آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی چند معروف ماؤں کے خیالات

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’پیوند کی طرح چمکتی ہوئی روشنی ، روشنی میں نظر آتے ہوئے بجھے بجھے چہرے ، چہروں پر لکھی داستانیں ، داستانوں میں چھپا ہوا ماضی، ماضی میں چھپا ہوا بچپن ، جگنوؤں کو چنتا، تتلیوں کو پکڑتا ، پیڑ کی شاخوں سے جھولتا ، کھلونوں کی دکانوں کو تکتا ، باپ کی گود میں ہنستا ، ماں کی آغوش میں مسکراتا ، مسجدوں میں نمازیں پڑھتا ، جھیل میں تیرتا ، دھول مٹی سے سنورتا ، ننھے ننھے ہاتھوں سے دعائیں مانگتا ، غلیل سے نشانے لگاتا ، پتنگ کی ڈور میں الجھا ، نیند میں چونکتا ہوا بچپن...... 

اب خدا جانے کن بھول بھلیوں میں کھو کر رہ گیا ہے‘‘،یہ سچ ہے کہ بچپن کی ہر یاد نظروں کے سامنے آنے والے کسی منظر،کسی بھی بات میں کہیں نہ کہیں چھپی ضرور ہوتی ہے ،جو ہمیں چشم زدن میں بہت پیچھے لے جاتی ہے،جہاں باپ کی شفقت کے ساتھ ’’ماں‘‘کا نرم گرم احساس جاگزیں ہوتا ہے۔بلاشبہ زندگی گزارنے کے ہر انداز میں کہیں نہ کہیں ہمارے ماں،باپ کی جھلک موجود ہوتی ہے۔

بچے کی پرورش میں’’ماں‘‘ کا کردار بنیاد فراہم کرتا ہے،فی زمانہ تیزی سے تبدیل ہوتی دنیا کے انداز بھی بدل گئے ہیں ،ہم کہہ سکتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ماؤں نے بھی بچوں کی تربیت کے انداز تبدیل کر دیے ہیں،ہم نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ’ماؤں‘ سے اس حوالے سے بات کی ہے ،اُ ن کی گفت گو نزر قارئین ہے۔

ڈاکٹر ہما بقائی:

زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی چند معروف ماؤں کے خیالات

میں مکمل طورپر ایک پروفیشنل عورت ہوں۔ درس و تدریس کے حوالے سے میری مصروفیات بہت زیاہ ہیں، لیکن میں نے اپنے کیرئیر کا آغاز شادی کے آٹھ برس بعد کیا، آٹھ برس تک میںایک ’’فل ٹائم‘‘ ماں تھی،بچوں کی پرورش، نگہداشت اور گھریلو ذمے داریوں کے باعث میں پروفیشنل لائن میں دیر سے آئی،کیونکہ یہ وہ وقت تھا جب گھر اوربچوں کو میری ضرورت تھی۔ 

میں آج کل کی مائوں کی جو کہ اگر پروفیشنل بھی ہوں تو ان میں یہی Guiltدیکھتی ہوں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے فکر مند رہتی ہیں کہ ملازمت پر جاتے ہوئے بچوں کو کس کے حوالے کرکے جائیں۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ اولاد کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اکثر نوجوان مائیں بچوں کو اپنے والدین یا ساس، سسر کے پاس چھوڑ کر جاتی ہیں یہاں تک پھر بھی درست ہے کہ بچوں کی تربیت کے حوالے سے اس قدر پریشانی نہیں ہوتی لیکن اگر مائیں بچوں کو ’’ماسیوں‘‘ کےحوالے کرکے جائیں تو، فکر مند ہی رہتی ہیں۔ ماں بچے کی دوری کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ماں ہمیشہ بچے کو غلط کام سے روکتی ہے یہی وجہ ہے کہ بچوں کی تربیت کے حوالے سے بھی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ 

کارپوریٹ سیکٹر کو چاہیے کہ نوجوان مائوں کے لیے حل نکالے ،آفس میں بچوں کے لیے ’’ڈے کیئر‘‘ ہونا چاہیے۔ اپنے بچوں کی پرورش کے حوالے سے کہنا چاہوں گی کہ میں نے اپنے بچوں پر کبھی بھی زبردستی روک ٹوک نہیں کی لیکن ہمیشہ انہیں اچھائی اور برائی میں فرق کرنا سکھایا۔ کیونکہ ہر زمانے کی الگ ویلیوز ہوتی ہیں، ماں کو اندازہ ہونا چاہیے کہ اس کا بچہ اگلے زمانے میں پروان چڑھے گا تو اسے چاہیے کہ بچے کو اُس کے زمانے کے لحاظ سے تربیت دے۔ میں نے بچوں کے لیے خود کو بھی زمانے کے ساتھ تبدیل کیا ۔

جہاں آرا حئی:

زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی چند معروف ماؤں کے خیالات

میں نے اپنے بچوں کی تربیت کے لیے کبھی کوئی خطوط متعین نہیں کیے، مگر کوشش ہمیشہ یہی کی کہ جس طرح میرے والدین نے میری تربیت کی اسی طرح اپنے بچوں کی پرورش کروں۔کچھ اصول تو عام طورپر طے ہیں کہ بچوں کو سچ بولنے کی ترغیب دینا، بے ایمانی سے دور رہنا، بڑوں کی عزت کرنا وغیرہ۔ یہ وہ بنیادی اصول ہوتے ہیں جن پر ہر گھرانے میں عمل ہوتا ہے، انہیں بتانا نہیں پڑتا،بچہ خود ماحول دیکھ کر سیکھتاجاتا ہے۔ 

میں نے بھی بچوں کو عملاً یہ اصول سیکھائے، تاہم وقت اور ماحول سے تبدیلیاں آتی ہیں۔ مجھے یاد ہے جب ہم چھوٹے تھے تو صبح اٹھ کر ریڈیوں لگالیا کرتے تھے تو ہمیں ڈانٹ پڑتی تھی کہ ’’نہ نماز نہ روزہ ، صبح صبح ریڈیو‘‘اسی طرح ہم آج بچوں سے کہتے ہیں کہ ’’خدا کے لیے موبائل تو ہاتھ سے چھوڑ دو‘‘ لیکن ہم بچوں کے ہاتھوں سے موبائل چھڑوا نہیں سکتے۔ اب ماحول بدل چکا ہے۔ ہمارے سامنے یہ سب نت نئی ایجاد ات آئیں لیکن آج کے بچوں کے لیے عجوبہ نہیں ہیں۔ یہ اسے اپنی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں ۔ ہم انہیں منع نہیں کرسکتے لیکن ہم انہیں اس کے اچھے برے استعمال کے لیے بتاسکتے ہیں کیونکہ آج کا بچہ Logicمانگتا ہے، اسے سمجھانا پڑے گا۔ 

انہیں سمجھانے کے لیے آپ کے پاس دلیل ہونی چاہیے کسی بات پر ٹوک دو تو چھوٹا بچہ فوراً سمجھ جائے گااوررونے لگے گا لیکن جوں جوں عمر بڑھے گی تو وہ آپ سے دلیل مانگے گا۔ بچوں سے ان کے لیول پر بات کرنا پڑتی ہے،یہ ان کی تربیت کا حصہ ہے۔ اسی طرح سزا کے طورپر نہ میں نے اپنے والدین سے مار کھائی اور نہ اپنے بچوں کو کبھی مارا۔ سزا کے طورپر مختلف طریقے آزمائے یعنی اگر کبھی امتحان میں نمبرز کم آگئے تو ان کی سہولتوں میں کمی کردی، لہٰذا بچوں کی پرورش کے لیے تکنیک سے چلنا پڑتا ہے۔

بچے کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بچے کی اس طرح شخصیت سازی کریں کہ وہ ماحول سے سیکھے اور گھریلو ماحول کو بہتر بنانا ’’ماں‘‘ کا کام ہے۔ آج الحمد اللہ میرے بچے شادی شدہ ہیں لیکن جب انہیں مشورہ چاہیے ہوتا ہے تو وہ والدین کے پاس ضرور آتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ والدین کی رائے درست ہوگی۔

ساحرہ کاظمی:

زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی چند معروف ماؤں کے خیالات

میں سمجھتی ہوں کہ ماں کے لیے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ’’دوست‘‘ بنے، ان کے ساتھ وقت گزارے۔ جوں جوں آپ کا بچہ بڑا ہوتا ہے اس دوران اگر ماں یا باپ سے اس کا کمیونیکشن گیپ بڑھ جائے تو وہ اپنی باتیں والدین سے شئیر نہیں کرے گا بلکہ اپنے مسائل اور الجھنیں اپنے دوستوں سے شئیر کرے گا۔ لہٰذا اپنی اولاد کو وقت دیں، ان سے بات کریں، اسکول کی باتیں وہاں کے مسائل سنیں۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ ماں ’’ پروفیشنل‘‘ ہے تو اس پر دوہری ذمے داری عائد ہوجاتی ہے۔ جب میرے بچے چھوٹے تھے، تو ان دنوں ظاہر ہے میری ٹی وی مصروفیات زیادہ تھیں۔ میں تب بھی بچوں کے ساتھ ضرور وقت گزارتی تھی ۔میں اس لحاظ سے خوش نصیب ہوں کہ میرے بچوں کی تربیت میں میرے والدین کا بھی عمل دخل رہا ہے، ظاہر ہے میرا بھروسہ تھا کہ نانا، نانی کے پاس میرے بچوں کی بنیادی تربیت اچھی ہوگی، لیکن آج کی خاص کر پروفیشنل مائوں کے لیے چیلنجز زیادہ ہیں۔ ماحول تبدیل ہوا ہے بچوں کو اپنے والدین کے پاس تو چھوڑا جاسکتا ہے لیکن ملازمین کے حوالے نہیں کرسکتے۔ 

پہلے زمانے میں باتیں چھپ جایا کرتی تھیں ،آج پے در پے ایسی خبریں اخبارات میں آرہی ہیں کہ دل دہل جاتا ہے۔ آج سوسائٹی کو چیلنجز درپیش ہیں، اس حوالے سے ماں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی دوست بنے، انہیں اعتماد دے۔ مجھے یاد ہے میں ٹی وی اسٹیشن سے دنوں بچوں کو لینے اسکول جاتی تھی اکثر بچے ضد کرتے کہ ماما سامنے جو آئس کریم والا کھڑا ہے ہمیں اس سے آئس کریم کھانی ہے ،میں وہیں گاڑی کھڑی کرکے بچوں کے ساتھ آئس کریم کھاتی۔ مجھے لوگ کہتے کہ آپ تو آرٹسٹ ہیں اور ٹھیلے سے آئس کریم لے کر کھاتی ہیں۔ میں ان سے کہتی، یہ میرے بچوں کی خواہش ہے، میں کیوں نہ ان کے ساتھ انجوائے کروں۔ اس دوران میں بچوں سے خوب باتیں کرتی، ان کے اسکول کا احوال پوچھتی، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ہر ماں بچوں کو قریب رکھے۔ 

ان سے خوب باتیں کرے کہ آج وین میں کیا ہوا، کسی دوسرے بچے نے مارا تو نہیں یا اسکول میں کسی بچے نے دھکا تو نہیں دے دیا۔ یہ بچے کی تربیت کے لیے ضروری ہے ان کا اعتماد بڑھتا ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں کسی تقریب میں جاتی ہوں تو دیکھتی ہوں کہ بچے بڑوں کو سلام تک نہیں کرتے، جبکہ یہ بنیادی بات ہے جو ہمیں بچپن میں سکھائی جاتی ہے۔ سمجھ لیں تربیت کا لازمی حصہ ہے۔ مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب مجھے لوگ کہتے ہیں کہ تم نے بچوں کو اچھی تربیت دی ہے۔ تمہارے بیٹے (علی) نے اتنی بڑی تقریب میں آکر ہمیں سلام کیا۔ جب لوگ ایسی مثالیں دیتے ہیں تو بہت اچھا لگتا ہے۔

نادیہ حسین:

زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی چند معروف ماؤں کے خیالات

اولاد کی شخصیت میں ماں کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بچے کی شخصیت سازی کے لیے ہر مرحلے پر ماں کو اپنی ذمے داری پورےخلوص سے نبھانی ہوتی ہے۔ بڑوں کی عزت کرنا، سچ بولنا اور وقت کی پابندی جیسے رہنما اصول ماں ہی بچے کو بتاتی ہے۔ میں نے بھی ہر ماں کی طرح بچوں کی بہترین تربیت پر فوکس کیا ۔ عموماً بچے بلا امتیاز تیزی سے اچھی بری عادت کو اپنا لیتے ہیں لہٰذا میری کوشش ہوتی ہے کہ بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دوں تاکہ ان میں مثبت عادتیں اجاگر ہوں۔ ہمیں سوسائٹی کے حوالے سے کئی چیلنجز کا سامنا ہے لہٰذا ہمیں بچوں پر زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ اسی طرح ہر بچے میں فطری طورپر کئی خصوصیات ہوتی ہیں۔ میرے بچوں کو اسپورٹس سے بہت لگائو ہے۔ 

وہ سائیکلنگ بہت شوق سے کرتے ہیں، لیکن سائیکلنگ کے لیے ان کو باہر بھیجنا بھی مسئلہ ہے۔ سڑکیں بھی ٹھیک نہیں ہیں۔ لہذا یہ چھوٹے چھوٹے مسائل بچوں میں موجود ٹیلنٹ کو ضائع کردیتے ہیں۔ میں انہیں مکمل اور بہترین ماحول دینا چاہتی ہوں جہاں یہ اپنی ہر جائز خواہش اور شوق پورا کریں۔ میں ان کی دلچسپیوں میں ان کا ساتھ دیتی ہوں ۔ ظاہر ہے باہر کا ماحول ایسا نہیں کہ انہیں اکیلے بھیجوں تو جب وہ سائیکلنگ کے لیے جاتے ہیں تو میں بھی ان کے ساتھ ہوتی ہوں۔ والدین کو چاہیے کہ اولاد کو دلچسپیوں پر توجہ دیں اولاد کے دوستوں سے بھی دوستی کریں۔

سیما غزل:

زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی چند معروف ماؤں کے خیالات

ماں خاندان کی بنیاد ہوتی ہے۔ میری ماں نے ہمیشہ بچوں کو اعتماد دیا۔ ہم زیادہ بہن بھائی تھے لیکن ہمارے والدین نے تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لہذا ہم نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، غلطی ہوتی تو فوراً ماں کو جاکر بتادیتے۔ میں نے اپنی زندگی میں یہ اصول رکھا کہ اولاد کو ہمیشہ اعتماد دیا جائے۔ اس سے بات کی جائے۔ جب بچہ بولنا شروع کرتا ہے تو وہ سب سے پہلے سوالات کرتا ہے۔ ہمارے ہاں ایسا ہوتا ہے کہ بچوں کے سوالات کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ جب میرے بیٹے نے بولنا شروع کیا تو وہ طرح طرح کے سوالات کرتا تھا۔ میری بہن اکثر چڑ جاتی اور کہتی تمہارا بیٹا تو بہت بولتا ہے۔ 

اُس سے میں کہتی کہ اگر میں اسے جواب دینا چھوڑ دوں تو کل وہ کسی دوسرے ، تیسرے آدمی سے سوال کرے گا اور ممکن ہے کوئی اور فرد اسے کچھ غلط ہی سکھا دے ۔میں ماں ہوں لہٰذا میرا فرض ہے کہ اسے سمجھائوں، سیکھائوں۔ ایک مرتبہ میرے بیٹے نے ایسا سوال کیا جس کا جواب میں نہیں دے سکتی تھی۔ اُس وقت وہ بہت چھوٹا تھا ۔ میں نے اسے کہا کہ آپ یہ سوال اپنی کاپی میں لکھ لو تاکہ آپ کو سوال یاد رہے۔ میں آپ کو اس کا جواب چار سال بعد دوں گی۔ میرے بیٹے نے وہ سوال اپنی نوٹ بک میں لکھ لیا۔ اسے یقین تھا کہ ماں اسے جواب دے گی۔ جب وہ بڑا ہوا تو اس نے نوٹ بک مجھے دکھائی۔ 

پھر میںنے اسے اس کی عمر کے لحاظ سے بات سمجھادی۔ لہٰذا ماں باپ کو بچوں کو ان کی سطح پر ڈیل کرنا ہوتا ہے۔ میں نے کبھی بیٹے کو جھوٹ بولنے نہیں دیا۔جب میرا بیٹا تین سال کا تھا تو ایک مرتبہ اسکول سے گھر آیا، میں نے کپڑے تبدیل کرائے اور ہاتھ، منہ دہلایا۔ میں نے نوٹ کیا کہ وہ بہت جلدی میں ہے،جلدی جلدی سارے کام کرنے کے بعد وہ اپنے اسکول بیگ کی طرف چلا گیا۔ کچھ نکالنے لگا میں چونکہ اسے نوٹ کررہی تھی،اُ س کے پاس پہنچ گئی دیکھا اس کے بیگ سے رنگ برنگی سونف کا ایک پیکٹ نکلا۔ میں نے تھوڑا سختی سے پوچھا کہ یہ پیکٹ کہاں سے آیا؟ تو وہ سہم گیا۔ خیر میں نے ملازم سے کہا کہ ایسا ہی پیکٹ اسے دکان سے دلوالائو اور بیگ سے نکلنے والا پیکٹ میں نے اپنے پاس رکھ لیا۔ 

جب میرا بیٹا اپنا سونف کا پیکٹ لے آیا تو میں نے اسے کہا کہ اسکول سے جو تمہیں پیکٹ ملا ہے وہ ٹیچر کو دے دینا اور کہنا کہ غلطی سے تم نے لے لیا ہے۔ اگلے دن اسکول پرنسپل کا فون آیا۔ انہوں نے کہا یہ یہ رنگ برنگی سونف کے پیکٹ ہم نے کلاس میں بٹوائے تھے۔ چھٹی کا وقت تھا تو کلاس ٹیچر نے اس کی ڈیسک پر ڈبہ رکھ دیا۔ آپ کے بیٹے کو پتہ نہیں چل سکا کہ اسکول کی طرف سے ہے اور اس نے اپنے بیگ میں رکھ لیا۔ بچہ ابھی بہت چھوٹا ہے وہ نہیں سمجھے پایا۔ بہرحال مجھے سختی کرنا پڑی۔ بچوں کو ہر لحاظ سے ’’واچ‘‘ کرنا ہوتا ہے۔بعض لوگ مجھ سے کہتے ہیں تمہارا اکلوتا بیٹا ہے تم بلاوجہ سختی کرتی ہو،لیکن ظاہر ہے میں آج ہوں ،کل نہیں ہوگی یہ کس طرح زندگی گزارے گا ؟

اسی طرح میں ایک اور واقعہ سنائوں کہ میرا بیٹا آٹھویں کلاس میں تھا تو اسے میرے بھانجے کے جوتے پسند آگئے۔ وہ 800روپے کے تھے۔ مجھ سے کہنے لگا ماما ایسے جوتے چاہئیں، آٹھ سو روپے کے ہیں۔ میں نے کہا کہ میرے پاس تو آٹھ سو روپے نہیں ہیں، تم ایسا کرو کہ اپنی پاکٹ منی سے جمع کرو۔ میرے پاس آدھے پیسے تو ہیں، ہم مل کر جوتے خرید لیں گے، اس طرح اسے پیسے جمع کرنے کی عادت ہوگی۔ ایک روز اس نے خوش ہوکر کہا کہ امی میرے پاس 300روپے جمع ہوگئے۔ اس طرح ہم نے دکان پر جاکر وہ جوتے خرید لیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب اگر اسے کچھ خریدنا ہوتا ہے تو وہ پہلے دیکھتا ہے کہ اس کے پاس کتنے پیسے ہیںاور کتنے جمع کرنا ہوں گے۔ 

اسی طرح میں نے اسے کبھی بلا ضرورت دوستوں میں بیٹھنے نہیں دیا۔ اس کے دوستوں سے خود بھی دوستی کی کہ پتہ چلے کہ کن لوگوں میں جارہا ہے یہ سب کچھ مائوں کو کرنا پڑتا ہے۔ میں نے اپنے بیٹے کو کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالی ہے۔ اسے ہمیشہ کتابیں تحفے میں دیتی ہوں۔ آج اس کی لائبریری میری لائبریری سے بڑی ہے۔ اب اسے عادت ہوگئی ہے کہ اپنی ہر بات مجھ سے شئیر کرتا ہے۔ ہم ماں بیٹا دنیا کے ہر ٹاپک پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں۔

صفورہ خیری:

زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی چند معروف ماؤں کے خیالات

پچھلے وقتوں کی مائیں ہی الگ تھیں۔ آج کی مائوں کے پاس فرصت ہی نہیں ہے۔ پہلے بنیادی اور ابتدائی تعلیم پر زور دیا جاتا تھا۔ احکامات خداوندی سے آگاہی کے لیے پہلے ماں باپ کو اس کا پابند ہونا ضروری تھا۔ بچے والدین کو دیکھ کر نماز، روزے کے پابند ہوتے تھے۔ آداب زندگی سیکھتے تھے۔ وفاداری اور رواداری تھی ان میں ۔افسوس کی بات ہے کہ اب بچے تابع دار نہیں رہے۔ وقت بدل گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مائیں اپنی ذات میں گم ہیں۔ اب یہ فیشن آیاہے کہ ہر پچاس برس کی عورت پچیس برس کی بننا چاہتی ہے۔ 

اسی لیے ’’پارلر‘‘ آباد ہوگئے ہیں۔ ان خواتین کا جوکہ مائیں بھی ہیں زیادہ فوکس، کپڑے، جوتے، زیور ہی ہیں۔ لہٰذا بچوں کی تربیت اس طرح نہیں ہورہی جیسے پہلے ہوتی تھی۔ اسی لیے نوجوان نسل’ فریسٹریشن‘ کا شکار ہورہی ہے، زیادہ سختی کرو تو گھر سے ہی بھاگ جاتے ہیں۔ میرا ایک ہی بیٹا ہے، وہ دنیا کا مشکل ترین بچہ ہے، جب وہ چھوٹا تھا تو اکثر اس سوال پر روز دیتا تھا کہ آپ کے ہاتھ بڑے کیوں ہیں اور میرے چھوٹے کیوں؟ 

کبھی پوچھتا خرگوش تیز بھاگتا ہے یا چیتا۔ اسے سوالات کرنے کی بہت عادت تھی۔ کبھی کبھی مجھے کوفت بھی ہوتی لیکن میں اسے کوئی نہ کوئی جواب بناکر مطمئین کرتی تھی۔ میں نے کبھی اسے نظر انداز نہیں کیا ہمیشہ اسے اعتماد دیا۔ ملازمت کے ساتھ گھر سنبھالنا یقیناً دشوار ہے لیکن توازن ضروری ہے۔ آج کل کی مائوں کو چاہیے، توازن کے ساتھ زندگی گزاریں اپنے بچوں کو خود سے دور نہ کریں۔

فضیلہ قیصر:

زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی چند معروف ماؤں کے خیالات

ہر ماں باپ اپنی اولاد کے لیے بہترین کرنا چاہتے ہیں۔انہیں دنیا کی ہر آسائش دینا چاہتے ہیں۔ہر چیز وقت اور حالات کے تحت ہوتی ہے۔ جب ہم چھوٹے تھے تو زمانہ ہی الگ تھا، ہمارے والدین ہمارے لیے اچھاہی چاہتے تھے اور زندگی کی ہر سہولت دیتے تھے۔ آج زمانہ مختلف ہے اب بچے زیادہ ڈیمانڈنگ ہوگئے ہیں ۔اپنےبچوں کےلیے بھی میں نے ہمیشہ سے یہی اصول رکھاکہ انہیں تعلیم بہتر سے بہتر دلوانی ہے اور تربیت میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑنی۔ 

اپنی طرف سے تو یہی کوشش رہتی ہے کہ بچوں کو اچھا انسان اور مسلمان بنائوں۔ میں بچوں پر بے جا سختی کی قائل نہیں یہی وجہ ہے کہ آج میرے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کررہےہیں اور میرے بہت قریب ہیں۔ ان سے میرا رویہ ہمیشہ دوستانہ رہا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں