آپ آف لائن ہیں
جمعرات2؍شعبان المعظم1439ھ 19؍اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x
نواز اور مریم اپنا بیانیہ مقبول کرانے میں کامیاب ہوگئے؟

عام انتخابات کے انعقاد میں چند ماہ باقی ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ آج بھی عام لوگوں اور سیاسی تجزیہ نگار اسی بارے شکوک و شبہات کا اظہار کررہے ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ معاملات کچھ’’اسکرپٹ‘‘ سے ہٹ گئے ہیں۔ نواز شریف کی مقبولیت میں توقع کے مطابق کمی نہیں آئی بلکہ ان کے بیانیے کو دن بدن عوام میں پذیرائی مل رہی ہے۔ عمران خان اینڈ کمپنی کا خیال تھا کہ نااہلی کے بعد نواز شریف کا گراف دھڑام سے نیچے آجائے گا۔ وہ عوام کا سامنا نہ کرسکیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وہ آج بڑے بڑے جلسے کررہے ہیں، سینیٹ کے انتخابات میں جو کچھ ہوا وہ سب کو سمجھ میں آرہا ہے۔’’اسکرپٹ اور سازش‘‘ جب آشکار ہو تو اس کی افادیت ختم ہو کر رہ جاتی ہے، آگے کیا ہوگا یا کیا ہونے جارہا ہے اس بارے آج گھر گھر عام لوگ باتیں کرتے ہیں۔ سینیٹ انتخابات سے قبل سینیٹ انتخابات کے حوالے سے بھی بہت سے خدشات اور خطرات کا ا ظہار کیا جارہا تھا لیکن یہ تب ہی ممکن ہوئے جب سینیٹ کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی اکثریت کو ختم کردیا گیا حتیٰ کہ عمران خان نے باامر مجبوری اپنی ساکھ گنوا کر ڈپٹی چیئرمین کے لئے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دے دیا۔ ایسا کیونکر ممکن ہوا وہ کس فائدے کے لئے اتنے بڑے نقصان اور قربانی کے لئے تیار ہوگئے لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ’’نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم‘‘ کے مصداق کچھ بھی ہاتھ نہ آئے اور سینیٹ کے چیئرمین والا اسکرپٹ دھرا رہ جائے اور کسی غیر معروف شخصیت کو وزیر اعظم کے طور پر سامنے لایا جائے۔

اس وقت پاکستان کا اہم ترین سیاسی مسئلہ بروقت منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کا ہونا ہے۔ اس وقت پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کو چھوٹ اور رعایتیں حاصل ہیں، آصف زرداری کو جو ’’اسائمنٹ‘‘ دی گئی ہیں وہ انہوں نے بہ خوبی اور بہ کمال پوری کی ہیں۔ سب سے بڑا معجزہ ان کا عمران خان سے ووٹ لینا تھا، یہ معجزہ کسی غیبی قوت کے ناممکن تھا۔ دیکھیں یہ معجزے کب تک جاری رہتے ہیں اگر حالات اور معاملات جوں کے توں رہے اورا سکرپٹ کو درست نہ کیا گیا تو عام انتخابات تو ہوجائیں گے لیکن صد افسوس کہ یہ انتخابات متنازع قرار پائیں گے۔اس وقت تمام قوتیں مسلم لیگ (ن) کا راستہ روکنے میں سرگرم ہیں۔ راستے کی یہ رکاوٹیں ہر عام خاص کو واضح طور پر نظر آرہی ہیں۔ سینیٹ کے انتخاب میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے، اگر سینیٹ کی طرح عام انتخابات میں بھی وہی طریقہ کار، حکمت عملی یا جادوگری دکھائی گئی تو 2018کے عام انتخابات عارضی عبوری ہوں گے۔ اس کے بعد ایک غیرمتنازع اور غیر جانبدارانہ انتخاب کا انتظار یا کشمکش باقی رہے گی، آخر کار منصفانہ غیر جانبدارانہ شفاف انتخابات کرانے ہوں گے، اسی کو ووٹ کا تقدس و حرمت کہتے ہیں۔ نواز شریف اپنے کارکنوں کو پاناما فیصلے کے حوالے سے ذہنی طور پر تیار کررہے ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کی متوقع گرفتاری سے فوری طور پر کوئی بھونچال نہ آئے لیکن اس کے منفی اثرات دیر تک رہیں گے۔صاف ظاہر ہورہا ہے کہ عمران خان کرپشن کے خلاف معرکہ آرائی نہیں کررہے وہ تو اس بہانے اپنا راستہ ہموار کررہے ہیں ورنہ تو کرپشن کے خلاف تو وہ آصف زرداری پر بھی بڑے الزامات لگاتے رہے ہیں لیکن سینیٹ کے انتخاب میں ان کے ہی امیدوار کو ووٹ دے رہے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے اپنے تمام نظریے اور بیانیے کی نفی کردی۔ اب وہ آصف زرداری کے خلاف جتنی بیان بازی کریں اس میں نہ تو کوئی وزن ہوگا نہ جان ہوگی۔ جس طرح کا کھیل کھیلا جارہا ہے اس سے شعوری یا غیر شعوری طور پر پنجاب کے عوام کو تشویش اور پریشانی لاحق ہے۔ یہ ایک قومی المیہ ہے کہ پنجاب کے لوگ خود کو بےبس محسوس کررہے ہیں اور بےچینی ابھر رہی ہے۔ ایم کیو ایم کی طرح مسلم لیگ(ن) پر بھی وار ہورہے ہیں۔ بلوچستان کی جانب سے پہلی بار اسلام آباد پر یلغار کی باتیں کی جارہی ہیں۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی بات کی ہے ان کو معلوم نہیں کہ اس امکان اور اقدام سے کتنی صوباہیت پھیلے گی۔ پہلے ہی بلوچستان کی مدد سے پنجاب کو سینیٹ انتخابات میں بوجوہ اور بزور شکست دے دی گئی ہے۔

عمران خان نے جلسوں کا سلسلہ بند کر رکھا ہے۔ مال روڈ پر آصف زرداری ، طاہر القادری ا ور دیگر جماعتوں کے فلاپ شو کے بعد وہ لاہور ا ور پنجاب کے موڈ سے خوفزدہ ہوگئے ہیں۔ اب وہ ممبر سازی مہم تک محدود ہوگئے ہیں، یہاں کی پذیرائی کے لحاظ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب نہ وہ پہلے جیسے عمران ہیں نہ تحریک انصاف میں 2011مینار پاکستان کے جلسے جیسا دم خم اور تازگی ہے۔ عمران خان نے لاہور میں عجیب و غریب بیانیہ پیش کیا۔ انہوں نے لاہور میں تعمیر و ترقی کا ذکر مین میخ نکال کر اس طرح کیا کہ لاہور کو خوبصورت بنانے اور سہولتیں فراہم کرنے کے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ یہ پورے خیبرپختونخوا کی ترقیاتی بجٹ سے زیادہ ہیں۔ نیز یہ تعمیر و ترقی کے کام جنوبی پنجاب کا بجٹ کی کٹوتی کرکے کئے جارے ہیں۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا لاہور کے لوگ ان کی اس دلیل اور فلسفے سے خوش ہوں گے کہ ناراض ہوں گے؟ ان کو تو یہ بات جنوبی پنجاب میں جاکر کرنی چاہئے تھی تو بھی شاید کوئی بات بنتی شاید عمران خان کو معلوم نہیں کہ جنوبی پنجاب سمیت دیگر اضلاع سے 40فیصد لاہور کی آبادی یہاں منتقل ہونے والوں کی ہے۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ عمران خان سویلین بالادستی، پرویز مشرف کالا باغ ڈیم جیسے معاملات پر خاموش کیوں رہے ہیں۔ کیا ان کو اس کی اجازت نہیں ہے؟ اب چند ہفتوں میں بڑا منظر سامنے آنے والا ہے۔ نواز شریف احتساب عدالت کا فیصلہ ایک بڑا فیصلہ ہوگا فیصلے کے حوالے سے نواز شریف عدالت کو تو نہ معلوم مطمئن کرپائے کہ نہیں؟ لیکن عوام کو اس مقدمے کے حوالے سے تمام پس پردہ عوامل اور وجوہات کا علم اپنے بیانات اور تقاریر سے ذہنوں بٹھا گئے ہیں۔ مریم نواز نے نپے تلے اور مہارت سے کی گئی خوبصورت تقاریر سے ان کا خوب خوب ساتھ دیا ہے۔ اب ان کا بیانیہ اور مخالفین کا ایجنڈا سب واضح ہو کر سامنے آگیا ہے۔خدشہ ہے کہ اگر نواز شریف مریم نواز کی مقبولیت اسی طرح برقرار رہی تو عام انتخابات میں کوئی رخنہ یا رکاوٹ نہ آجائے۔ شہباز شریف دس روز لندن میں طبی معائنے کے بعد واپس آگئے ہیں۔ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اب وہ اداروں سے ٹکرائو نہ کرنے کے بیانیے پر اس قدر زور نہیں دے رہے تاہم ابھی بھی ایک امید کی کرن یہی ہے کہ وہ ملکی مفاد میں قوم اور ملک کو انتشار اور افتراق سے بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ احتساب سب کا ہونا چاہئے سازش اور انتقام سے جمہوریت اور ملک کو نقصان ہوگا۔ غیر منصفانہ اور غیر شفاف انتخاب سب سے دیرپا خرابی پیدا ہوگی۔ شہباز شریف کا بیانیہ اخلاص اور حب الوطنی پر مبنی ہے اگر وہ بھی اپنا بیانیہ بدلنے پر مجبور ہوگئے تو بڑی خرابی پیدا ہوسکتی ہے۔ شہباز شریف ہر لحاظ سے ایک بڑا اثاثہ ہیں ان کو اس راہ سے ہٹانا ایک بڑا نقصان ہوگا۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں