آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
انسانوں کی طرح واقعات کے بھی کتابی لمبوترے اور سُتے ہوئے چہرے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر قیافہ شناس مستقبل کے راز ہائے سر بستہ تک پہنچنے کے جتن کرتے رہتے ہیں۔ اب جس طرح نقاب پوش دہشت گردوں کا چلن بڑھتا جا رہا ہے اُسی طرح ہمارے ہاں تازہ دم واقعات پردوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں اصغر خاں کیس میں عدالت ِ عظمیٰ نے جو فیصلہ سنایا ہے اُس کے بہت سارے گوشے نقاب اوڑھے ہوئے ہیں جن کی جستجو میں تحقیق و تفتیش کے شائقین ایک عرصے تک سرگرداں رہیں گے تاہم سیاسی آبجووٴں نے اُچھلنا اور کناروں سے باہر آنا شروع کر دیا ہے۔ تھوتھا چنا باجے گھنا کا محاورہ کئی بار پڑھا تھا اب اِس کا تماشہ اِن دنوں سرِ بازار دیکھ رہے ہیں۔ جناب وزیر اعظم جو بالعموم سنبھل کر اور ناپ تول کر بات کرتے ہیں وہ بھی عدالتی فیصلہ سنتے ہی آپے سے باہر ہو گئے اور مسلم لیگ نون پر ٹوٹ پڑے کہ اِس کی قیادت قانون شکن اور دغا باز ہے اور اِس نے 1990ء کے انتخابات میں خفیہ ایجنسیوں کی معاونت سے انتخابات چُرا لیے تھے۔ مختلف لوگوں پر دستور کی شق 6کے تحت آئین شکنی کے مقدمات چلانے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔
جنرل (ر) اسلم بیگ اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کے حلف ناموں کے مطابق تیس پینتیس کے لگ بھگ سیاست دانوں اور تین صحافیوں میں سات کروڑ تقسیم کئے گئے تھے۔اِس کہانی کی

اصل حقیقت کیا ہے میں اِس کا اندازہ اپنے ساتھ ہونیوالے سلوک سے لگا رہا ہوں۔ غالباً سب سے پہلے 1994ء میں یہ فہرست وزیر داخلہ نصیر الله بابر نے جاری کی تھی جسکے مطابق حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے مجھے ڈھائی لاکھ روپے مرحمت فرمائے گئے تھے۔ اِس الزام کی تردید میں نے اُسی وقت کر دی تھی۔ دو سال بعد یہ رقم دوگنی ہو گئی اور اب سود در سود پچاس لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ مجھے کبھی کبھی اِن منصوبہ سازوں پر ہنسی آتی ہے جو ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں اور یہ بھی نہیں دیکھ پاتے کہ جس شخص پر الزام لگا رہے ہو اُسکی کتابِ زندگی کس طرح کی ہے اور اُس نے دینی اور جمہوری قدروں کی پرورش میں کیا کردار ادا کیا ہے۔ اِس پہلو سے مجھے سات کروڑ روپے تقسیم کرنے کا افسانہ پُر اسراریت کی گہری دھند میں لپٹا دکھائی دیتا ہے۔
عدالت ِ عظمیٰ نے سولہ سال بعد بلاشبہ ایک تاریخی فیصلہ دیا جس میں تین بنیادی امور کی نشان دہی کی گئی ہے۔ پہلا یہ کہ ایوانِ صدر میں جناب غلام اسحق خاں نے ایک خفیہ انتخابی سیل قائم کر رکھا تھا اور وہ ایک من پسند سیاسی گروپ کی حمایت کر رہے تھے اِس کی دستور اجازت نہیں دیتا۔ دوسرا یہ کہ فوج اور آئی ایس آئی نے سیاسی جماعتوں میں رقوم تقسیم کر کے اپنے حلف سے بے وفائی کی تھی اس لیے جنرل (ر) اسلم بیگ اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی پر آئین سے کھلے انحراف کا مقدمہ چلایا جائے۔ تیسرا یہ کہ جن سیاست دانوں پر آئی ایس آئی سے رقوم حاصل کرنے کا الزام لگا ہے اُن کے بارے میں ایف آئی اے سے تحقیقات کرائی جائیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس فیصلے میں یہ اہم حقیقت بے نقاب ہونے سے رہ گئی ہے کہ صدر غلام اسحق خاں اور جنرل اسلم بیگ جنہوں نے 1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو اقتدار میں لانے کے لیے بہت سرگرمی دکھائی تھی وہ اُنہیں چند ہی ماہ بعد کیوں سیکورٹی رسک سمجھنے لگے تھے۔ میں 1988ء کے انتخابات کے دوران اپنے عزیز دوست ڈاکٹر ادریس کے ہاں امریکہ میں مقیم تھا۔پیپلز پارٹی نے قومی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کر لی تھی مگر پنجاب میں آئی جے آئی کا پلڑا بھاری تھا۔ میں حالات معلوم کرنے کے لیے جنرل اسلم بیگ سے گاہے گاہے فون پر بات کرتا رہتا تھا۔ ایک رات اُنہوں نے بتایا کہ صدر غلام اسحق خاں دستور کے مطابق پہلے سپیکر کے انتخاب پر اصرار کر رہے تھے لیکن اب وہ میری اِس رائے سے متفق ہو گئے ہیں کہ انتقالِ اقتدار میں تاخیر پاکستان کے لیے نئے مسائل پیدا کر سکتی ہے اور فوری طور پر بے نظیر بھٹو کا وزیر اعظم کے طور پر انتخاب ضروری ہے۔ اِس پس منظر میں یہ اہم سوال قدرتی طور پر اُبھرتا ہے کہ ایسے کیا واقعات رونما ہوئے کہ یہی دو اہم شخصیتیں 1990ء میں غیر آئینی اقدامات پر کیوں مجبور ہو گئیں تھیں۔
آئی ایس آئی کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی ایک حلف نامے کے ذریعے عدالت ِ عظمیٰ کی کارروائی میں وہ تمام حقائق شامل کر دینا چاہتے تھے کہ سیاست دانوں میں کن حالات اور کن مقاصد کے لیے رقوم تقسیم کی گئیں تھیں۔ فاضل بینچ نے اُن کا تحریر شدہ بیان پڑھ کر واپس کر دیا اور اُسے عدالتی کارروائی کا حصہ بنانے سے ارادتاً انکار کیا۔ اِسی طرح ایم آئی کے سابق ڈائریکٹر بریگیڈئیر (ر) حامد سعید نے عدالت ِ عظمیٰ کے حکم پر جو حلف نامہ داخل کیا اُس کے وہ آٹھ پیرا گراف صیغہٴ راز میں رکھ لئے گئے ہیں جن میں بے نظیر کے اُن چند اقدامات کی نشان دہی کی گئی تھی جو قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا باعث بنے تھے۔
اس فیصلے کا ایک جیتا جاگتا چہرہ یہ ہے کہ فاضل عدالت نے صدر غلام اسحق خاں کے اِس اقدام کو دستور کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے کہ وہ جانبداری سے کام لے رہے تھے اور سیاست میں ملوث ہو چکے تھے جبکہ اُنہیں وفاق کی علامت کے طور پر پوری طرح غیر جانبدار رہنا چاہئے تھا۔ اُن کے بارے میں عدالت ِ عظمیٰ نے جو فیصلہ دیا ہے اس کا مکمل اطلاق جناب صدر آصف علی زرداری پر ہوتا ہے جنہوں نے علی الاعلان ایوانِ صدر کو پیپلز پارٹی کی سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا ہے اور اب انتخابی جلسوں سے خطاب بھی کرنے لگے ہیں۔ سنجیدہ قومی حلقوں اور سیاسی مبصروں کے ذہنوں میں یہ سوال مدت سے کھول رہا تھا کہ پارلیمانی طرزِ حکومت میں صدرِ مملکت کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کیسے ہو سکتے ہیں اور نظمِ مملکت دستوری تقاضوں کے مطابق کیسے چل سکتا ہے۔1973ء کے دستور کے نفاذ کے وقت جناب بھٹو نے اپنے پہلے صدر چودھری فضل الٰہی کو ایوانِ صدر میں قید کر دیا تھا۔ کسی تقریب میں شرکت اور کوئی بیان دینے پر پابندی تھی اور اُن کے دستخطوں کے ساتھ وزیر اعظم کے دستخطوں کی توثیق ضروری تھی۔ اسی طرح سردار فاروق لغاری جب صدرِ مملکت بنے تو اُنہوں نے پیپلز پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
عام انتخابات کے حوالے سے عدالتی فیصلے کے اندر سے ایک اور چہرہ بھی جھانک رہا ہے۔ آج قومی سطح پر یہ تاثر بہت گہرا ہے کہ شفاف انتخابات ہی پر پاکستان کے مستقبل کا انحصار ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ ایک جانبدار اور سیاست کی رزم گاہ کے شہسوار صدرِ مملکت کی موجودگی میں دیانت دارانہ منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کیونکر منعقد ہو سکیں گے؟ جنہوں نے پارلیمانی نظامِ حکومت میں دراڑیں ڈال دی ہیں اور قومی مصلحت کے نام پر بدترین فسطائیت قائم کر رکھی ہے۔ حیرت کی بات یہ کہ سیاسی قیادت اور آزاد عدلیہ اور میڈیا کے سامنے یہ کھیل ساڑھے چار سال سے جاری ہے اور کسی طاقتور حلقے کی طرف سے کوئی توانا آواز نہیں اُٹھی البتہ چند بالغ نظر وکلا نے لاہور ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر حتمی فیصلہ سنانے میں غیر معمولی تاخیر ہوتی گئی۔ اب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جناب یٰسین آزاد نے جناب صدر زرداری سے سیاسی عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے اور اصغر خاں کیس میں عدالت ِ عظمیٰ کا فیصلہ سیاست کا ایک نیا چہرہ تراشنے میں کلیدی کردار ادا کر سکے گا۔ یہ عہد سیاسی ستم گروں کا ہے مگراُن کی ”ننگی فراست“ کے خوف سے اُنہیں دلبر کہنا پڑتا ہے۔ غالب نے اِسی کیفیت کو زبان عطا کی تھی
گو نہ سمجھوں اُن کی باتیں گو نہ پاوٴں اُس کا بھید
پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں