کیا روس اور امریکا کے سفارتی تعلقات واقعی اس قدرکشیدہ ہوگئے ہیں کہ دونوں ممالک کی فوجی طاقت کا تقابل کیا جارہا ہے؟یا بات کچھ اور ہے؟ ورنہ دفاعی اخراجات میں پہلے اور چوتھے نمبر پر موجود ممالک کا موازنہ کیسا؟
برطانیہ میں سابق روسی جاسوس پر اعصاب کو متاثر کرنے والے کیمیائی مادے کے حملے کے بعد سے صورتحال بتدریج خراب ہو رہی ہے ،امریکا اس عمل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے 60 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی اقدام کے بعد جرمنی، آسٹریلیا سمیت 20 سے زائد ممالک نے 100 سے زائد روسی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ، اس عمل کو تاریخ کی سب سے بڑی ملک بدری قرار دیا جارہا ہے۔
عالمی میڈیا میں روس کے خلاف سفارتی میدان میں ہونے والی کارروائی کو سرد جنگ اور سوویت یونین کے خاتمےکے بڑا مشترکہ اقدام بھی کہا جارہا ہے ۔
روس نے ان ممالک کے خلاف جوابی کارروائی کا عندیہ دیا، روسی وزیر خارجہ نے امریکا پر بلیک میل کرنے اور دیگر ممالک پرہمارے سفارت کاروں کو نکالنے کےلئے دبائو ڈالنے کا الزام لگایا ۔
نیٹو فورسز پہلے ہی شام میں روس کے کردار پر خفا ہیں،وہ روس ہی کی وجہ سے بشار الاسد کو تمام تر کوششوں کے باوجود نکال نہیں پا رہے ۔
سفارتی محاذ سے شروع ہونے والے معاملے میں اب تجزیہ کار بھی فوجی طاقت کو جانچنے یا ماپنے لگ گئے ہیں ،بین الاقوامی میڈیا میں اس حوالے سے بحث شروع ہوگئی ہے۔
دی سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں فوجی اخراجات میں 1اعشاریہ2 فیصد اضافہ ہو رہا ہےجبکہ فوجی اخراجات میں 43 فیصد اضافے کے ساتھ امریکا سر فہرست ہے۔
اس معاملے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر 4 مستقل ارکان میں کوئی بھی امریکا آس پاس بھی موجود نہیں،چین 7 فیصد ،برطانیہ،فرانس اور روس 4 فیصد کے ساتھ درجہ بندی میں شامل ہیں ۔
روس سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ فوج پر جتنی مرضی رقم خرچ کرے وہ کم ہی ظاہر کرتا ہےلیکن اس کے باوجود وہ امریکا سے کم ہی ہیں، جو ملک دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت ہے اسی کی فوجی طاقت بے مثال ہے ۔
رپورٹ کے مطابق فوجی اخراجات کے لحاظ سے روس کا نمبر 4 ہے ، اس کانام اس باب میں امریکا ،چین اور سعودی عرب کے بعد آتا ہے ،سلامتی کونسل دیگر رکن ممالک کے امریکا کی طرح دنیا بھر میں سیکڑوں فوجی اڈے بھی نہیں ہیں۔
روسی صدر پوتن نے ایک اطالوی اخبار کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ کہ 'آپ دنیا کا نقشہ لیں اور اس میں امریکی فوجی اڈوں پر نشان لگائیں اور اسی سے روس اور امریکہ کے درمیان کیا فرق واضح ہو جائے گا۔
تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر پوتن کبھی امریکہ پر حملہ کرنے کا خطرہ مول نہیں لیں گے کیونکہ یہ خودکش قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
دونوں ممالک کی سرحدیں نہیں ملتیں اس لیے اگر جنگ ہوئی تو بیرنگ جزیرہ نما اور وسط الاسکا کے ذریعے ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ممالک کو براہ راست ایک دوسرے سے خطرہ نہیں ہے۔