آپ آف لائن ہیں
پیر6؍شعبان المعظم 1439ھ 23؍اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x

پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بکھر بکھر کر نکھر رہا ہے۔ ماضی کے ’’ غیراہم‘‘ حال کے ’’اہم‘‘ ہوتے جارہے ہیں اورحال کے اہم ترین پس منظر میں جارہے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں جن متوقع تبدیلیوں کی نشاندہی کی گئی تھی اب حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ اب کی بار تو پیر صاحب پگاڑو شریف بھی پردہ ہٹا کر مریدین کو دیدار کرانے سندھ کی گدی چھوڑ کر جنوبی پنجا ب صوبہ بنائو تحریک کی حمایت میں لاہور تشریف لائے اور اس تحریک کی کامیابی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کو تیار نظر آتے ہیں۔ پنڈی کی چشمے والی سرکار بھی مستقبل کے گروپ فوٹو میں اپنی جگہ بنانے کے لئے پر تول رہی ہے۔ ان کی اصل پرواز تو منجانب پی ٹی آئی ہے مگروہ آخری دم تک بادل نخواستہ ن لیگ کو ٹوٹے ٹوٹے ہوتے دیکھنا چاہتی ہے اور امید رکھتی ہے کہ انہیںپیروں مریدوں کی اشیر بادحاصل ہوگی اور جنوبی پنجاب صوبہ بنائو تحریک کے ’’پارٹ ٹائم کردار‘‘بھی ان کی مدد کو آئیں گے اور نواز لیگ پر ان کے خواب ’’نثار‘‘ ہو جائیں گے، چشمے والی سرکار کا اس سوچ کی ناکامی کی صورت میں آخری ٹھکانہ بڑے خان صاحب کاآستانہ شریف آف بنی گالہ ہی ہے۔ جہاں بہت سوں کی من کی مرادیں پوری ہوتی نظر آتی ہیں۔ دوسری طرف دن میں تارے دکھانے والے رات کی تاریکی میں ’’نو ستاروں‘‘ کا نقارہ بجاتے نظر آرہے

x
Advertisement

ہیں۔ چوں چوں کے اس مربے سے اقتدار کے بھوکوں کے ذریعے جو سیاسی متنجن تیار کیا جارہا ہے آنے والے وقتوں میں (اگر وہ وقت آیا) تو یہ بھوکے ایک دوسرے کو نوچیں گے ۔ خواہشات کے تابع آئندہ کا نظام حکومت چلانے کی جو تدبیریں ہو رہی ہیں وہ کامیاب ہوں گی یا نہیں؟ مستقبل اور دلوںکا حال تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن سوچنے کی بات تو ہے کہ جب آپ کے مشرق و مغرب میں دشمن گھات لگائے بیٹھا ہو، اسلامی دنیا انتشار کا شکار ہو، ہر آنے والے دن دشمن ہمیں شکار کرنے کی آسان تراکیب پر عمل پیرا ہو، دوست نما منافقین کی ایک لمبی قطار آپ کو تقسیم در تقسیم کرنے کی داخلی سازشوں میں مصروف ہو تو ایسے میں آئندہ عام انتخابات کے ذریعے معرض وجود میں آنے والی حکومت ممکنہ درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنے کو تیار ہو گی یا نہیں۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے جس پر کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں۔ فی الحال تو پاکستان کو بین الاقوامی دبائواور شرائط کے ساتھ ساتھ جو کٹھن ترین مرحلہ درپیش ہے وہ ہے ہمارا آئندہ کا وفاقی بجٹ۔ جو ہماری آئندہ سال کی مالی ترجیحات کا تعین کرے گا۔ اس مرحلے پر جنونی اور جیالے بیک زبان موجودہ حکومت سے یہ حق بھی چھیننا چاہتے ہیں۔
یہ تو طے شدہ بات ہے کہ حکمران جماعت سے اس کا قائد تاحیات چھن چکا ہے جب کہ مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کے گرد گھیرا بتدریج تنگ ہو رہا ہے۔ شریف خاندان بھٹو خاندان کی طرح سیاسی شہید بھی نہیں بن پائے گا۔ بلوچستان کے بعد جنوبی پنجاب کےلکڑہارے ایک ایک کرکے ن لیگ کی شاخیں کاٹتے رہیں گے۔ دوسری طرف کھلاڑی اور زرداری تو پہلے ہی پرانے برائلر کو اصیل چوزے بنانے کے لئے اپنے پروںکے نیچے لینے کو بے تاب ہیں۔
روایتی سیاست دانوں کو اب یہ جان لینا چاہئے کہ الیکٹرانک و سوشل میڈیا کے اس دور میں پراپیگنڈہ اب محض ان کا ہی ہتھیارنہیں بلکہ ناک کی سیدھ پر چلنے والے بھی اس کے ساتھ سابقے اور لاحقے استعمال کرکے دائیں بائیں فائر کررہے ہیں۔ میاں نواز شریف کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ، گمان ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر بھرپور اثرات مرتب کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ خیر اس فیصلے سے قوم حیران ہے کہ جو شخص صادق اور امین تھا ہی نہیں وہ اسمبلی کی دہلیز تک پہنچا کیسے؟ اس پر مستزادیہ کہ اقتدار بھی اس کو مل گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاست کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے والے کسی خوش فہمی میں نہ رہیں اگر سینیٹ کے انتخابات کے دوران اتنی بھاری سرمایہ کاری کے باوجود انہیں صرف ’’سکینڈ ہینڈ‘‘ کامیابی نصیب ہوئی تو آئندہ عام انتخابات میں بھی کسی بڑے خزانے کی چابی ان کے ہاتھ لگنے والی نہیں۔ اس بار کالی آندھی لاہور سے چلے گی۔ جب نگران حکومتیں وجود میں آئیں گی، انتخابی عمل کاآغاز ہوگا، کاغذات نامزدگی کے مرحلے سے کچھ پہلے یا دوران (ن) لیگ کی قیادت صادق و امین امیدواروں کی تلاش میں سرگرداں ہوگی، یہ وہ آزمائش کامرحلہ ہوگا جہاں بڑے میاں صاحب کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ لٹی پٹی ن لیگ انتخابی عمل کا حصہ بنے یا بائیکاٹ کر دیا جائے۔ بیک وقت دو تین آپشن سامنے ہیں ۔ قومی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ، کارکنوں کو سڑکوں پر لانے کی کال یا صرف پنجاب کی سطح پر انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ۔ یہ بڑا عجیب منظر ہوگا ۔ ایک طرف بڑے میاں صاحب احتجاجی تحریک چلا رہے ہوں گے تو دوسری طرف چھوٹے میاں صاحب انتخابی مہم۔
آئیے ہم سب چراغ لے کر نکلتے ہیں اور بائیس کروڑ عوام کے اسمبلیوں، سینیٹ اور اداروں میں بیٹھے مسیحائوں میں سے نواز شریف اور جہانگیر ترین کے بعد کسی ایسے تیسرے شخص کو ڈھونڈنے کا کٹھن مرحلہ طے کرتے ہیں جو صادق اور امین نہ ہو۔ عدالت عظمیٰ نے بسم اللہ کردی ، آئیے ہم سب مل کر الحمد للہ پڑھتے ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں