آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر انتخابات سے پہلے ہی انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھنے لگیں تو یہ کوئی اچھا شگون نہیں۔ اور اگر انتخابی عمل کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوے پلڈاٹ جیسا ادارہ اپنی باقاعدہ رپورٹ میں ’’انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی جانب سے فوج کی غیر جانبداری کے تاثر ـ‘‘ کے متعلق یہ نتیجہ دے کہ وہ ’’بہت زیادہ غیر منصفانہ‘‘ ہے تو یہ انتہائی فکر کی بات ہے۔ ہر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگائے جاتے ہیں اور ان الزامات کا اکثر تعلق الیکشن کمیشن، عدلیہ، نیب، میڈیا، ایجنسیوں وغیرہ تک محدود رہتا ہے۔ لیکن الیکشن جیسے خالص سیاسی عمل میں اگر فوج کی مداخلت کا یہ تاثر ہو گا جو پلڈاٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا تو اس سے سیاسی عمل پر تو سوال کھڑے ہوں گے ہی لیکن فوج بلاوجہ متنازع ہو گی جس سے پاکستان کے ساتھ ساتھ فوج کے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ دو روز قبل پلڈاٹ نے قبل از انتخابات ماحول پر اپنی ایک تفصیلی جائزہ رپورٹ جاری کی جس میں پلڈاٹ نے قبل از انتخابات کے عمل کو غیر منصفانہ قرار دے دیتے ہوے کہا کہ پہلے نمبر پر فوج اور پھر نجی میڈیا کے بارے میں کہا کہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ان کا کردار بہت زیادہ غیر منصفانہ ہے۔پلڈاٹ نے قبل از انتخابات کی منصفانیت کے تاثر کےا سکور کارڈ پر مشتمل اپنی جائزہ رپورٹ کے

لیے گیارہ نکات پر مبنی فریم ورک کی بنیاد پر اپنے نتائج اخذکیے۔ ہر ایک نکتے کی جانبداری یا غیر جانبداری کو جانچنے کے لیے کل ا سکور 100 رکھا گیا جس کی تقسیم کچھ یوں کی گئی۔01-40 اسکور کا مطلب ’’بہت زیادہ غیر منصفانہ‘‘، 41-60 کا مطلب ’’غیر منصفانہ‘‘، 61-80 کا مطلب ’’منصفانہ‘‘ اور 81-100 کا مطلب ’’بہت منصفانہ‘‘ ہو گا۔ پلڈاٹ رپورٹ جو اپریل2017 سے مارچ 2018 کے عرصے کے دوران قبل از انتخاب کے عمل کے منظم اور مسلسل جائزے کو مجموعہ ہے کے مطابق صرف دو محکموں کے بارے میں متعلق نکات سے متعلق یہ تاثر دیا کہ وہ بہت زیادہ غیر منصفانہ ہیں۔ یہ دو محکمے فوج اور نجی میڈیا ہیں۔ انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں اور میدواروں کی جانب فوج کے غیر جانبدارا ہونےکے تاثر کےنکتےکو100 میں سے 33.4% اسکور دیا گیا جبکہ نجی میڈیا کے ریاستی اثر رسوخ اور ذاتی مفادات سے آزادی کے تاثر کو صرف37.8% اسکور دیا گیا۔ عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری کے ساتھ ساتھ نیب کے تحت احتسابی عمل کی غیر جانبداری کے تاثر کو رپورٹ میں غیر منصفانہ کہا گیا۔ سیاسی سرگرمیوں کے لیے یکساں سازگار فضا فراہم کرنے کے لیے امن و امان کی برقراری کے تاثر، مقامی حکومتوں کے انتخابات پر اثر انداز ہوسکنے کے تاثر اور ریاستی ملکیتی میڈیا کی غیر جانبداری کے تاثر کو بھی ’’غیر منصفانہ‘‘ قرار دیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کو پلڈاٹ کی جائزہ رپورٹ نے ’’منصفانہ‘‘ قرار دیا جبکہ صدر اور گورنرزکے انتخابات پر اثر انداز ہو سکنے کے تاثر اور انتخابی حلقہ بندی کے عمل کا قوانین اور قواعد کے مطابق ہونےکے تاثر کو بھی رپورٹ نے ’’منصفانہ‘‘ قرار دیا۔ قبل از انتخابی عمل کی منصفانیت کے تاثر کے اس جائزے کی بنیاد پر پلڈاٹ کا یہ ماننا ہے کہ اگر انتخابی عمل کے غیر منصفانہ ہونے کا موجودہ تاثرجاری رہا تو انتخابی عمل کے باقی مراحل کی منصفانیت کے امکان بھی خطرے سے دو چار ہوں گے۔ پلڈاٹ کی یہ رپورٹ شائع ہو چکی جو سب سے زیادہ فوج اور پھر نجی میڈیا کے بارے میں منفی ہے۔ چلیں میڈیا اگر تناعات کا شکار بنے بھی تو یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں لیکن فوج کے متعلق سیاسی گرمی کے اس ماحول میں اور ایک ایسے وقت میں جب قوم2018 کے قومی انتخابات کی تیاری میں مصروف ہو ں ایسا تاثر کسی بھی طور پر اچھا نہیں۔ ویسے تو عدلیہ، نیب، الیکشن کمیشن، میڈیا، وفاقی و صوبائی حکومتوں سب کی ذمہ داری ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے منصفانہ انتخابات کو یقینی بنایا جائے لیکن جہاں تک فوج کا تعلق ہے اُس کے بارے میں اس تاثر کو ہر حال میں ذائل کیا جانا چاہیے کہ وہ یا اس اہم ریاستی ادارہ کا کوئی اہلکار کسی بھی طرح سے کسی ایک سیاسی جماعت کے حق یا کسی دوسری سیاسی جماعت کے خلاف ہے۔ فوج کسی ایک سیاسی جماعت کی ہے نہ کسی دوسری جماعت کی۔ فوج کا تعلق عوام سے ہے اور فوج سب کی ہے یہ وہ تاثر ہے جسے کسی بھی طور پر خراب نہیں ہونا چاہیے۔
(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں