آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل6؍ صفر المظفّر 1440ھ16؍اکتوبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قیام پاکستان کے بعد، شہید ملت لیاقت علی خان پر چلائی جانے والی پہلی گولی کا تسلسل احسن اقبال تک جاری ہے، قارئین کی خدمت میں جماعت اسلامی کے بانی سید مودودیؒ کے وہ خیالات پیش کئے جارہے ہیں جن کا اظہار انہوں نے 1951ء میں پہلی گولی کے مقتول کی شہادت پر کیا تھا۔ آپ ان کے افکار کی روشنی میں فیصلہ کریں، ہم نے پاکستان کو اس آگ کے حوالے کرنا ہے یا اپنے ووٹ کے ذریعے اس آگ کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دینا ہے اور اگر ایسا ہے تب اس میں قومی سیاستدانوں کی اکثریت کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے احسن اقبال کی سائیڈ پر کھڑے ہونا ہے یا گولی کو ’’حق رائے دہی‘‘ دینا ہے؟
لیاقت علی خان کی شہادت پر سید مودودی نے کہا تھا:
’’کسی دوسرے مسئلے پر گفتگو کرنے سے پہلے میں اس حادثہ عظیم پر اپنے اور اپنی جماعت کے دلی رنج و افسوس کا اظہار کرتاہوں جو ابھی پچھلے ہی مہینے ہمارے ملک میں رونما ہوا ہے، یعنی مسٹر لیاقت علی خان مرحوم کا قتل، یہ واقعہ نہ صرف شخصی حیثیت سے دردناک ہے، نہ صرف اخلاقی حیثیت سے شرمناک ہے بلکہ اس لحاظ سے پورے ملک کے لئے افسوسناک بھی ہے کہ ایک نہایت نازک موقعے پر جبکہ ہمارا ملک خطرات میں گھرا ہوا ہے ایک ایسا شخص ہمارے درمیان میں سے زبردستی ہٹا دیا گیا جو یہاں کے معاملات کی سربراہ کاری کا سارا بوجھ اٹھائے ہوئے تھا، جس سے

زیادہ بااثر اور ذمہ دار شخصیت ہمارے ہاں موجود نہ تھی!
پھر یہ واقعہ اس لحاظ سے خطرناک بھی ہے کہ یہ اس ملک میں ایک بہت بُرے رجحان کے ابھرنے کی علامت ہے، اگرچہ سردست یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس حرکت کا محرک کیا تھا۔ کوئی سیاسی محرک تھا یاشخصی۔ لیکن اگر فی الواقع وہ کوئی سیاسی محرک تھا تو یقیناً یہ حالات کو ایک ایسے رخ کی طرف موڑنے والی حرکت ہے جس کی ہر اس شخص کو مذمت کرنی چاہئے جو اس ملک اور اس ملت کی فلاح چاہتا ہو۔ اگر ہم اپنا مستقبل تاریک نہیں کرنا چاہتے تو ہمیں پوری طاقت کے ساتھ اپنے ملک کے حالات کو اس خطرناک رخ پر جانے سے روکنا چاہئے!
ہمارے ذمہ دار لوگوں کو یہاں ایسے حالات پیدا کرنے اور قائم رکھنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے جن میں ہر وہ سیاسی تغیر پرامن طریقے سے ہوسکتا ہو جس کے حق میں رائے عامہ ہموار ہو جائے اور کوئی ایسی وجہ باقی نہ رہے جس کی وجہ سے لوگ یہ سوچنے لگیں کہ قومی اور سیاسی معاملات کا فیصلہ مصنوعی اور جبری تدابیر اختیار کئے بغیر نہیں ہوسکتا، اگرچہ برطانیہ ایک غیرمسلم ملک ہے مگر حکمت بہرحال مومن کی کھوئی ہوئی متاع ہے، جہاں سے بھی یہ ملے اسے لینا چاہئے، ہمارے لئے برطانوی طرز عمل میں ایک سبق موجود ہے جس سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ وہاں کوئی فوجی یا غیر فوجی سازش نہیںہوتی، کوئی خفیہ تحریک نہیں اٹھتی، کوئی انگریز خواہ وہ ملک کے رائج الوقت نظام سے کتنا ہی سخت اختلاف رکھتا ہو، کبھی یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ اسے اپنے ملک کے کسی لیڈر یا حکمران کو قتل کردینا چاہئے۔
بڑے سے بڑے انقلابی خیالات رکھنے والے آدمی کے ذہن میں بھی وہاں یہ تخیل راہ نہیں پاتا کہ جس انقلاب کا وہ خواہش مند ہے اسے برپا کرنے کے لئے فلاں شخص یا فلاں اشخاص کو قتل کردینا مفید یا ناگزیر ہے۔ غور کیجئے اس کا سبب کیا ہے؟ درحقیقت یہ سب کچھ اس بات کا ثمر ہے کہ وہاں ایسے حالات پیدا کئے گئے ہیں جن میں ہر شخص اپنے نظریے اور پروگرام کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کرسکتا ہے اور ہر شخص کو پورا اطمینان ہے کہ جب بھی وہ رائے عامہ کو ہموار کر لے گا، اس ملک کا نظام اس کی منشا کے مطابق بدل جائے گا۔
وہاں اگر کسی کی بات نہیں چلتی تو اس لئے نہیں کہ کسی نے طاقت سے اس کا راستہ روک رکھا ہے بلکہ صرف اس لئے کہ رائے عامہ اس کے حق میں نہیں، یہ چیز اس کو پستول چلانے کے بجائے اپنی بات کو پھیلانے اور عوام کو اپنے دلائل سے مطمئن کرنے پر آمادہ کرتی ہے، اسے کبھی یہ اندیشہ نہیں تھا کہ وہ ان ذرائع سے محروم کردیا جائے گا جن سے وہ اپنے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرسکتا ہو اور اس کو کبھی یہ خطرہ لاحق نہیں ہوتا کہ انتخابات میں کوئی بااختیار شخص یا گروہ اپنے اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھا کر رائے عامہ کے بالکل برعکس نتائج حاصل کرلے گا، یہی چیز ہے جس کی بدولت برطانیہ میں ہر تغیر بالکل پرامن اور معقول طریقے سے ہو جاتا ہے اور باشندگان ملک میں جبری انقلاب یا سیاسی قتل و خون کا رجحان پیدا ہی نہیں ہونے پاتا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایسی حالت ہمارے ملک کی بھی ہو جائے اور یہاں ان اسباب کی جڑ کاٹ دی جائے جو سازشوں، خفیہ تحریکوں اور مجرمانہ اقدامات کا محرک بنتے ہیں۔‘‘
پاکستان کے تین بار منتخب سابق وزیراعظم نوازشریف کے بمبئی حملوں پر بیان نے قومی سطح پر تہلکہ اور غلغلہ برپا کردیا ہے۔ بقول شخصے ’’اندھی محبتوں اور نفرتوں میں تقسیم معاشرے‘‘ میں حواس باختہ اور مالیخولیائی شدتوں کے شور و غوغا سے کائناتی سکون، ترتیب اور اطمینان کو ڈسٹرب کیا جارہا ہے۔ نوازشریف نے کیا کہا؟ جو کچھ کہا کیا وہ اپنے مکمل علیہ وما علیہ کے ساتھ اشاعت پذیر ہوا، کیا انہوں نے اپنے وطن کو کسی آزمائش میں ڈالا؟ تاریخ او ر وقت اس کا جواب دے کے رہیں گے!
ان جوابات سے پہلے ان کی صاحبزادی مریم نواز کا بیان ہمارے غور و فکر کا مرکز بننا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے:جو میاں صاحب نے کہا ملک کے بہترین مفاد میں کہا، سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں مریم نوازشریف نے لکھا کہ ’’جو میاں صاحب نے کہا ملک کے بہترین مفاد میں کہا، ملک کو کیا بیماری کھوکھلا کررہی ہے؟ میاں صاحب سے بہتر کوئی نہیں جانتا، وہ علاج بھی بتا رہے ہیں‘‘۔
نوازشریف کے بیانیے کی صداقت کا سوال تاریخ اور وقت کے حوالے کرتے ہوئے ہمیں ان کی ’’حب الوطنی‘‘ کے بارے میں فیصلہ دینے کی عجلت پسندانہ عادت پر تھوڑی دیر کے لئے صبر کا مرہم رکھ دینا چاہئے، آخر اسی ملک میں ایک رات 70کلفٹن کراچی پر بھی ’’نازل‘‘ ہوئی تھی جب ذوالفقار علی بھٹو کو سوتے سے اٹھا کر گرفتار کر لیا گیا، اگلی صبح 70کلفٹن سےپاکستان کے خلاف سازشوں کے انباروں پر مبنی ’’دستاویزات‘‘ برآمدہوئیں، تاہم تاریخ اپنی آنکھوں سے ان ’’دستاویز‘‘ کے دوبارہ منظر عام پر لائے جانے کا وقوعہ کبھی نہ دیکھ سکی، سو نوازشریف کی حب الوطنی کے آخری فیصلے پر تھوڑی سی دھیرج اختیار کرلیں، مت بھولیں، بقول وسعت اللہ خان اس ملک میں ’’غداروں کی فیکٹری‘‘ حسب ضرورت فی الفور معرض وجود میں لائی جاتی رہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی کی قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد کی پریس کانفرنس ایک عبوری وزیراعظم کے عوامی اعتماد اور عوام کی جانب سے تفویض کردہ منتخب اقتدار کی نمائندہ پریس کانفرنس تھی، رہ گئے دانشور، ان کی اکثریت سچ کے وجود پر داغدارانہ کشیدہ کاری کے کاروبار میں مصروف نظر آئی، بہتر یہی ہوگا، ’’نوازشریف کی حب الوطنی‘‘ کی صداقت پر تاریخ اور وقت کے آخری لفظ کا انتظار کرلیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی سمیت (مولانا فضل الرحمٰن کو نکال کر) تمام دوسری سیاسی جماعتیں یاد رکھیں، ’’جب پہلے روز انہوں نے میرے محلے کےایک شخص کو گرفتار کیا ہم میں سے کوئی نہ بولا، آخر ہم سب قید کر لئے گئے‘‘۔ مولانا فضل الرحمٰن اس ’’محلے ‘‘میں شامل نہیں، انہوں نے ’’کورس سانگ‘‘ میں شرکت کرنے کے بجائے یہ بیان دیا ’’نوازشریف کی بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے‘‘۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں