کیوں کہ ان ممالک کی منڈیوں میں چین نے اپنا ما ل بھردیا ہے۔ یہی شکایت بھارت کے صنعت کاروں نے کی تھی کہ بھارت بہ مشکل دس سے بارہ ارب کا سامان چین کوبرآمد کرتا ہے اور نوّے ارب کی چینی مصنوعات بھا رتی بازاروں میں بھری ہوئی ہیں۔

دوسرے لفظوں میں دنیا کے مختلف ممالک چین کےاندازِ تجارت اوراپنی شر ا ئط پر سرمایہ کاری کو شک کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ جنوبی کوریا کو شکوہ ہے کہ چینی کمپنیز نیم خام لوہا ان کے ملک میں ڈمپ کردیتی ہیں جسے ری پروسیس کرکے فولاد کی صورت میںامریکااوریورپ کو برآمد کیا جاتاہے جس پراب ا مر یکا ناراض ہے۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال جنوبی کوریا کے ر ہنما کے واشنگٹن کے دورے کے موقعے پر شکایت کی تھی وہ چین کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر نظر ثانی کریں،بہ صو رت دیگر امریکا اس سےفولاد کی خریداری روک سکتا ہے۔

امریکاکا موقف یہ ہے کہ فولاد اور ایلومینیم پر محصو لا ت عاید کرنے سے امریکی شہریوں کو ملازمتیں مسیر آئیں گی اور صنعتوں کو فروغ حاصل ہوگا۔ کیوں کہ چین جان بوجھ کراپنا نیم تیار شدہ اسٹیل رعایتی داموں پر آدھی دنیا میں ڈمپ کررہا ہے اوراسے خریدنے والوں کو اسے دوبارہ پراسیس کرکے آگے درآمد کرنا پڑتا ہے جس سے تجا رت کا توازن بگڑتا جارہا ہے۔

صدر ٹرمپ کا نظریہ ہے کہ امریکاکے لیے اب اپنی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے، کیوں کہ بہ قول ٹرمپ، ڈبلیوٹی اواورآزادیا کھلی منڈی کی معیشت کے قو ا نین اور اصول نظر انداز کیے جارہے ہیںاور ان نعروں کا ناجائز فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔امریکی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اچانک فیصلے سب کے لیے حیران کن ثابت ہوتے رہے ہیں اور زیادہ تر لوگوں کو ان فیصلوں سےپیدا ہونے والے مسائل پر تحفظات اورخدشات ہیں ۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو شمالی کوریاکی طر ف سے مذاکرات کی دعوت موصول ہونے کے بعد سے اب تک وہ مذاکرات کا ایجنڈا ترتیب دینے میں تاحال ناکام نظرآرہے ہیں،کیوں کہ وہ ایک سالہ دور صد ا رت میں وائٹ ہاوس کے دودرجن سے زاید ماہرین ،تھنک ٹینکس اور تجربے کار اعلیٰ افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹاچکے ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر کو بر طرف کرکے ان کی جگہ معروف، سخت گیر اعلیٰ عہدے داراورسفارت کارجان بولٹن کاتقررکردیاہے۔ اس حوالے سے یورپی یونین کے ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے۔جان بولٹن پرجوش ،زیرک اور قدامت پسند سو چ رکھنے والی شخصیت تصور کیے جاتے ہیں۔ 

وائٹ ہاوس کی انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے خیالات کو مہمیز دیں گے اور ان سے ایک قدم آگے نظر آئیں گے۔ بولٹن سابق امریکی صدور رونالڈ ریگن اور جارج بش کے ساتھ طویل عرصے تک کام کرچکے ہیں۔ انہوں نے قومی سلامتی کےمشیر اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کی حیثیت سے بھی ذمے داریاں نبھائی ہیں۔انہوں نے امریکی صد ر کو آہنی ہاتھ استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔کہا جاتاہے کہ وہ سفارت کاری میں بھی آہنی ہاتھ کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت امریکا کے لیے شمالی کوریاکامسئلہ زیادہ ا ہم ہے۔

اس ضمن میں ا گر جا ن بولٹن ایجنڈاتیار کرتے ہیں تو اس میں عراق اور مشرق وسطیٰ کے بارے میں ا مر یکی پالیسی کی جھلک نمایاں ہو گی ۔واضح رہے کہ بولٹن شما لی کوریا اور ا یر ان کے خلاف آہنی ہاتھ استعمال کرنےکا مشورہ دیتے رہے ہیں۔

موجودہ حالات میں امریکااور چین کے مابین تجا ر ت کے توازن اور ہائی ٹیکنالوجی کے مسئلے پر تناو بڑھ سکتا ہے ۔ایسے میں صدر ٹرمپ اعتدال پسند ساتھیوں پر بھر و سہ کریں گے یا پھر جان بولٹن جیسے ساتھیوں کے مشوروں پر عمل پیرا ہوں گے؟ اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں