آپ آف لائن ہیں
جمعرات5؍ذوالقعدہ 1439ھ19؍جولائی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ملک کی بقا جمہوری تسلسل میں ہے ’’تعطل‘‘ میں نہیں

ملک کا سیاسی ماحول جون کی گرمی کی طرح پورے جوبن پر ہے ۔ اسی گرما گرمی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی ملکی نظام کی اصلاح کا بیٹرہ اٹھا رکھا ہے۔ملکی نظام کی بہتری کیلئے ان کی یہ مہم اپنی شدت میں یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ خود چیف جسٹس کو عوام کی تسلی کیلئے یہ کہنا پڑا کہ ’’میں کوئی ٹیک اور کرنے نہیں جا رہا مجھے معلوم ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد میرا کوئی نام بھی نہیں لے گا‘‘۔ سیاسی کچھائو کے اس ماحول میں احتساب عدالت میں مسلسل پیشیوں کے علاوہ سابق وزیراعظم نواز شریف ، مریم نواز اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں کی متوقع سماعت بھی سیاست میں تیزی اور دلچسپی بڑھا دے گی ۔ 

انتخابات کے ہونے یا نہ ہونے کے اندازے اپنی جگہ مگر سیاسی رہنمائوں، ورکروں اور کارکنوں کی سرگرمیوں سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ انتخابات کے ہونے یا نہ ہونے کی پروا کیے بغیر اپنی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔ پیپلز پارٹی ، ن لیگ ، جے یو آئی ، پی ٹی آئی اور اے این پی سمیت چھوٹی بڑی تمام سیاسی جماعتوں کے جلسے جلوس ممبرسازی اور حلقہ بندیوں کے معاملات پر دن رات سرگرمیاں جاری ہیں۔ عمران خان تحریک انصاف کی ممبر سازی کو تمام دوسری مصروفیات پر ترجیح دے رہے ہیںوہ اپنے بیانات میں نواز شریف کے بعد اب شہباز شریف کو اپنا ٹارگٹ بنائے ہوئے ہیں۔

جے یو آئی ، پیپلز پارٹی ، اے این پی نے تو اپنی انتخابی سرگرمیاں سندھ اور کے پی کے میں پورے زور و شور سے شروع کر رکھی ہیں۔ سیاسی گرما گرمی کے اس ماحول میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کو ملنے سے انکار اور ان کے بارے میںبیان سے سیاسی ماحول میں بہت ہلچل مچی ہوئی ہے گوکہ چیئرمین سمیت دوسرے سینیٹرز کو نکالنے کا کوئی راستہ موجود نہیں تاہم وزیراعظم کے اس بیان نے پیپلز پارٹی اور عمران خان کو الجھن میں ڈال دیا ہے ۔ ن لیگ کے سینئر رہنمائوں کے مطابق بلوچستان حکومت اور سینیٹ انتخابات جیسی کہانی ہی آئندہ عام انتخابات کے موقع پر دہرانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی میں اندرونِ خانہ سمجھوتہ ہوچکا ہے ۔ جبکہ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق سمجھوتہ طے پایا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ عام انتخابات کے نتائج کے موقع پر ہی ہو سکے گا۔ ن لیگ کے ٹوٹنے ، بلکہ خاتمے کی پیش گوئیاں ایک دفعہ پھر سراٹھانے لگی ہیں یقیناََ ن لیگ کو گزشتہ آٹھ ماہ سے سیاسی بحران کا سامنا ہے لیکن ابھی تک بظاہر ٹوٹنے یا خاتمے کی صورتحال نظر نہیں آرہی ؟ وزیراعظم خاقان عباسی پہلے دن سے ہی یہ کہہ رہے ہیں کہ موجودہ حکومت آخری دن تک اپنی مدت پوری کرے گی ۔ نواز شریف کے بارے میں جیل جانے یا جلاوطنی اور شہباز شریف کو سانحہ ماڈل ٹائون اور احد چیمہ جیسے مقدمات کے ذریعے احتساب میں لانے کی خبریں بھی عروج پر ہیں بہر حال آئندہ بننے والی نگران حکومت کا قیام ہی ان سب معاملات کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔اہم بات اس وقت یہ نہیں ہے کہ شہباز شریف کا لندن میں قیام اور ان کا قومی اداروں کو ملکر چلنے جیسے بیانات کسی مفاہمت کا اشارہ ہے یا نہیں۔ نواز شریف اور مریم نواز دونوں اپنے بیانیے پر پہلے سے زیادہ شدت سے ڈٹے ہوئے ہیں اور ن لیگ کی سیاسی پالیسی میں ایسے کسی مفاہمتی رویے یا اشارے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے ۔ لگتا ہے کہ یہ سب قیاس آرائیاں ہیں۔ دراصل اہم بات یہ ہے کہ انتخابات وقت پر ہونگے یا نہیں کیا ان کے انعقاد سے پہلے عدلیہ کے فیصلے بھی کوئی کردار ادا کریں گے یا نہیں؟ یہ آنیوالا وقت بتائے گا ۔لیکن لگتا یوں ہے کہ افواج پاکستان کے ترجمان اور چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے بار بار یقین دہانی کے باوجود شک و شبہات کے سائے چھائے رہیں گے۔ 

کہ آیا اگلے انتخابات شیڈول کے عین مطابق ہونگے یا نہیں اور اس سلسلے میں 90روز کے اندر نگران حکومتیں رخصت ہو جائیں گی یا کسی قانونی نقطے کی بنیاد پر انتخابات ملتوی کر کے دو یا تین سال کیلئے ان نگران حکومتوں کی مدت بڑھا دی جائے گی؟لیگی رہنمائوں کے نزدیک شاید سیاسی جماعتوں کے ذریعے حلقہ بندیوں پر اعتراضات لگا کر انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کی جاسکتی ہے۔ یہ بھی آنیوالا وقت ہی بتائے گا ۔ بعض تجزیہ نگاروں کے نزدیک ن لیگ کے قائد نواز شریف ووٹ کی حکمرانی کا جو عَلم اٹھا کر چلے ہیںوہ یہ عَلم اٹھائے رکھیں گے یا انہیں سزا دیکر اور جیل بھیج کرکسی اور حکمت عملی کے تحت نئی منصوبہ بندی کی جائے گی اگر مریم نواز کو بھی جیل بھیج دیا جاتا ہے تو کیا پھر باقی ن لیگ کے سیاسی رہنما یہ ذمہ داری اٹھا سکیںگے ؟ جہاں تک شہباز اور چوہدری نثار کی حالیہ ملاقات کا تعلق ہے خدشہ یہ ہے کہ شاید برف پگلنے کا موقع ہی نہ مل سکے۔

بہر حال 2018 کے عام انتخابات کا بروقت انعقاد جمہوری قوتوں کی مضبوطی اور غیر جمہوری قوتوں کی کمزوری کا باعث بنے گا۔ یہ وہ مرحلہ بھی ہے جہاں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے کردار کی آزمائش ہوگی کہ وہ انتخابات کے بروقت انعقاد کے موقع پر جمہوری قوتوں کا ساتھ دیتی ہیں یا وہ نواز دشمنی میں اقتدار کی ہوس میں ملک کے ساتھ زیادتی کرتی ہیں کیونکہ پاکستان کی بقا جمہوری تسلسل میں ہے جمہوری تعطل میں نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں